سعودی عرب نے اسرائیلی منصوبہ کیسے ناکام بنایا؟

عرب امور کے تجزیہ کار علی ہلال کا تجزیہ
سعودی عرب کی قیادت نے دبئی فلائی کے ذریعے بنائے جانے والے اسرائیلی منصوبے کو بڑی طرح ناکام بنادیا۔ دبئی سے جانے والے بوئنگ 737 میکس طیارے کے دو پائلٹوں کے درمیان لڑائی اور بعد ازاں عمان سے تعلق رکھنے والے پائلٹ کو طیارہ گرا کر اسرائیلی باشندوں کو مارنے کی افواہ نے سب کے کان کھڑے کردئے۔ تاہم دیکھا گیا کہ اردن کے فضائی راستے سے اسرائیل جانے والے طیارے کو سعودی عرب کی جانب موڑ دیا گیا تو سعودی حکام نے غیر معمولی سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے طیارے کو نہ صرف پُرامن لینڈنگ کی اجازت دے دی۔ بلکہ تمام مسافروں کو بھرپور سہولیات بھی فراہم کردیں۔
اس دوران منصوبے پر عمل درآمد کے لیے پہلے سے تیار بیٹھے اسرائیلی وزیراعظم اور وزیر دفاع سمیت اعلیٰ حکام نے مسافروں کو لیجانے کے لئے عسکری طیارے بھجوانے کی پیشکش کی، جسے سعودی عرب نے سختی سے مسترد کردی۔ سعودی عرب نے انسانی بنیادوں پر مسافروں کو خدمات فراہم کیں لیکن اسرائیلی طیاروں کو مملکت میں آنے کی اجازت سے صاف انکار کردیا۔
ماہرین کے مطابق اس منصوبے کا مقصدِ سعودی عرب کے بارے اسرائیل کے تعلقات کا پروپیگنڈا کروانا تھا تاکہ حوثیوں کے ساتھ جنگ اور ایران کے ساتھ کشیدگی کے اس حساس وقت میں سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے فروغ کا پروپیگنڈا کیا جاسکے، تاکہ اسلامی دنیا میں سعودی عرب کا امیج خراب ہو اور سعودی عرب کے خلاف حوثی پروپیگنڈا موثر ہو۔ ظاہری بات ہے کہ سعودی عرب کا موقف اس سے کمزور ہونا تھا، لیکن سعودی عرب کی قیادت نے اس منصوبے کو ناکام بنادیا ۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے اس منصوبے کو ہوئی جیکنگ کی کوشش قرار دیتے ہوئے ” جہادی” منصوبے کا نام دیا ہے ۔ نیز اسرائیلی میڈیا نے اسے سلطنت عمان کے مفتی اعظم شیخ خلیلی کے ساتھ بھی جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ گویاں کہ بیک وقت دو خلیجی ممالک کو دباؤ میں لانے کی سعی کی گئی ۔
27 اکتوبر کو اسرائیل میں انتخابات ہیں اور نیتن یاہو پوری طرح ساتویں مرتبہ وزیراعظم بننے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے، جس میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات اس کی آرزو ہے۔ اس واقعہ سے قبل پیر کے روز اسرائیلی میڈیا نے افواہ اڑائی کہ ایک دوسرے ملک کے حکام کے ساتھ اسرائیلی حکام کی ملاقات میں سعودی عرب کے نمائندے شریک تھے، تاہم سعودی عرب نے بڑی سختی کے ساتھ اس کی تردید کی جس کے بعد طیارے کا واقعہ رونما ہوا  اور یوں دونوں مرتبہ سعودی عرب کو پھنسانے کا منصوبہ فلاپ ہوگیا ۔