تجارت کو سود سے پاک کریں

ہم نے 2013میں اپنے جریدے کے لیے ایک سروے کیا، کراچی کی دو بڑی مارکیٹس صرافہ مارکیٹ اور جوڑیا بازار۔ تجارت کرنے والوں کے پاس گئے، ان سے پوچھا کہ وہ دین پر کتنا عمل کرتے ہیں؟ وہ اپنی تجارت سے متعلق شرعی احکام سیکھتے ہیں یا کسی مفتی صاحب سے رابطے میں رہتے ہیں؟ آپ حیران ہوں گے کہ ان میں سے 96فیصد لوگوں کا جواب تھا کہ ہم نماز، روزہ، حج، عمرہ، زکوٰة دیتے ہیں، لیکن اپنے شعبے سے متعلق دینی احکام سیکھنے کی طرف کبھی توجہ نہیں گئی۔ کئی لوگوں کو اچنبھا بھی ہوا کہ ایسے کون سے شرعی احکام ہیں جو ہمیں اپنے شعبے سے متعلق سیکھنے چاہئیں۔ ہم نے ان کو بتایا کہ امپورٹ ایکسپورٹ کے جائز طریقے اپنانا، سونے کی خرید و فروخت میں ناجائز شرائط اور ناجائز سودوں سے بچنا وغیرہ وغیرہ۔

ہمیں دوسرا تجربہ 2019ء کے لگ بھگ ہوا۔ تاجر برادری کی ایک بہت بڑی ایسوسی ایشن کے ہیڈ آفس جانا ہوا۔ ایسوسی ایشن کے صدر صاحب سے تعارف اور گپ شپ ہوئی تو پتہ چلا کہ پاکستان کے بہت بڑے امپورٹر ہیں۔ اتنے بڑے کہ بیک وقت کئی شپ منگواتے ہیں۔ باتوں باتوں میں امپورٹ کے سود سے پاک طریقوں اور اسلامی بینکنگ کی خدمات کی طرف گفتگو کا رخ موڑا تو ان کا کہنا تھا: یہ سب باتیں میرے لیے نئی ہیں۔ کیا اسلامی بینکاری کے پاس میرے بزنس کے جائز اور حلال متبادل موجود ہیں؟ ان کی خدمت میں عرض کیا کہ بالکل ہیں۔ آج پاکستان میں مکمل اسلامی بینک موجود ہیں، بے شمار بینک سود سے پاک طریقوں سے امپورٹ ایکسپورٹ میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ میزان بینک، بینک اسلامی، بینک دبئی الاسلامی، البرکہ بینک اور فیصل بینک وغیرہ۔ لیکن ان کی حیرت اور استعجاب آج تک آنکھوں میں بسا ہوا ہے۔

اس وقت الحمدللہ غیر سودی بینکاری کا ہر سو دور دورہ ہے، علمائے کرام اور مفتیان کرام کی بڑی تعداد اس فیلڈ سے وابستہ بھی ہے لیکن اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ کمپنیوں کے طریقہ کار سے واقف اور کمپنیوں کے تمام معاملات کی شرعی پہلووں پر عبور رکھنے والے علمائے کرام تیار کیے جائیں۔ ہر تاجر کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا رزق حلال ہو، اس کا کاروبار سود اور حرام کی آمیزش سے پاک ہو اور وہ جتنے بھی معاملات سرانجام دے وہ شرعی طور پر درست ہوں۔ اس ہدف تک پہنچنے کے لیے اسے ضرورت ہوتی ہے ایسے مفتیان کرام کی جو کمپنی کے معاہدات، پروسیجرز اور سسٹمز کا تفصیلی جائزہ لیں اور غیرشرعی امور کی نشان دہی کریں۔ کمپنیوں کے ایچ آر، سیلز، مارکیٹنگ، پرچیزنگ، ایکسپورٹ، امپورٹ وغیرہ میں بے شمار جگہوں پر حرام کے در آنے اور ناجائز سے تلوث کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔

اسی کام کو مشن بناکر برادرم مفتی عبدالماجد اشرف صاحب آگے بڑھ رہے ہیں اور ان کا ادارہ المصباح ہر سال مفتیان کرام کے لیے کمپنیوں کی شرعی نگرانی سے متعلق کورس کا انعقاد کرتا ہے۔ اس کورس میں کراچی بھر کے مدارس سے وابستہ مفتیان کرام کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے اور شرعی نگرانی کے طریقہ کار کی عملی تربیت حاصل کرتی ہے۔ ہمیں بھی ہر سال اس کورس میں حاضری کا شرف حاصل ہوتا ہے اور شرکائے کورس سے ہم کلام ہونے کا موقع ملتا ہے۔ ہم نے اس سال شرکاء کو اس پر قائل کیا کہ وہ ان مسائل کو سیکھیں، تاجر برادری تک رسائی حاصل کریں، کمپنیوں کو ٹارگٹ کریں اور ان کی شرعی رہنمائی سے متعلق مسائل پر عبور حاصل کریں۔

المصباح کی طرف سے کمپنیوں کی شرعی رہنمائی کا سلسلہ بھی جاری ہے، کمپنیوں کی دینی رہنمائی، ملازمین کی تربیت، شرعی تربیت، حلال میٹ کے حوالے سے ٹریننگز سمیت متنوع ٹریننگز بھی کروائی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ المصباح کے شعبہ تحقیق و تصنیف کی طرف سے شرعی رہنمائی پر مشتمل لٹریچر بھی شائع کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں مسلمان ملازم کے نام سے کتاب شائع ہوئی ہے اور تقریباً چھ سو صفحات پر مشتمل اس کتاب میں ملازمت کے شرعی احکام، کمپنیوں میں رائج طریقہ کار سے متعلق رہنمائی، ملازمت کے آداب، قرآن و سنت کی ہدایات، فقہی تفصیلات سمیت ہر وہ پہلو ذکر کیا گیا ہے، جس کی کسی بھی کمپنی کو ضرورت پڑتی ہے۔ حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم نے اس کتاب کو ملاحظہ فرماکر اسے سراہا بھی ہے جبکہ مفتی محمد زبیر اشرف عثمانی صاحب کی سرپرستی میں یہ تمام تحقیقی کام پایہ تکمیل تک پہنچا ہے۔

المصباح جیسے ادارے ہر ہر شہر میں قائم ہوں گے اور ایسے رجال کار تیار کریں گے جو تجارت کو غیرشرعی امور سے پاک کریں گے تو ہی ملک میں اسلامائزیشن کی راہ ہموار ہوگی۔ ہماری تاجر برادری کو بھی چاہیے کہ ایسے اداروں سے رابطے میں رہیں، اپنے شرعی مسائل میں رہنمائی حاصل کرتے رہیں، اپنے سسٹمز اور پروسیجرز کی شرعی اسکریننگ کروائیں۔ المصباح اور اس کی انتظامیہ لائق تحسین ہے کہ انہوںنے اس نیک کام کی بنیاد رکھ دی۔ اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو قبول فرمائے، آمین ثم آمین۔