پشاور:افغان مہاجرین کی جبری بے دخلی کا عمل تاخیر کا شکار ہوگیا۔ خیبر پختونخوا میں افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کے دوسرے مرحلے میں اب تک 153 افراد افغانستان جا چکے ہیں۔
افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کی ڈیڈ لائن 31 مارچ کو ختم ہو چکی ہے، اور یکم اپریل سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی جبری بے دخلی کا عمل شروع ہونا تھا۔ تاہم، تین دن گزرنے کے باوجود یہ عمل تاخیر کا شکار ہے۔
ذرائع کے مطابق، لنڈی کوتل ٹرانزٹ کیمپ تیسرے روز بھی فعال نہیں ہو سکا اور سنسان پڑا ہے، جبکہ پالیسی کے مطابق ملک بھر سے غیر قانونی مہاجرین کو پہلے پشاور کے عارضی کیمپ میں منتقل کیا جانا تھا، پھر انہیں لنڈی کوتل لے جایا جانا تھا۔
صوبائی حکومت نے جبری بے دخلی کے لیے وفاق سے فنڈز فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور 10 اپریل تک مہلت مانگی ہے۔ ذرائع کے مطابق، 11 اپریل سے جبری انخلا کے عمل کے آغاز کا امکان ہے۔
پاکستان چھوڑنے والے غیر قانونی افغان باشندوں کی کل تعداد 8لاکھ 85ہزار902 تک پہنچ چکی ہے۔ خیبر پختونخوا میں رجسٹررڈ افغان مہاجرین کی کل تعداد 7لاکھ 9 ہزار سے 278 ہے جبکہ کیمپوں میں 3 لاکھ 44 ہزار 9 سوآٹھ افغان رہائش پذیر ہیں۔
سال 2013 سے اب تک 4 لاکھ 65 ہزار افغان مہاجرین طورخم کے راستے واپس جا چکے ہیں۔بلوچستان میں 3 لاکھ 17 ہزار، پنجاب میں ایک لاکھ 96 ہزار اور سندھ میں 74 ہزار 117 افغان مہاجرین رجسٹرڈ ہیں۔
اسلام آباد میں 42 ہزار 718 اور آزاد کشمیر میں 4 ہزار 448 افغان مہاجرین قیام پذیر ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں کل 30 لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں جنہیں رواں سال غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی بے دخلی پلان کے تحت واپس بھیجا جائے گا۔
