بحرین میں قائم امریکی بحری فوجی تنصیب ایران کے ساتھ گزشتہ چھ ماہ کے دوران جاری جنگ میں شدید نقصان کا شکار ہوئی ہے، جبکہ امریکی حکام نے اس نقصان کا اعتراف کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی مرکزی فوجی تنصیبات کے مستقبل کا جائزہ لینے کی تصدیق کی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق فروری سے جون کے دوران ایرانی حملوں میں بحرین میں قائم امریکی بحری اڈے کا کمانڈ سینٹر سمیت کم از کم 12 عمارتیں متاثر ہوئیں۔ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے اور امریکی بحریہ کے مطابق اڈہ جلد معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔
امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ایران نے بحرین میں امریکی اڈے کو “بری طرح تباہ” کیا، جس کے بعد واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں اپنے مرکزی فوجی ہیڈکوارٹر کی حکمت عملی اور مستقبل کا ازسرِنو جائزہ لے رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکی عہدیدار کے اعتراف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے بحرین میں امریکی بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر سمیت متعدد امریکی فوجی اڈوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔
رپورٹ کے مطابق اردن کے الازرق (موافق السلطی) فضائی اڈے پر ایرانی میزائل حملے میں بھی متعدد امریکی طیارے متاثر ہوئے۔ اردن کا کہنا ہے کہ 20 میں سے 18 میزائل مار گرائے گئے جبکہ دو کھلے علاقوں میں گرے، تاہم ایک اے-10 طیارے کا ایک پر تباہ ہوا اور 8 ایف-15 طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا۔
امریکی کانگریس کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق مئی تک جنگ کے دوران 42 امریکی فوجی طیارے تباہ یا متاثر ہوئے، جبکہ فروری سے اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک اور 800 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران نے مشرقِ وسطیٰ کے آٹھ ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم از کم 20 امریکی فوجی مقامات کو نقصان پہنچا، جن میں سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات اور اردن میں موجود طیارے، ہینگرز، ایندھن کے ذخائر اور میزائل دفاعی نظام بھی شامل ہیں۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے جولائی میں اردن کے موافق السلطی (الازرق) فضائی اڈے پر حملے کی منصوبہ بندی کے لیے چینی سیٹلائٹ تصاویر استعمال کیں۔ امریکی حکام نے تصاویر فراہم کرنے والے اداروں کے نام ظاہر نہیں کیے، جبکہ چین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ثبوت طلب کیے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکا مئی میں ایران کو سیٹلائٹ تصاویر فراہم کرنے کے الزام میں تین چینی کمپنیوں پر پابندیاں بھی عائد کر چکا ہے۔

