بالآخر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے شعلے اب پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے لگے ہیں اور یمن کی حوثی ملیشیا نے ایرانی پاسداران انقلاب کی شہ پر سعودی عرب پر حملہ کرکے گویا سعودیہ اور اس کے اتحادی ممالک کو دعوت مبارزت دی ہے۔ یمن کے حوثی جنگجوؤں نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے گزشتہ تین روز کے دوران سعودی عرب کے اقتصادی اور عسکری اہداف پر درجنوں ڈرونز اور میزائل داغے ہیں۔حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ‘یمنی مسلح افواج نے طویل فاصلے تک مار کرنے والی ایک بڑے پیمانے کی عسکری کارروائی انجام دی، جس میں درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔’ انہوںنے مزید دعویٰ کیا کہ ان حملوں کا مقصد حالیہ سعودی حملوں کا جواب دینا تھا۔
یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے منگل کی صبح آگاہ کیا گیا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے شہروں ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 سعودی شہری زخمی ہوئے ہیں۔سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘حوثی ملیشیا کی جانب سے بے گناہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھنے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔’یاد رہے کہ اس سے قبل یمن میں ایران نواز حوثی جنگجوؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ شب سعودی عرب نے صوبہ الجوف کے شہر الحزم میں ایک جیل پر فضائی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ دوسری طرف سے یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ یمن میں سعودی حمایت یافتہ مقامی قبائل نے دار الحکومت صنعاء کو حوثی ملیشیا سے چھڑانے کے لیے فیصلہ کن جنگ لڑنے کا اعلان کیا ہے اور جزیرہ عرب کے سیاسی حالات پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق آیندہ چند روز میں دار الحکومت صنعا کا کنٹرول حوثی ملیشیا کے ہاتھوں سے نکل سکتا ہے جس کے دور رس اثرات نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے کے مستقبل پر واضح طور پر مرتب ہوں گے۔ عالمی مبصرین کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب حوثی ملیشیا کو آبنائے ہر مز اور باب المندب کی تجارتی گزرگاہوں پر کنٹرول قائم رکھنے کے اپنے عزائم کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔امریکا کے ساتھ موجودہ جنگ اور کشمکش سے قطع نظر ان سمندری گزرگاہوں پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی ایران کی سوچ نہ صرف باقی دنیا کے لیے بلکہ سب سے زیادہ خلیجی عرب ممالک کے لیے بہت بڑا خطرہ اور چیلنج رہی ہے۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ سعودی عرب سمیت متعدد عرب ممالک کی معیشت و تجارت کا انحصار تیل کی تجارت پر ہے اور عالمی منڈیوں تک تیل کی ترسیل کے لیے وہ آبنائے ہر مز اور باب المندب کے اتنے ہی محتاج ہیں جتنا کہ خود ایران یا خطے کو کوئی دوسرا ملک ہوسکتا ہے۔آبنائے ہرمز ایران کی ذاتی ملکیت نہیں ہے اور جتنا حق اس پر ایران کا ہوسکتا ہے،اتنا ہی حق ان تمام دیگر ممالک اور ریاستوں کا بھی ہے جن کے ساحل اس آبنائے سے متصل ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق آبنائے ہر مز ایک عالمی سمندری گزرگاہ ہے جس پر کوئی بھی ملک حق ملکیت کا دعوی نہیں کرسکتا لیکن ایران نہ جانے کس بنا پر یہ دعوی کرتا ہے کہ وہی آبنائے ہر مز پر کنٹرول رکھنے کا استحقاق رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کی اسی جابرانہ،توسیع پسندانہ اور خود غرضی پر مبنی سوچ اور رویے نے ماضی میں عرب ریاستوں کو بین الاقوامی طاقتوں بالخصوص امریکا سے مدد طلب کرنے اور اسے اڈے دینے پر مجبور کیا۔عرب ریاستوں کی دوسروں پر انحصار کی اس پالیسی کا دفاع نہیں کیا جاسکتا مگر آج کے حالات دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ شاید ان کے پاس کوئی دوسراراستہ نہیں رہ گیا تھا۔آج اگر امریکا کے ساتھ جنگ میں باقی دنیا ایران کا ساتھ دینے سے ہچکچارہی ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ دنیا کو ایران کے توسیع پسندانہ عزائم کا بھی ادراک ہے۔عرب ممالک امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ کے بارے میں اس لیے تذبذب کا شکار ہیں کہ ایران ردعمل کے نام پر صرف عرب ریاستوں کو اپنا ہدف بنارہا ہے۔اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے گزشتہ دنوں صاف صاف کہا کہ ایران پر حملے کرنے والے نصف سے زائد امریکی جہاز اسرائیل سے اڑان بھر کر جاتے ہیں مگر اس کے باوجود اسرائیل خطے کا وہ واحد ملک ہے جس پر ایران حملہ نہیں کرتا۔اس کا اس کے سوا اور کیا مطلب ہوسکتا ہے کہ ایران امریکا اور اسرائیل کا نام لے کر نشانہ صرف عرب ریاستوں کو بنارہا ہے۔
باوجود اس حقیقت کے کہ سعودی عرب نے امریکا کے شدید دباؤ کے باوجود اب تک ایران کے خلاف جنگ کے لیے امریکا کاساتھ دیا نہ اسے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دی، ایرانی پاسداران انقلاب نے حوثی ملیشیا کے ذریعے سعودی عرب پر حملہ کرا دیا ہے جس کے بعد کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ خطے کے حالات کس رخ پر جائیں گے اور خود ایران کو اس مہم جوئی کی کتنی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ یہ امر پوری دنیا پر واضح ہے کہ سعودی عرب اب خطے میں تنہا نہیں ہے، مکہ اتحاد کے اعلامیے کے مطابق سعودی عرب پر حملہ پاکستان اور ترکیے پر بھی حملہ تصور ہوگا اور سعودی حکومت کی جانب سے تقاضا ہونے پر یہ ممالک بھی جنگ میں حصہ لینے کے پابند ہوں گے۔ پاکستان نے ایران کو جنگ کی مصیبت سے نکالنے کے لیے نہایت مخلصانہ جدوجہد کی اور مسلسل تگ و دو کے بعد دونوں فریقوں کو جنگ بندی اور معاہدے پر آمادہ کرنے میں کامیابی حاصل کی مگر ایرانی پاسداران انقلاب نے نجانے کس ایجنڈے کے تحت معاہدے پر حتمی دستخط سے چند گھنٹے پہلے سعودی تیل بردار جہازوں پر حملہ کرکے پاکستان کی ان کوششوں کوناکام بنادیا جس کے بعد ایران بظاہر بند گلی میں پھنسا ہوا ہے۔ امریکا نے آبنائے ہر مز کی مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے اور اطلاعات کے مطابق وہ لاکھوں بیرل روزانہ کے حساب سے تیل بھی یہاں سے گزار کر لے جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں سعودی عرب پر حملہ کرکے اور جنگ کو مزید بڑھاوا دے کر ایران اور اس کے پراکسی عناصر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ یہ ایک ناقابل فہم سوال ہے۔ ہم سمجھتے ہیںکہ ایرانی قیادت کو یہاں ایک لمحے کے لیے رک کر اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کی جمع تفریق کرنی چاہیے اور عالم اسلام کے لیے مزید مشکلات کھڑی کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
