متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ‘ومضات من فکر، قصتی اور رؤیتی’ جیسی تصانیف نے پہلے ہی عرب دنیا اور بین الاقوامی سطح پر بھرپور توجہ حاصل کی ہے۔ اب ان کی ایک اور اہم تصنیف ‘علمتنی الحیاة’ منظرِ عام پر آئی ہے۔
کتاب ابھی ہاتھ آئی ہے اور نہ ہی پڑھی ہے تاہم مختلف تحریروں میں اس کے اقتباسات دیکھے ہیں ۔ ان جھلکیوں سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ محض ایک مصنف کی تصنیف نہیں بلکہ ایک رہنما کی بصیرت ہے۔یہ کتاب محض ایک خود نوشت یا سوانحی بیان نہیں بلکہ زندگی کے ان تجربات اور سبقوں کا نچوڑ ہے جو ہر انسان کو درپیش ہوتے ہیں۔ اس کے اوراق میں عقیدہ، اخلاق، صدق، انصاف، دعا، قناعت اور وطن سے محبت جیسے پہلو ستاروں کی طرح چمکتے ہیں۔
شیخ محمد اپنے قاری کو یاد دلاتے ہیں کہ زندگی کا اصل سرمایہ سکونِ قلب، اللہ پر بھروسہ اور انسانیت کی خدمت ہے۔ ابتدائی صفحات میں ایمان کو ایک مضبوط قلعہ قرار دیا گیا ہے جو ہر آزمائش میں انسان کو سہارا دیتا ہے۔ وہ قرآن کریم کی آیات کے ذریعے سمجھاتے ہیں کہ اللہ کی یاد دلوں کو سکون بخشتی ہے اور دعا مشکلات میں راحت کا ذریعہ ہے۔ ایک رہنما جب اپنی زندگی کے تناظر میں یہ کہتا ہے کہ دعا کبھی رائیگاں نہیں جاتی تو اس کی بات دل میں اترتی محسوس ہوتی ہے۔ شیخ محمد کے مطابق سچائی انسان کو نیکی کی راہ پر لے جاتی ہے اور انصاف معاشروں کی بقا کی ضمانت ہے۔ ظلم اندھیروں کی طرف لے جاتا ہے جبکہ عدل روشنی عطا کرتا ہے۔ وہ قناعت کو اصل دولت قرار دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ جو کچھ ہمارے نصیب میں ہے وہ کوئی چھین نہیں سکتا اور جو نصیب میں نہیں وہ چاہنے سے بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہ فکر دل کو بے جا حسرتوں سے آزاد کر دیتی ہے۔اسی طرح وہ اچھی بات کو صدقہ قرار دیتے ہیں۔ نرم کلامی دشمن کو دوست میں بدل دیتی ہے اور ایک خوش کلام انسان معاشرے میں محبت کے چراغ روشن کرتا ہے۔ یہ پیغام آج کی دنیا میں اور بھی قیمتی ہے جہاں سخت لہجہ معاشرتی فاصلے بڑھا رہا ہے۔
کتاب کا ایک اور نمایاں پہلو وطن سے محبت اور قیادت کی بصیرت ہے۔ شیخ محمد لکھتے ہیں کہ وطن ایک بڑی ٹیم ہے اور ہر شہری اس ٹیم کا اہم رکن ہے۔ ان کے نزدیک وطن سب سے پہلے ہے اور سب سے آخر میں بھی وطن ہی ہے۔ یہی جذبہ ہے جس نے امارات کو چند دہائیوں میں دنیا کی ترقی یافتہ ریاستوں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ یہ محض ایک سیاسی بات نہیں بلکہ ایک قائد کی نصیحت ہے جو اپنی قوم کو ہمیشہ آگے دیکھنا چاہتا ہے۔
کتاب کی زبان میں سادگی اور گہرائی دونوں ہیں۔ اس میں نہ صرف دینی و اخلاقی نصیحتیں ہیں بلکہ جدید دنیا کی عملی ضرورتوں کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے لگتا ہے کہ یہ محض ایک تحریر نہیں بلکہ ایک ایسے قائد کے دل کی آواز ہے جس نے ترقی کی جدوجہد اپنی آنکھوں سے دیکھی اور اپنی قوم کو کامیابی کے سفر پر گامزن کیا۔آج کی دنیا جہاں انتشار اور مفاد پرستی کا غلبہ ہے، یہ کتاب یاد دلاتی ہے کہ زندگی کے بنیادی اصول اب بھی وہی ہیں: ایمان، صدق، عدل، خدمت اور وطن سے محبت۔ یہی وہ اقدار ہیں جو فرد کی زندگی کو بامقصد اور قوم کو سرفراز بناتی ہیں۔
شیخ محمد بن راشد کی یہ تصنیف محض ادبی یا فکری سرمایہ نہیں بلکہ عملی رہنمائی ہے۔ اس میں ایک ایسے رہنما کی بصیرت جھلکتی ہے جو خواب دیکھنے کے ساتھ ان خوابوں کو حقیقت بنانے کی قوت بھی رکھتا ہے۔ یہ کتاب صرف امارات کے لیے نہیں بلکہ پوری عرب و اسلامی دنیا کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ ‘علمتنی الحیاة’ یہ سکھاتی ہے کہ اگر قیادت ایمان، صدق اور خدمت کے اُصولوں پر قائم ہو تو ناممکن کو بھی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو نہ صرف امارات بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ شاید یہی شیخ محمد بن راشد کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ انہوں نے اپنے ذاتی تجربات کو ایک ایسی اجتماعی بصیرت میں ڈھال دیا جو آنے والی نسلوں کے لیے بھی رہنمائی کا سامان فراہم کرتی رہے گی۔

