صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے یومِ فضائیہ کے موقع پر جاری کردہ پیغام میں دفاعِ وطن میں شاہینوں کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا اور مادرِ وطن کے لیے پاک فضائیہ کی قیادت، افسران اور جوانوں کے کردار کو سراہا۔ بلاشبہ پاک فضائیہ ملکی سلامتی، تحفظ اور دفاع کے حوالے سے شان دار روایات اور قابلِ فخر تاریخ رکھتی ہے اور جب بھی ملک کو ضرورت پیش آئی اس کے شاہین صفت جوانوں نے ایثار، قربانی، عسکری مہارت اور اعلیٰ ترین صلاحیتوں کے اظہار میں کوئی کوتاہی نہیں برتی۔ افواجِ پاکستان کی شان دار روایات میں پاک فضائیہ کا کردار سنہری حروف سے رقم ہے اور امید ہے کہ یہ سلسلہ مزید ترقی کرے گا۔
فی الواقع ملک و قوم کو ہر شعبے میں اسی کارکردگی کی ضرورت ہے جوکہ پاک فضائیہ کے نظم و ضبط، ڈسپلن، عزم و استقامت اور روایات کا حصہ ہے۔ ہمیں جہاں بھارت جیسے ازلی دشمن کی جانب سے جارحیت کے خطرات درپیش ہیں وہاں بھارتی اور اسرائیلی پراکسی افغانستان کے راستے سے ملک پر حملہ آور ہے۔ دشمن کی جارحیت اور اس کی پوشیدہ سازشوں سے ملک و قوم کا تحفظ سلامتی اور بقا کی اولین ترجیح ہے جس میں پاک فضائیہ پوری قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ افواجِ پاکستان کی تنظیم میں ترامیم کے بعد دشمن کے کسی بھی ناپاک ارادے کے ناکام بنانے کے لیے دفاعی نظام مزید بہتر ہو چکا ہے۔ حالیہ دنوں ہی پاکستان کی سیکورٹی افواج نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف ایک بھرپور آپریشن شروع کر رکھا ہے جس میں بتایا جا رہا ہے کہ پاک فضائیہ نے بھی حصہ لیا۔بعض میڈیا رپورٹوں کے مطابق افغانستان سے دراندازی کی کوشش کرنے والے خوارج کے خلاف فضائی کارروائیاں نہایت موثر ثابت ہورہی ہیں اور دہشت گردوں کو پاکستان کی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ٹھکانے لگانے کی حکمت عملی سرحد پار سے جاری دہشت گردی پر ضرب کاری قرار دی جارہی ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا میں گزشتہ چند دنوں میں سیکورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنۂ خوارج کے بیس سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔ افغانستان سے دراندازی کرنے والی ایک تشکیل کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ مختلف شہروں میں خفیہ مقامات پر چھپے ہوئے دہشت گردوں کو آپریشن کے ذریعے ہلاک کیا گیا۔ دوسری جانب بلوچستان میںبھی فتنۂ ہندوستان کے خلاف سیکورٹی فورسز نے کامیاب کارروائیاں کی ہیں جن میں متعدد دہشت گردوں کے مارے جانے کی اطلاعا ت مل رہی ہیں۔ خبروں کے مطابق چند روز قبل بلوچستان میں ایف سی اہل کاروں کی گاڑیوں پر گھات لگا کر کیے گئے حملے جس میں سولہ جوانوں کی شہادتیں ہوئی تھیں، کے جواب میں منظم اور بھرپور حملے کیے جا رہے ہیں اور اسی سلسلے میں افغانستان کے اندر مبینہ طورپر فضائی حملے کر کے دہشت گردی کے چند مراکز کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ دفاعی محکموں میں اعلیٰ عہدوں پر ہونے والے بعض تقرریوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں مزید تیزی پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔ فوج کے تعلقات عامہ کے شعبہ سے جاری کردہ ایک پیغام کے مندرجات سے واضح ہوتا ہے کہ فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندوستان کے کارندوں کے خلاف اب کسی بھی قسم کی رعایت سے کام نہیں لیا جا رہا اور موقع ہی پر انھیں ٹھکانے لگانے کا عمل جاری و ساری ہے۔
گو کہ افغانستان کے اندر فضائی حملوں کی ذرائعِ ابلاغ کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی تا ہم وزار تِ خارجہ کے بعض اہل کاروں کے حوالے سے جاری کردہ ایک بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ افغانستان سے متعلق ملک کی پالیسی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے یعنی سرحدیں بدستور بند ہیں، تجارت معطل ہے اور سفارتی تعلقات بدستور کشیدہ ہیں۔ یعنی کہ پاکستان اپنے دوٹوک موقف پر قائم ہے کہ جب تک افغان سرزمین پاکستان کے خلاف اور دہشت گردوں کے حق میں استعمال ہوتی رہے گی، معمول کے تعلقات بحال نہیں ہوں گے۔ طالبان رجیم کو اپنے عوام کی بھوک، بے روزگاری، تنگی اور تکلیف کا واقعی احساس ہے اور وہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی واقعی بحالی چاہتی ہے تو اسے دہشت گردوں کی پشت پناہی ختم کرنا ہوگی اور مطلوبہ افراد پاکستان کے سپرد کرنا ہوں گے ورنہ پاکستان کسی بھی حملے کے ردعمل میں افغانستان کے اندر موجود دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور ملک کے خلاف فساد پھیلانے والے عناصر اور ان کے مراکز کو نشانہ بنانے میں خود کو آزاد سمجھے گا۔ دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان میں ہونے والے خودکش حملوں اور دہشت گردی کی دیگر کارروائیوں کے سرا آخرکار افغانستان ہی سے جا ملتا ہے۔ سیکورٹی اداروں کے پاس اس کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ افغان طالبان وعدوں کے برخلاف اپنی سرزمین کا پاکستان مخالف استعمال روکنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔بہتر تو یہی ہے کہ پاکستان اور افغانستان باہم شیر و شکر اور پرامن بقائے باہمی کے مطابق اچھے ہمسایوں کے طور طریقے اختیار کریں لیکن افغان قیادت اس حوالے سے قطعی غیر ذمہ دار، نا اہل اور افسوس ناک حد تک سفارتی آداب اور معیارات سے نابلد ثابت ہوئی ہے،اس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔
افغانستان سے ہونے والی تزویراتی امدد اور پشت پناہی کے علاوہ پاکستان میں بھی دہشت گردوں کو لسانی، علاقائی اور مذہبی بنیادوں پر سہولت کاری حاصل ہے۔ افواجِ پاکستان کے خلاف منفی اور زہریلے پروپیگنڈے کو ہوا دی جا رہی ہے اور عین حالت جنگ میں گویا دشمن کے ہاتھ مضبوط کیے جا رہے ہیں تاکہ قوم کے حوصلے پست کیے جا سکیں۔ ان حالات میں دہشت گردوں کو صرف میدانِ جنگ ہی نہیں بلکہ نظریاتی محاذ پر بھی شکست دینا ضروری ہے جس کے لیے تمام تفریقات کو نظرانداز کر کے ریاست کو اس کے قیام کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ افغانستان سے ہم پر مسلط شدہ جنگ بظاہر مذہبی عنوان رکھتی ہے لیکن درحقیقت اس کی جڑیں ماضی کے لسانی اور علاقائی تعصبات،بالادستی کی سوچ اور دولت کی نہ ختم ہونے والی حرص میں پوشیدہ ہیں۔ ہم اس جنگ کو جس قدر جلد سمجھ لیں، اتنا ہی ہمارے حق میں بہتر ہوگا۔ اس جنگ میں فتح حاصل کرنے کے لیے جس طرح افواجِ پاکستان میں تنظیمی لحاظ سے بہتری ہوئی ہے اسی طرح ملکی نظام بھی اصلاحات کا متقاضی ہے۔ اس سلسلے میں ہر شعبے کو پاک فضائیہ جیسی اعلیٰ اور شان دار روایات کو اختیار کرنا چاہیے۔
