غزہ/تل ابیب/نیویارک: غزہ شہر میں شدید طوفانی بارش سے خیموں میں پانی بھر گیا، لوگ بے یارومددگار ہیں۔خبر ایجنسی کے مطابق خان یونس میں بارش کے بعد بازاروں میں شدید پانی جمع ہو گیا، خیمہ بستیوں میں بارش سے صورتحال مزید خراب ہو گئی۔
خواتین اپنے خیموں سے پانی نکالنے میں مصروف ہیں، سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں، متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ بارش نے مشکلات کئی گنا بڑھا دی ہیں، بارش نے سب کچھ تباہ کردیا، کوئی مدد نہیں پہنچی۔خبر ایجنسی کے مطابق سیلابی پانی کی وجہ سے بچوں اور بزرگوں کو محفوظ جگہ منتقل کیا جا رہا ہے۔
خان یونس مارکیٹ میں پانی کھڑا ہونے سے کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہیں۔غزہ کی خیمہ بستیوں میں موسم کی خرابی سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے، مسلسل بارش سے عارضی پناہ گاہیں ناکارہ ہو گئیں۔خبر ایجنسی کے مطابق لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں، امدادی ٹیمیں محدود وسائل کے ساتھ پانی نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ادھراسرائیل نے تمام عالمی مطالبات پس پشت ڈال کر غزہ پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اسرائیلی فوج نے پھر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 4 فلسطینی شہید کردیے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل 10 اکتوبر کو ہونے والے غزہ امن معاہدے کے بعد سے 500 سے زیادہ بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کر چکا ہے جس میں 300 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوئے۔
اقوام متحدہ کی امدادی تنظیم انروا نے غزہ میں جنگ بندی کے باوجود انسانی صورت حال کو بدستور تباہ کن قرار دیدیا۔تنظیم کی جانب سے کہا گیا کہ غزہ میں 90 فیصد سے زائد آبادی کا انحصار امداد پر ہے، بیشتر لوگوں کو 24 گھنٹوں میں صرف ایک بار کھانا ملتا ہے۔
دوسری جانب فلسطین کے سول ڈیفنس نے بتایا ہے کہ اس کی بہادر ٹیموں نے وسطی غزہ میں ہنگامی کمیٹیوں اور شعبہ اجساد الشہداء کے ساتھ مل کر ایک رہائشی گھر کے ملبے تلے سے14شہداء کی باقیات نکال لی ہیں۔ یہ گھر قابض اسرائیل نے اپنی بے رحم جنگِی نسل کشی کے دوران اس وقت بمباری کا نشانہ بنایا تھا جب اس کے باسی اندر موجود تھے۔
یہ المناک واقعہ مغازی کی ‘برکہ الوز’ نامی علاقے میں پیش آیا۔سول ڈیفنس نے اپنے بیان میں کہا کہ شہید خاندان ابو حامدہ کا تین منزلہ گھر وحشیانہ بمباری کے بعد مٹی کا ڈھیر بن گیا۔ پوری عمارت زمین بوس کر دی گئی اور اس کے معصوم رہائشی اپنی ہی چھت کے نیچے دفن ہو گئے۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ شہداء کی شناخت ان کے لواحقین نے کر لی ہے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔دریں اثناء تجارتی اور ترقیاتی ایجنسی برائے اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو سالہ غزہ جنگ نے فلسطینی معیشت کو مکمل طور پر تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔
یو این ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی معیشت 2 سال میں اب تک کے بدترین زوال کا شکار ہو گئی ہے، دو سال کے دوران ہونے والے اسرائیلی حملوں میں مقبوضہ فلسطینی علاقے میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، صنعتوں، عوامی خدمات کے شعبوں کو شدید نقصان پہنچا۔
اقوام متحدہ کی تجارتی اور ترقیاتی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی معیشت کی فی کس پیداوار2003ء کی سطح پر واپس آ گئی ہے، یہ معاشی بحران 1960ء کے بعد دنیا کے 10 بدترین معاشی زوال میں سے ایک ہے۔
رپورٹ میں کہا گیاکہ غزہ کی بحالی میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، بحالی کے لیے غزہ وسیع تر بین الاقوامی مدد پر انحصار کریگا، مغربی کنارے کی معیشت بھی ریکارڈ حد تک سکڑ گئی ہے، مغربی کنارے کی گرتی معیشت کی بڑی وجہ اسرائیلی پابندیاں، آمدورفت پر سخت کنٹرول ہے۔
اسرائیل نے یہودی آبادکاروں میں اضافے کے لیے نیا اقدام کرتے ہوئے بھارت میں آباد بنی میناشے قبیلے کو اسرائیل منتقل کرنے کا منصوبہ منظور کرلیا۔عرب میڈیا کے مطابق ابتدائی طور پر بنی میناشے قبیلے کے 1200 افراد کو 2026ء میں اسرائیل منتقل کیا جائیگا جب کہ قبیلے کے مزید6ہزار افراد کو 2030ء تک اسرائیل میں آباد کیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق بھارت کے شمال مشرقی علاقے سے تعلق رکھنے والے بنی میناشے قبیلے کے5ہزار یہودی پہلے سے اسرائیل میں آباد ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بنی میناشے قبیلہ بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میزورام اور منی پور کا ایک نسلی گروہ ہے جسے لبنان اور شام کی سرحد کے قریب اسرائیل کے شمالی علاقے گلی لے میں بتدریج بسایا جائیگا۔
یہ علاقہ حزب اللہ کے ساتھ تنازعات کی وجہ سے شدید متاثر ہوا ہے اور پچھلے چند برسوں میں یہاں سے ہزاروں افراد علاقہ چھوڑ کر جاچکے ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس فیصلے کو اہم اور صیہونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل کے شمال کو مستحکم کریگا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ منصوبہ بھارتی حکومت کے ساتھ مشترکہ طور پر ترتیب دیا گیا ہے۔بنی میناشے اپنے آپ کو بنی اسرائیل کے ‘گمشدہ قبیلوں’ میں سے ایک قبیلے مناشے کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ یہ لوگ روایتی یہودی رسومات پر عمل کرتے ہیں، سکوت (عید خیام) جیسے تہوار مناتے ہیں۔
علاوہ ازیںقاہرہ میں ہونے والے غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق مذاکرات میں حماس کے اسلحہ پھینکنے کے معاملے پر قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔
اس بات کا دعویٰ روس کے ایک نیوز چینل نے اپنی خصوصی رپورٹ میں ایک باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کیا۔قاہرہ میں جاری تازہ مذاکرات میں حماس کی قیادت محمد درویش کر رہے ہیں جبکہ وفد میں خلیل الحیہ،نزار عوداللہ اور ظاہر جبارین بھی شامل ہیں۔
ان مذاکرات میں حماس کے علاوہ دیگر فلسطینی تنظیموں اسلامی جہاد، پاپولر فرنٹ، ڈیموکریٹک فرنٹ، پاپولر ریزسٹنس کمیٹیز اور فلسطینی نیشنل انیشی ایٹو کے ساتھ بھی اہم مشاورتی اجلاس جاری ہیں۔ان مذاکرات کا بنیادی مقصد غزہ میں عبوری انتظامی ڈھانچے پر اتفاق کرنا اور ایک آزاد ٹیکنوکریٹ کمیٹی کی تشکیل ہے۔
یہ ٹیکنوکریٹ کمیٹی مستقبل میں فلسطینی قومی مفاہمت کے عمل کی بنیاد بنے گی اور حماس کی جگہ غزہ میں امورِ مملکت چلائے گی۔یاد رہے کہ یہ بات چیت شرم الشیخ میں صدر ٹرمپ کی تجویز پر طے پانے والی ٹرمپ معاہدے کے دوسرے مرحلے کی تیاری کا حصہ ہے جس کا مقصد طویل مدتی جنگ بندی کو ممکن بنانا ہے۔
اس جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ کی حکومت حماس کی جگہ ایک تکنیکی کمیٹی سنبھالے گی جس کی تشکیل تقریباً حتمی مراحل میں ہے۔علاوہ ازیں اسی معاہدے کے تحت حماس کو اپنا اسلحہ غزہ کے لیے اقوام متحدہ کی سربراہی میں تشکیل پانے والی دنیا کے مختلف ممالک کی فوج کے حوالے کرنا ہو گا۔
اس معاملے پر حماس بارہا اپنے تحفظات سے ثالثوں کو آگاہ کرچکی ہے کہ ایسا تب ہی ممکن ہے جب غزہ کی نئی حکومت اور فوج میں فلسطینیوں کی بھرپور نمائندگی ہو تاہم اب کہا جا رہا ہے کہ اس معاملے پر ہونے والے مذاکرات میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے جس کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایک اعلیٰ سطحی امریکی وفد نے بھی مصری حکام سے ملاقات میں شرم الشیخ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے نفاذ، طویل المدتی جنگ بندی کے طریقہ کار اور ممکنہ بین الاقوامی فورس میں مصری کردار پر گفتگو کی ہے۔
ادھرقابض اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز اور آرمی چیف ایال زامیر کے درمیان سات اکتوبر کے فلسطینی معرکے”طوفان الاقصیٰ” کو روکنے میں ناکامی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔
قابض اسرائیل کے عسکری ادارے کے اندر اختلافات کی شدت اس وقت بڑھ گئی جب گذشتہ پیر کو آرمی چیف ایال زامیر نے وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کے ان فیصلوں پر سخت اعتراض اٹھایا جن کے تحت اعلیٰ فوجی تقرریوں کو 30 دن کے لیے منجمد کر دیا گیا اور ساتھ ہی ”ترجمان رپورٹ” کی ازسرنو جانچ کا حکم دیا گیا۔
زامیر نے اسے اپنی اختیارات میں مداخلت اور فوج کی تیاری پر براہ راست ضرب قرار دیا۔یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب زامیر نے صرف ایک دن قبل بڑے فوجی افسران کو ان کے منصب سے ہٹا کر بعض کو ریزرو سے باہر کرنے کا اعلان کیا تھا جس نے دونوں کے درمیان کھلی محاذ آرائی کو جنم دیا۔
معاملہ اس وقت اور بگڑ گیا جب زامیر نے کاٹز کی اس نیت کی مزاحمت کی کہ وہ اپنے عسکری سیکریٹری کو امریکا میں ملحق کے طور پر تعینات کریں۔
ا سرائیل میں غزہ جنگ کی وجہ سے عام شہریوں اور فوجیوں میں دماغی پریشانیوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ایک اسرائیلی اخبار ”یدوتھ اہرونوتھ” میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2 سال جاری رہنے والی غزہ جنگ کی وجہ سے اسرائیلی فوج سمیت عام شہریوں میں نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہوگیا ہے۔
اسرائیلی اخبار یہ بھی دعویٰ کررہا ہے کہ طویل عرصے سے جاری جنگ کے باعث عوام کی دماغی مسائل میں جو اضافہ ہوا ہے ان سے چھٹکارہ موجودہ وسائل میں ممکن نہیں ہے۔اسرائیلی ماہر نفسیات پروفیسر روتھ نے کہا کہ 2018ء میں 10 میں سے 1 شہری ذہنی مسائل کا شکار تھا جس میں اب شدید اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
غزہ جنگ میں الجنھے کی وجہ سے اسرائیلی فوج میں خودکشیوں کا رجحان بھی دیکھا گیا۔ اکتوبر 2023ء سے اکتوبر 2025ء کے دوران اس جنگ کے دوران 36 اسرائیلی فوجیوں نے مختلف اوقات میں خود کشی کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔
ادھرقابض اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح مقبوضہ غرب اردن کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر چھاپے مارے جن میں گھروں کی توڑ پھوڑ، شہریوں پر تشدد اور متعدد افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔
نابلس میں قابض فوج نے اعلان کیا کہ اس نے عبدالرؤوف اشتیہ نامی اْس فلسطینی کو ہدف بنا کر شہید کر دیا ہے جس پر 2024ء میں عورتا چیک پوسٹ پر گاڑی چڑھانے کی کارروائی کا الزام عائد کیا گیا تھا جس میں دو اسرائیلی اہلکار مارے گئے تھے۔
فجر کے وقت قابض فوج نے نابلس کے مشرقی علاقے پر دھاوا بولا اور متعدد عمارتوں پر چڑھائی کی۔ اہلِ علاقہ کو گھروں سے زبردستی باہر نکالا گیا اور پوری سڑک کو فوجی چھاؤنی میں بدل دیا گیا۔یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب قابض فوج کی حفاظت میں بڑی تعداد میں آبادکاروں کی بسیں نابلس کے مشرقی علاقے میں داخل ہوئیں ۔
اسی دوران عسکر جدید کیمپ پر بھی حملہ کیا گیا۔قلقیلیہ میں قابض فوج نے عزون بلڈہ پر دھاوا بول کر عمر قاسم ہسپتال، گھروں اور دکانوں کی تلاشی لی۔ اس دوران شہریوں کے ساتھ سخت بدسلوکی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
اسی طرح قلقیلیہ شہر کے صوفین علاقے پر بھی چڑھائی کی گئی۔الخلیل کے شمال میں بیت امر بلڈہ میں بھی نئے چھاپے اور گرفتاریاں کی گئیں۔ جنوب میں الزویدین گاؤں اور رام اللہ کے مصایف محلے میں بھی تلاشی کی کارروائیاں کی گئیں۔
جنین میں مقامی ذرائع نے بتایا کہ مَرکہ گاؤں کے چھاپے کے دوران احمد سلیمان موسیٰ نامی نوجوان کو گرفتار کر لیا گیا۔قابض فوج نے جنین میں عرب امریکن یونیورسٹی کے اطراف بھی محاصرہ کر کے ایک رہائشی عمارت پر دھاوا بول کر مراد طوالبہ کو گرفتار کیا۔
اسی طرح عبود السعدی کو جبل ابو ضہیر جنین سے حراست میں لیا گیا۔اریحا کے عقبة جبر کیمپ میں بھی قابض فوج کی موجودگی بدستور جاری رہی جہاں مختلف گلیوں میں گھس کر تلاشی کا عمل ہوا۔البیرہ شہر کے ارسال محلے میں فجر کے وقت گھر پر یلغار کر کے ایک فلسطینی نوجوان کو گرفتار کیا گیا۔
طولکرم کی عزبہ شوفہ میں بھی ایک نوجوان تقی موسیٰ عبدالرحیم موسیٰ کو گھر سے گرفتار کیا گیا۔دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے سیکورٹی خدشات پر اپنا بھارت کا دورہ منسوخ کردیا۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد نیتن یاہو نے ایک بار پھر اپنا دورہ بھارت ملتوی کردیاہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے اس سال کے آخر میں بھارت کا دورہ کرنا تھا جس کے دوران ان کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمیت دیگر قیادت سے ملاقات ہونا تھی۔ اس سے قبل نیتن یاہو نے ستمبر میں ہونے والا ایک روزہ دورہ بھارت بھی منسوخ کردیا تھا جب کہ اسرائیلی وزیراعظم آخری بار 2018ء میں بھارت کے دورے پر آئے تھے۔
اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے رواں ماہ میں دوسر مرتبہ نقب کے فلسطینی گائوں اللقیہ البدوہ کا دورہ کیا۔ اس اقدام نے مقامی باشندوں میں غم وغصے کی لہر دوڑا دی۔ خاص طور پر اس وقت جب پولیس نے گائوں کے داخلی راستے کو سیمنٹ کی رکاوٹوں سے بند کر دیا تھا۔
بن گویر کااور پولیس رکاوٹیں ایک ایسے وقت میں قائم کی گئیں جب نقب کے بدووں میں بڑھتے ہوئے جرائم اور ہتھیاروں کی تجارت کو روکنے کی مہم جاری تھی۔ اس کارروائی کا نام نظام نو رکھا گیا ہے۔عربی بلدیاتی سربراہان اور مقامی کونسلز کے اہلکار بار بار حکومت سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ اپنے گائوں میں جرائم کے خلاف مزید اقدامات کرے۔
کئی لوگوں کا خیال ہے کہ بن گویر کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔بن گویر کے دورے نے اضافی غصہ بھی پیدا کیا وہ جنوبی علاقے کے پولیس کمانڈر حاییم بوبلیل کے ہمراہ اللقیہ پہنچے۔
ایک ویڈیو میں وہ رکن کنیسٹ عرب پارٹی راعم کے رکن، ولید الہوشلہ کے ساتھ تلخ کلامی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو میں بن گویر کہتے ہیں کہ میں گائوں کا مالک ہوں جبکہ الہوشلہ نے انہیں نسل پرست قراردیا۔
بن گویر نے کہا کہ ہم ہر برے شخص کا مقابلہ کریں گے، میں ان سے نہیں ڈرتا، میں یہاں کا مالک ہوں۔ انہوں نے الہوشلہ کی طرف عربی میں برا کا لفظ بھی بولا، جو انہوں نے کئی بار عرب قانون سازوں کی تنقید کے جواب میں استعمال کیا ہے۔الہوشلہ نے جواب دیا کہ تم نسلی تعصب رکھتے ہو، تم نے عرب معاشرے میں قتل کے جرائم کے خلاف کچھ نہیں کیا۔
وہ وزیر کے دورے کے دوران ان کا پیچھا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم یہاں صرف اشتعال پیدا کرنے آئے ہو۔
دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کی اردو ترجمان مارگریٹ میکلائوڈ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس جنگ بندی میں صرف امریکا نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک نے بھی کردار ادا کیا ہے، ستمبر میں سربراہی اجلاس میں صدر ٹرمپ سمیت پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف بھی شریک ہوئے تھے۔
بات چیت کرتے ہوئے مارگریٹ میکلا ئوڈ نے کہا کہ سربراہی اجلاس میں صدر ٹرمپ کی قیادت میں بورڈ آف پیس قائم ہوا، یہ بورڈ امن کی بنیاد بنے گا، بورڈ میں فلسطینیوں کے علاوہ ماہرین کی کمیٹی ہوگی، جو امداد پہنچانے کے علاوہ دہشت گردی کا انفرااسٹرکچر ختم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ حماس، فلسطینوں کی نمائندگی نہیں کرتی انہوں نے لوگوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا، سربراہی اجلاس کی قرارداد غزہ میں امن کا ڈھانچہ مہیا کرے گی، امید ہے کہ پاکستان سمیت دیگر خاص قابلیت اور وسائل والے ممالک امن کے قیام کیلئے کام کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کی تعمیر نو کیلئے عالمی بینک کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں، غزہ میں فوری ضروریات کی فراہمی اور دیرپا تعمیر نو کیلئے منصوبے زیر غور ہیں۔

