تہران/نیویارک/لندن/اوٹاوا:ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری پرتشدد مظاہرے بے قابو ہوگئے،امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ جھڑپوں کے دوران اموات کی تعداد 217 ہوگئی ،مظاہرین نے سرکاری عمارتوں اور پولیس اسٹیشنز پر بھی حملے کیے جس کے نتیجے میں کئی اہلکار زخمی ہوگئے، ڈھائی ہزار افرادکو گرفتار کرلیا گیا جبکہ انٹرنیٹ سروس بدستور بند ہے۔
غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں گزشتہ رات سے مزید اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں مختلف شہروں میں مظاہرین اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے کئی شہروں میں توڑ پھوڑ کی۔رپورٹس کے مطابق مظاہرین کی جانب سے 26 بینک، 25مساجد، 2 ہسپتال اور 48 فائر ٹرکوں کو نقصان پہنچایاگیا جبکہ سرکاری عمارتوں اور پولیس اسٹیشنز پر بھی حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں کئی اہلکار زخمی ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق پرتشدد مظاہرے کرنے والوں نے ایمبولینسوں پر بھی حملے کیے، بسوں اور شہریوں کی گاڑیوں کو بھی آگ لگائی گئی۔سیکورٹی اہلکاروں کی جانب سے تقریباً ڈھائی ہزار افراد کو گرفتار کیاجاچکا ہے جبکہ انٹرنیٹ سروس بدستور بند ہے۔
تہران کے ایک ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی جریدے ٹائم کو بتایاکہ دارالحکومت کے صرف 6 ہسپتالوں میں 217 مظاہرین کے ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی اور ان میں سے زیادہ تر لوگ گولیاں لگنے سے ہلاک ہوئے تاہم ایرانی حکام نے تاحال ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی۔
امریکی جریدے کے مطابق واشنگٹن ڈی سی کی ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ اب تک کم از کم 63 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 49 عام شہری شامل ہیں۔ادھر ایران نے اقوام متحدہ سے ریاستی خودمختاری کے تحفظ اور مداخلت روکنے کا مطالبہ کردیا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہاکہ داخلی معاملات پر امریکی بیانات مداخلت اور دھوکا دہی ہیںجبکہ ا یران نے عدم استحکام پھیلانے کے امریکی اقدامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو باضابطہ خط ارسال کر دیا۔
خط میں ایران نے موقف اختیار کیاکہ امریکا کے حالیہ اقدامات عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہیں اور یہ پالیسیاں عالمی امن و سلامتی کے لئے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ایرانی مندوب کی جانب سے سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ امریکا طاقت کے بے جا استعمال، یکطرفہ پابندیوں اور سیاسی دبائو کے ذریعے بین الاقوامی قوانین کو پامال کر رہا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف ریاستوں کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں بلکہ دنیا بھر میں کشیدگی اور عدم اعتماد کو بھی فروغ دے رہے ہیں۔دوسری جانب فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے ایران میں مظاہرین کی ہلاکتوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
ایران میں جاری کشیدہ صورت حال پر فرانسیسی صدر، برطانوی وزیراعظم اور جرمن چانسلر نے جاری مشترکہ بیان میں کہا کہ ایرانی سیکورٹی فورسز کے تشدد پر تشویش ہے، بیان میں ایرانی سیکورٹی فورسز پر زور دیاگیاکہ وہ تشدد سے باز رہیں۔
ادھر کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے ایرانی ریاست کی جانب سے مظاہرین کو ہلاک کرنے، تشدد کے استعمال، گرفتاریوں اور اپنی ہی عوام کو ڈرانے کے لیے مختلف حربوں کے استعمال کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے ان کا ملک ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں مارک کارنی کا کہنا تھا کہ ہم ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی میں کھڑے ہیں جن کی پکار سننے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ آزادی اور وقار کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی تازہ صورت حال میں پاکستانی سفارتخانے نے شہریوں کی سہولت کے لیے کرائسس مینجمنٹ یونٹ قائم کردیا۔تہران میں سفیر پاکستان مدثر ٹیپو کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہریوں کی معاونت کے لیے 24 گھنٹے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
وزارت خارجہ نے پاکستانی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی حفاظت اور سلامتی کے لئے حالات بہتر ہونے تک ایران کے غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
دفتر خارجہ کی جانب سے سے جاری ٹریول ایڈوائزری کے مطابق ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ انتہائی احتیاط برتیں، چوکس رہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ غیر ضروری نقل و حرکت کم سے کم رکھیں اور پاکستانی سفارتی مشنز سے باقاعدہ رابطے میں رہیں۔

