افغان طالبان کی سعودی عرب کی ثالثی میں مذاکرات کی تصدیق

افغان طالبان نے سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کی ہے تاہم اس میں پیش رفت کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے بعض ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حکومت کا ایک وفد پاکستان سے مذاکرات کیلئے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض گیا تھا۔دونوں فریقین کو سعودی عرب نے مذاکرات کیلئے ثالثی کی پیشکش کی تھی۔

ذرائع کے مطابق، دونوں ملکوں کے وفود کے درمیان اتوار کو مذاکرات ہوئے تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔تاحال یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا ان مذاکرات میں کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔ طالبان حکومت کے ایک ذریعے نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ وفد ریاض گیا تھا جو پیر کو کابل واپس آ رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق، افغان طالبان کے وفد میں نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ نجیب، طالبان حکومت کے سیاسی کمیشن کے رکن انس حقانی اور وزارت خارجہ کے عہدیدار عبدالقہار بلخی شامل تھے۔

پاکستانی حکومت کی جانب سے اب تک سعودی عرب میں ہونے والے مذاکرات کے متعلق سرکاری سطح پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ سعودی عرب کی ثالثی کی نئی کوششیں کابل اور اسلام آباد کے درمیان کس حد تک کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔