اسرائیلی آرمی انتہا پسند ملیشیا بن گئی

(علی ہلال)

صہیونی ریاست اسرائیل کی آرمی اب باقاعدہ انتہاپسند ملیشیا میں تبدیل ہوگئی ہے۔ تاریک ذہنیت کے حامل یہودی ربیوں کی اکثریت اور توراتی مراکز کے فارغ التحصیل افراد جوق درجوق صہیونی فورسز میں بھرتی ہورہے ہیں، جس کے باعث جنگی اخلاقیات، انسانی اقدار اور عالمی قوانین کی پامالی ایک عام عادت بن کر رہ گئی ہے۔
رِبیوں کے غیرمعمولی اثرات اسرائیلی فورسز میں نچلے سے اعلیٰ طبقے تک سرایت کرگئے ہیں، جس کے باعث سینئر جرنیلوں کو بھی روایتی یہودی کیپا (مخصوص جالی دار چھوٹی ٹوپی) پہنے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ مظاہرہ ماضی کے برعکس بالکل نیا ہے جس پر خود اسرائیلی عوام کی بھی بڑی تعداد کو حیرت ہورہی ہے۔ نیتن یاہو کی حالیہ حکومت اسرائیل کی بدترین چھ یہودی مذہبی انتہاپسند پارٹیوں کے الائنس سے تشکیل پائی ہے۔ شاس، جیوش پاور، جیوش عظمت، ناعوم، ریلیجز یہودیت اور لیکوڈ پارٹی کے اشتراک سے بننے والی حکومت نے دسمبر 2022ء میں حلف اٹھایا تھا۔ اس حکومت کے متعدد اراکین اور وزرا عام عصری تعلیم سے نابلد اور اسرائیل میں واقع انتہاپسند اداروں کے فارغ التحصیل ہیں۔
اسرائیلی جریدے نے حال ہی میں اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ اس وقت اسرائیل میں سرگرم یہودی انتہا پسند سوسائٹیز صہیونی فوج کو سب سے زیادہ تبرعات دینے والی ہیں۔ اسرائیل کی مذہبی تنظیمیں بڑی آزادی کے ساتھ فورسز کے مراکز میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئی ہیں جہاں وہ انتہاپسندانہ لٹریچر اور دیگر مواد فراہم کررہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 1990ء میں اسرائیلی فوج میں انتہاپسند مراکز کے تعلیم یافتہ انتہاپسند اہلکاروں اور افسران کی شرح صرف 2.5 تھی۔ 2008ء میں یہ شرح بڑھ کر26 فیصد ہوگئی جس کے بعد کے سالوں میں اسرائیلی فورسز پر بہت جارحانہ انداز میں انتہاپسند یہودیوں کا تسلط ہوتے چلا گیا۔ جریدے کے مطابق اسرائیل میں انتہاپسند آبادی مجموعی آبادی کا 13 فیصد ہے، لیکن فورسز میں انتہاپسند افسران و اہلکاروں کی شرح 40 فیصد سے تجاوز کرگئی ہے۔ اسرائیل میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی سے پریشان ایک سروے ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ اسرائیلی ارمی جو کبھی عوامی آرمی کہلاتی تھی اب مکمل طور پر ایک مذہبی ملیشیا بن کر رہ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج دراصل 1936ء میں پہلی فلسطین میں رہنے والے یہودی کاروباری شخصیات اور ان کی املاک کے تحفظ کے لئے قائم ہونے والے ’ہاگانا ملیشیا‘ بن گئی ہے۔ ہاگانا کو 1948ء میں قیام اسرائیل کے اعلان کے بعد فوج کی شکل دی گئی تھی جسے بین الاقوامی سطح پر مقبولیت دلانے کے لیے انتہاپسندی سے دور رکھا گیا۔ اسرائیل میں فورسز اور اداروں کو کسی ایک خاص نظریاتی گروہ کے تابع ہونے سے بچانے اور توازن برقرار رکھنے کے حامی اداروں نے اپنی رپورٹوں میں کہا ہے کہ اسرائیلی آرمی مکمل طور پر ایک انتہاپسند ملیشیا بن رہی ہے جس میں دیگر اسرائیلیوں کی نمائندگی ختم ہورہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت اسرائیلی انتہاپسند حاخامات کا فوجی جرنیلوں کے ساتھ مقابلہ ہے۔ فوج پر جرنیلوں سے زیادہ قبضہ انتہاپسند جرنیلوں کا ہے۔ انتہاپسند حاخامات ایک بڑے طاقتور مافیا کے طور پر اسرائیلی فوج میں اپنے اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں۔ غزہ کی حالیہ جنگ کے دوران بہت بڑے پیمانے پر انتہاپسندانہ فتوی جاری کئے گئے جن میں صہیونی فوجیوں سے کہا گیا کہ انہیں فلسطینیوں کے قتل پر ثواب ملے گا۔ غزہ جنگ میں بڑا خونریز کردار ادا کرنے والے غفعاتی بریگیڈ میں ایک لٹریچر تقسیم ہوا تھا جسے اسرائیل کے انتہاپسند مخالف میڈیا نے بھی شائع کیا تھا، جس میں لکھا ہوا تھا کہ ”تاریخ نے ہمیں غزہ کی جنگ کے لیے منتخب کیا ہے۔ ہمیں ایسی قوم کے خلاف جنگ کے لئے موقع دیا ہے جو ہم پر لعن طعن کرتی ہے اور ہمارے رب کو نہیں کرتی ۔“
اسرائیل کے انتہاپسند حاخامات نے انتہائی شرانگیز انتہا پسند انہ لٹریچر کا استعمال جاری رکھا ہوا ہے جس پر معتدل یہودی اسٹڈیز مراکز نے خبردار کردیاہے کہ یہ انتہاپسندانہ رویہ پورے ملک کو لپیٹ میں لے گا اور بہت جلد اسرائیل مغربی دنیا کی حمایت سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ کیونکہ اسرائیلی ربی جس انداز سے انتہا پسندانہ نظریات کی پرچار کررہے ہیں یہ وہی فکر ہے جس کی اشاعت ماضی میں کاغ جیسی تنظیمیں کرتی رہیںجس کے باعث ان پر امریکا اور یورپ میں پابندیاں عائد کی جاتی رہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت اسرائیلی فورسز پر مضبوط کنٹرول رکھنے والے حاخامات میں شلومو الیاہو، یتسثاق شابیرا، یوسف الیتسور، شلومو ریسکین اور الیعازر سمیت متعدد دیگر ربیوں کے نام مشہور ہیں۔ اسرائیل کی متشدد تنظیم الحباد اس وقت غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے سب سے بڑے حمایتیوں اور معاونین میں سے ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل فلسطینی لڑائی کو مکمل مذہبی جنگ کے طور ایک فریضہ سمجھ کر لڑ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل اب تک فلسطینیوں کے خلاف 81 بڑے فوجی آپریشن کرچکا ہے جن میں سے 70 فیصد نام انتہاپسندانہ مراکز کی جانب سے تلمودی روایات سے رکھے گئے تھے۔ یہ مکمل مذہبی جنگ ہے جس میں عالمی میڈیا بھی اسرائیل کی پردہ داری کررہاہے اور اسرائیل کے اس گھناونے چہرے کو نہیں دکھا رہا ہے۔