“قطر گیٹ” کرپشن اسکینڈل میں اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق نیتن یاہو نے اس معاملے میں گواہی دی اور تحقیقات کو “سیاسی انتقام” قرار دیا۔
گرفتار ہونے والے مشیر جوناتھن یوریچ اور ایلی فیلڈ اسٹائن پر الزام ہے کہ انہوں نے قطری حکومت کے ساتھ غیر قانونی روابط قائم کیے۔
گرفتاریوں کے بعد اسرائیل میں سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے، جہاں حکومت پہلے ہی ملکی سلامتی کے سربراہ اور اٹارنی جنرل کو برطرف کرنے پر غور کررہی ہے۔ ا
س پیش رفت نے ایک بار پھر اسرائیل میں احتجاجی تحریک کو ہوا دی ہے، جبکہ حکومت نے غزہ میں فوجی کارروائی دوبارہ شروع کر دی ہے۔
نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں کہا: جیسے ہی مجھ سے گواہی کے لیے کہا گیا، میں نے فوراً حامی بھر لی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک سیاسی مقدمہ ہے اور میرے مشیران کو بلاوجہ یرغمال بنایا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی حقیقت نہیں، بس سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے۔
نیتن یاہو پہلے ہی بدعنوانی کے الزامات میں ایک الگ مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی وہ سختی سے تردید کرتے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اس کیس میں ایک صحافی کو بھی تفتیش کے لیے طلب کیا گیا ہے، جس سے صحافتی حلقوں میں بھی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
قطر، جو قدرتی گیس کے وسیع ذخائر رکھتا ہے، اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں رکھتا اور طویل عرصے سے فلسطینی تنظیم حماس کے رہنماؤں کی میزبانی کرتا رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قطر گیٹ اسکینڈل نے اسرائیلی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے اور کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کے دو سینئر مشیروں کو قطر کے ساتھ مبینہ غیرقانونی تعلقات کے الزام میں گرفتار کرکے تین روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ اس کیس کو میڈیا میں “قطر گیٹ” کے نام سے جانا جا رہا ہے، جس نے اسرائیل کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔