انسانی صفات میں کوئی صفت ایسی نہیں ہے جو قوتِ ارادی کی جگہ لے سکے۔ کوئی قوت ایسی نہیں جسے استعمال کرکے وہی تنائج حاصل کرسکے جو قوتِ ارادی کے اختیار کرنے سے حاصل ہوسکتے ہیں۔ ”قوتِ ارادی” کیا ہے اور اس کا حصول کیسے ممکن ہے پہلے یہ جانیں۔ قوتِ ارادی کہتے ہیں: ”انسان کے اندر عزم، ہمت، ارادہ اور اختیار کو مضبوط کرنے والی ایک طاقت کو جو ارادے کو کمزور ہونے نہیں دیتی۔ بعض لوگوں کی یہ قوت کمزور ہوتی ہے۔ کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو توڑ دیتے ہیں، ایک قدم آگے تو دو قدم پیچھے جاتے ہیں۔ جن افراد کی یہ قوت مضبوط ہوتی ہے وہ مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرتے رہتے ہیں۔
اس قوت کو مضبوط کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر مکمل ایمان، توکل، اعتماد، بھروسہ اور یقین کیجیے۔ خوداعتمادی حاصل کیجیے۔ مسلسل اس بات پر توجہ رہے کہ مقصد حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار رہنا ہے، مشقت اٹھانی ہے، سستی سے جان چھڑانی ہے۔ ان تمام عوامل کا اہتمام کیا جائے تو یہ قوتِ ارادی مضبوط سے مضبوط تر ہو جاتی ہے۔ انسان کی عمومی زندگی میں قوتِ ارادی کی بہت اہمیت ہے۔ اس قوتِ ارادی کی ضرورت نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی پڑتی ہے۔ مادّیت کے اس دور میں اس قوتِ ارادی کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ یہی وہ قوت ہے جو انسان کی زندگی کا رُخ موڑنے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر جہدِ مسلسل، مستقل مزاجی اور مضبوط قوتِ ارادی سے کام لیا جائے تو ایک نہ ایک دن کامیابی ایسے شخص کے قدم چوم ہی لیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنیادی طو رپر جس مقصد کے لیے پیدا کیا ہے، وہ یہ ہے: ”الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا”… اللہ تعالیٰ نے پیدا اس لیے کیا ہے کہ وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم میں سے کون اچھا عمل کرتا ہے؟انسان کی پیدائش کا بنیادی مقصد یہ ہو اکہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے، اس کی عبادت کرے اور اچھے کام کرے۔
جب انسان اپنے ان مقاصد کو اپناتا ہے تو اس کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا ذکر قرآن کی سورئہ بلد کی آیت نمبر 4میں کیا ہے: ”لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ” ہم نے انسان کو مشکلات میں پیدا کیا ہے۔ مشکلات اس لحاظ سے ہے کہ انسان کے سامنے دو راہیں رکھ دی گئی ہیں، ایک راہ خیر کی اور دوسری راہ شر کی۔ قرآن کی سورئہ بلد کی آیت نمبر 10ہماری راہمنائی کرتی ہے: ”وَ ہَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ” کہ ہم نے اسے دونوں راستے دکھادیے ہیں۔ جب انسان کے سامنے دونوں راستے شر اور خیر، اچھائی اور برائی، اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری اور نافرمانی و معصیت کے کھلے ہوئے ہیں اور اختیار بھی انسان کو دے دیا گیا ہے۔ انسان کے علاوہ کسی بھی مخلوق کو اس مشکل میں نہیں ڈالا گیا ہے کہ وہ اپنے ارادے سے کچھ کرسکے اور کچھ نہ کرسکے۔ انسان کو بھی ہر جگہ کرسکنے کا ارادہ نہیں دیا گیا، کہیں کہیں اس کے اوپر قدر مسلط ہوتی ہے، جہاں انسان بے بس ہوتا ہے، مگر اس کے برعکس کئی معاملات ایسے ہوتے ہیں جن میں انسان خود اپنے اختیارات کو استعمال کرتا ہے۔ ہر مخلوق کو ایک طے شدہ کام دے دیا گیا ہے اور وہ اپنے اپنے طریقۂ کار کے مطابق چلتی رہتی ہے، جبکہ انسان اللہ کی وہ واحد مخلوق ہے کہ اللہ نے اُسے دونوں راستے دکھاکر اُسے اس کی مرضی پر چھوڑ دیا ہے۔
ان سب کے بعد انسان کے دل کو خواہشات کا ایک مرکز بھی بنادیا ہے کہ انسان صرف اپنی خواہشات پر عمل کرے۔ عام طور پر انسان کے دل میں پیدا ہونے والی خواہش اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف ہوتی ہے، لہٰذا جب بھی کوئی مشکل معاملہ پیش آتا ہے تو اس کے حل کے لیے انسان کی خواہش غلط راستے پر لے جارہی ہوتی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا حکم کچھ اور ہوتا ہے۔ اس ٹرننگ پوائنٹ اور کراس روڈ پر اٹھایا جانے والا قدم انسان اپنے ارادے سے اٹھاتا ہے۔ اگر اس موقع پر انسان کا ارادہ یا عزم کمزور ہوگا تو وہ اپنے نفس کے ہاتھوں ہمیشہ کھیلتا رہے گا۔ اس کی خواہشات کے ساتھ کھلواڑ ہوتا رہے گا۔ یہ پیدا ہونے والی خواہشات اس سے کھیلتی رہیں گی۔ اس کا نفس بھی اس کے ساتھ کھیلتا رہے گا۔ ایسا انسان ایسے سرکش گھوڑے پر سوار ہوتا ہے جو جس طرف چاہتا ہے منہ مارتا ہے اور انسان بھی اس کے اوپر بیٹھا پیچھے پیچھے چلتا رہتا ہے۔ اگر انسان اس سرکش گھوڑے پر اور اس آزاد راستے پر نہیں جانا چاہتا تو اس سے بچنے کے لیے اس کو ایک زبردست قسم کی قوتِ ارادی چاہیے، مضبوط عزم چاہیے، کیونکہ نفس کو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر چلانا اتنا آسان نہیں ہے، اس کے لیے بہت ہی مضبوط پہاڑ جیسے عزم کی ضرورت ہوتی ہے، ورنہ فطری اور بنیادی طور پر یہ آزاد پیدا ہوا ہے، یہ غلط راستے پر ہی جانے کی کوشش کرے گا۔ ہدایت، بھلائی اور نیکی کی راہ موجود تو ہوگی، لیکن جب تک یہ پختہ عزم نہیں کرے گا، جب تک اس کی قوتِ ارادی مضبوط نہیں ہوگی، یہ بھلائی اور خیر کی طرف جا ہی نہیں سکے گا۔
اصل میں قوتِ ارادی وہ چیز ہے کہ جو انسان کی زندگی کو کسی سیٹ پیٹرن اور کسی سیٹ ٹریک کی طرف لے جاتی ہے یعنی انسان کا فیصلہ سوچا سمجھا ہوتا ہے، وہ خواہشات کے ہاتھوں نہیں کھیل رہا ہوتا ہے، بلکہ اپنے فیصلے خود ہی کررہا ہوتا ہے۔ اپنے فیصلے خود کرنے کے لیے انسان کو قوتِ ارادی چاہیے ہوتی ہے، پختہ عزم چاہیے ہوتا ہے، کیونکہ اس کی خواہش کچھ اور کہہ رہی ہوتی ہے، لہٰذا وہ اس قوتِ ارادی کے ذریعے کسی ٹریک پر چل رہا ہوتا ہے یعنی کسی ہدایت کی روشنی میں چل رہا ہوتا ہے۔ یہ سارا کام قوتِ ارادی ہی سے ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی کے لیے نہ تو گمراہی کی راہ آسان کی ہے، نہ کسی کے لیے ہدایت کی راہ پر اللہ تعالیٰ زبردستی چلاتا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے دونوں راہیں دے دی ہیں، انسان کو سمجھ بوجھ عطا کردی ہے، اس کے سامنے راستے کھول دیے ہیں، اس کو ارادے اور اختیار دے دیا ہے کہ اب وہ چاہے تو شکرگزاری کا راستہ اختیار کرلے اور چاہے تو نافرمانی کا راستہ اختیار کرلے۔
بنیادی طور پر قوتِ ارادی یا عزم وہ صلاحیت ہے جس کی بنیاد پر انسان اپنی راہ کا انتخاب کرے گا کہ اُس نے کسی آزاد راستے کی طرف جانا ہے یا کسی بتائی ہوئی ہدایت، راہنمائی یا روشنی کی طرف جانا ہے۔ قوتِ ارادی اور عزم کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لیے سب سے زیادہ دخل اس بات کا ہے کہ انسان اولوالعزم لوگوں کے ساتھ کتنا وقت گزارتا ہے، یعنی جو لوگ صاحبِ عزم ہیں، جو لوگ زندگی کاکوئی خاص ہدف اور مقصد رکھتے ہیں۔
”قوتِ ارادی” وہ قوت ہے جس کے ذریعے انسان بڑے سے بڑا اور ناممکن سے ناممکن معرکہ بھی سر کرسکتا ہے۔ قوتِ ارادی کو حاصل کرنے کے لیے ان چار باتوں پر عمل ضروری ہے۔ اس کے لیے نہ تو اعلیٰ تعلیم کی ضرورت ہے اور نہ ہی غیرمعمولی ذہانت کی البتہ انتھک محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ چار باتیں یہ ہیں: (1) ایک قطعی مقصد جس کے حصول کا پختہ ارداہ ہو۔ (2) ایک مکمل لائحہ عمل جس پر مسلسل عمل کیا جائے۔ (3) ایک پکا ارادہ جو کسی بھی قسم کے خطرات اور مخالفتوں کو خاطر میں نہ لائے۔ (4) ایسے لوگوں سے زیادہ سے زیادہ تعلقات جو آپ کے ارادے کی حمایت کریں اور آپ کے مقصد میں کامیابی کے متمنی ہوں۔” آپ کسی بھی شعبے میں کامیابی کے خواہاں ہوں یہ چاروں باتیں کامیابی کے لیے ضروری ہیں، لہٰذا نوجوانوں کو قوتِ ارادی حاصل کرنی چاہیے۔ قوتِ ارادی سے آپ کی کامیابی یقینی ہو جائے گی۔

