غزہ میں عیدالفطر کے تینوں دن اسرائیلی حملے جاری رہے جس کے نتیجے میں بچوں سمیت 64 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔
غزہ میں ایک ہفتے قبل لاپتا ہونے والے ریڈ کریسنٹ کے 15 امدادی کارکنوں کی لاشیں اجتماعی قبر سے برآمد ہوئیں۔ دوسری طرف ٹرمپ منصوبے کیخلاف حماس نے دنیا بھر میں ہتھیار اٹھانے کی کال دے دی۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق فلسطین پر اسرائیلی حملوں میں عید الفطر کے دن بھی کمی نہ ہوئی اور اسرائیلی فوج نے حملہ کرکے عید کے کپڑے پہن کر تیار ہوکر بیٹھنے والے بچوں کو بھی شہید کردیا۔عید کے پہلے اور دوسرے دن اسرائیلی فوج کے حملے میں شہید ہونے والے بچوں کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد ہر آنکھ اشکبار ہوگئی۔
غیر ملکی خبررساں ادارے نے عید کے دن اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے بچوں کی تصاویر جاری کردیں، جن میں بچوں کو عید کے کپڑوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے زیادہ تر بچے اپنے کیمپوں میں اس وقت شہید کیے گئے جب تمام بچے اپنے والدین اور اہل خانہ کے ہمراہ عید کی تیاریوں کے سلسلے میں امداد میں ملنے والے نئے کپڑے پہن کر تیاری کر رہے تھے۔
اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے زیادہ تر بچوں کی عمریں 10 سال سے کم ہیں اور زیادہ تر بچے کے عید کی خوشیاں دیکھنے سے قبل ہی اپنے چھوٹے بہن اور بھائیوں سمیت شہید کیے گئے۔
اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والی 10 سالہ دانا ابوسلطان بھی ہیں جو کہ اسرائیلی حملے میں اپنی بہن، بھائی، والدین اور چچا سمیت دیگر اہل خانہ کے ساتھ شہید ہوئیں۔ شہید ہونے والی دانا ابوسلطان کو عید کے نئے کپڑوں اور ہاتھوں میں چوڑی نما چیز میں دیکھا جا سکتا ہے۔اسی طرح ان کی سات سالہ بہن حبیبا اور چار سالہ بھائی حسن ابو سلطان کو بھی عید کے نئے کپڑوں اور جوتوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔اسرائیلی فوج کے تازہ حملوں کے حوالے سے اقوا متحدہ (یو این) کے ادارہ برائے اطفال ( یونیسیف) نے کہا ہے کہ اسرائیل کے تازہ حملوں میں محض 10 روز کے اندر 322 بچے شہید اور 609 زخمی کیے جا چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے حملوں میں عید کے دنوں میں بھی تیزی دیکھی گئی اور فلسطینیوں نے حملوں کے سائے میں عید نماز کی ادائیگی کی۔جبالیہ کیمپ میں بے گھر افراد کی رہائش گاہ’انروا‘ کی کلینک پر قابض اسرائیلی فوج کی بمباری کے نتیجے میں تین بچوں سمیت کم از کم دس شہری شہید اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔ادھر وسطی خان یونس میں عبدالباری خاندان کے گھر پر اسرائیلی بمباری سے 12 فلسطینی شہید اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔
طبی ذرائع اور عینی شاہدین نے اطلاع دی ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں، توپ خانے کی گولہ باری اور شہریوں اور نقل مکانی کرنے والے کیمپوں کو نشانہ بنانے والے گولہ باری کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں 42 سے زاید افراد شہید درجنوں زخمی ہوئے۔فلسطینی حکام کے مطابق رفاہ کے قریب اسرائیلی فائرنگ کے ایک ہفتے بعد 14 لاشیں برآمد ہوئیں، لاشیں طبی عملے کے 8 ارکان، 5 شہری دفاع اور ایک یو این ملازم کی ہیں، شہدا کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے تجاوزکر گئی، 1لاکھ 14 سے زاید فلسطینی زخمی ہوئے۔
ادھر غزہ میں ایک ہفتے قبل لاپتا ہونے والے ریڈ کریسنٹ کے 15 امدادی کارکنوں کی لاشیں اجتماعی قبر سے برآمد ہوئی ہیں۔ خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق غزہ پٹی کے جنوبی علاقے سے ریڈ کریسنٹ کے 8 طبی کارکنوں اور دیگر فلسطینی ریسکیو ورکرز کی لاشیں ریت میں بنی ایک کم گہری قبر سے برآمد ہوئی ہیں۔یہ کارکن گزشتہ ہفتے اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بنے اور اس کے بعد سے لاپتا ہوگئے تھے۔اقوام متحدہ کے عہدیداروں نے لاپتا رضاکاروں کی لاشیں ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے واقعے کو انسانی وقار کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔