جنیوا کے انسانی حقوق کے ادارے “اریت اکیڈمی” نے ایک جامع اور تہلکہ خیز رپورٹ جاری کی ہے، جس میں بھارت میں رہنے والے تقریباً 20 کروڑ مسلمانوں کے خلاف گزشتہ ایک دہائی (2014ء سے 2025ء) کے دوران ہونے والے منظم امتیازی سلوک، ریاستی سطح پر سرپرستی میں ہونے والی بربریت اور قانونی تعصب کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
ہیٹ اسپیچ میں خطرناک حد تک اضافہ رائٹرز کی جانب سے نقل کردہ “انڈیا ہیٹ لیب” کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر (ہیٹ اسپیچ) کے واقعات 2023ء میں 668 سے بڑھ کر 2025ء میں 1,318 ہو گئے ہیں، جو دو سال کے قلیل عرصے میں تقریباً 97 فیصد اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، 2025ء کے کل واقعات میں سے 1,164 واقعات بی جے پی کے زیرِ حکومت ریاستوں میں پیش آئے، جن میں اتر پردیش سرفہرست ہے۔
شہریت کا متنازع قانون اور آسام کے شہریت سے اخراج کا معاملہ رپورٹ کا ایک بنیادی حصہ 2019ء کے شہریت ترمیمی قانون (CAA) کا احاطہ کرتا ہے، جو افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے چھ غیر مسلم مذاہب کے لوگوں کو تو شہریت کا آسان راستہ فراہم کرتا ہے لیکن مسلمانوں کو اس سے صریحاً محروم رکھتا ہے۔ اس میں مزید بتایا گیا ہے کہ تقریباً 1.9 ملین (19 لاکھ) افراد، جن میں اکثریت بنگالی بولنے والے مسلمانوں کی ہے، کو آسام کے حتمی نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) سے باہر کر دیا گیا، جس سے ان کے بے وطن ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
دلی کے 2020ء کے فسدات اور پولیس کا کردار رپورٹ میں فروری 2020ء میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسدات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، جن میں ہیومن رائٹس واچ (HRW) کی دستاویزات کے مطابق کم از کم 53 افراد ہلاک ہوئے اور ان میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ ایچ آر ڈبلیو کی 82 صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ پولیس اہلکار یا تو مسلم شہریوں پر حملوں میں براہِ راست شریک رہے یا انہیں روکنے میں ناکام رہے۔ رپورٹ میں گجرات کے 2002ء کے فسدات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جنہیں مودی کے دورِ وزارتِ اعلیٰ میں پیش آنے والا ایک ایسا نمونہ قرار دیا گیا ہے جہاں تشدد کے بعد مجرموں کو کھلی چھوٹ (استثنیٰ) دی گئی، اور ایسے ہی ہتھکنڈے 2013ء کے مظفر نگر اور 2020ء کے دہلی فسدات میں بھی دہرائے گئے۔
“بلڈوزر جسٹس” اور جائیدادوں کی بڑے پیمانے پر مسماری رپورٹ کے سب سے زیادہ تفصیلی حصوں میں سے ایک مسلم ملکیت کے گھروں اور کاروباروں کی غیر قانونی مسماری ہے، جسے بھارت میں عام طور پر “بلڈوزر جسٹس” کہا جاتا ہے۔ ہاؤسنگ اینڈ لینڈ رائٹس نیٹ ورک کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف 2022ء سے 2023ء کے دوران 7 لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد کو بے گھر کیا گیا اور ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ گھروں کو مسمار کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک الگ تحقیق میں 2020ء سے 2022ء کے درمیان متعدد ریاستوں میں تقریباً 2,840 جائیدادوں کی مسماری کا دستاویزی ثبوت دیا گیا ہے۔
حراستیں، یو اے پی اے (UAPA) کے تحت مقدمات اور سزاؤں کی انتہائی کم شرح رپورٹ میں بھارت کے انسدادِ دہشت گردی کے کالے قانون “غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ” (UAPA) کی کڑی تنقید کی گئی ہے، جسے کارکنوں، طلباء اور صحافیوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ 2016ء سے 2019ء کے درمیان UAPA کے مقدمات میں سزاؤں کی شرح محض 2.2 فیصد رہی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قانون مجرموں کو سزا دینے کے لیے نہیں بلکہ طویل قیدِ باجماعت اور زیرِ حراست رکھنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
روہنگیا مہاجرین اور دیگر کمزور طبقات رپورٹ میں میانمار سے نسل کشی کے باعث جان بچا کر بھارت آنے والے تقریباً 40,000 روہنگیا مہاجرین کی ابتر حالت زار کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام نے کچھ روہنگیا افراد کے خلاف ملک بدری کی کارروائیاں شروع کی ہیں جو کہ بین الاقوامی اصولِ عدمِ واپسی (Non-refoulement) کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ مطالعے میں 2022ء کے کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی اور “لو جہاد” کے نام پر بنائے جانے والے جبری تبدیلیِ مذہب کے قوانین کا بھی جائزہ لیا گیا ہے، جو رپورٹ کے مطابق غیر متناسب طور پر مسلم خواتین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
بھارت کا ان الزامات کو مسترد کرنا بھارتی حکومت نے روایتی طور پر اس طرح کی تمام بین الاقوامی تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔ حکام کا اصرار ہے کہ سی اے اے کا مقصد پڑوسی ممالک سے آنے والی مظلوم مذہبی اقلیتوں کا تحفظ کرنا ہے اور اس سے بھارتی مسلمانوں کے شہریت کے حقوق پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
نئی دہلی، واشنگٹن اور اقوام متحدہ کے لیے اہم سفارشات اریت اکیڈمی کی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ بھارتی حکومت مذہب کی بنیاد پر تفریق کرنے والے سی اے اے قانون کو منسوخ کرے، انتقامی بنیادوں پر گھروں کی مسماری کا سلسلہ بند کرے، متاثرین کو معاوضہ دے، سی اے اے کے خلاف احتجاج کے دوران ہونے والی اموات کی شفاف تحقیقات کرے اور روہنگیا مہاجرین کی ملک بدری روکے۔
