بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کر کے مفرور سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی طرف سے بھارتی میڈیا کو دیے جانے والے اشتعال انگیز انٹرویو پر سخت احتجاج کیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈھاکہ کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی سہولت کاری سے ہونے والا مذکورہ انٹرویو بنگلہ دیش کی خود مختاری اور ملک میںجاری جمہوری عمل پر حملہ ہے۔
بنگلہ دیش میں انسانیت کے خلاف جرائم پر سزائے موت پانے والی شیخ حسینہ اس وقت بھارت میں مفرور ہے ۔ مودی حکومت نے پناہ دے رکھی ہے۔ بنگلہ دیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ بھارت نے نہ صرف ایک مجر م کو پناہ دے رکھی ہے بلکہ اسے اشتعال انگیز بیانات کے لیے پلیٹ فارم بھی مہیا کر رہا ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ بھارت بنگلہ دیش مخالف بیانیے کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے اور بنگلہ دیش میں سیاسی بدامنی کو ہوا دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
سفارتی ذرائع نے تصدیق کی کہ ڈھاکہ نے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ شیخ حسینہ کو میڈیا سے گفتگو سے فوری طور پر روکے۔ بنگلہ دیشی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی طرف سے اشتعال انگیز تبصروں کی سہولت براہ راست سیاسی مداخلت ہے، جس سے دونوں پڑوسیوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو خطرہ ہے۔
بنگلہ دیشی حکام کا مزید کہنا ہے کہ شیخ حسینہ کو میڈیا پلیٹ فارم مہیا کرنا پڑوسی ملکوں کی سیاست میں واضح مداخلت کا مظہر ہے۔ تجزیہ کاروں کا بھی کہنا ہے کہ خطے میں اپنے مذموم منصوبوں کو آگے بڑھانے کیلئے میڈیا اور مفرور رہنمائوں کا استعمال کرنا بھارت کا وطیرہ بن چکا ہے۔

