ٹرمپ کو دھچکا،فوج کاطویل جنگ لڑنے سے انکار،پارٹی بھی مخالف

واشنگٹن/تہران/تل ابیب:امریکی فوجی قیادت نے سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگستھ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کو طول دینا اب امریکا کے لیے ممکن نہیں رہا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق کئی اعلیٰ امریکی فوجی رہنمائوں نے سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگستھ کو مشورہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کو طول نہ دیا جائے۔ایک نئی انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو طویل عرصے تک جاری رکھنا قابلِ عمل نہیں ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر جنگ لمبی ہوئی تو امریکا دیگر عالمی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کھو سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جاری کارروائیاں امریکی فوجی صلاحیتوں پر ناقابلِ برداشت دبائو ڈال رہی ہیں۔ امریکی بحریہ نے بھی موجودہ فوجی آپریشنز کو غیر پائیدار قرار دے دیا۔

امریکی اخبار کے مطابق سیکرٹری دفاع کے لیے تیار کی گئی ایک حالیہ خفیہ رپورٹ سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ انتباہ آرمی، نیوی اور ائیر فورس کے سربراہان کے ساتھ ساتھ یورپ، ایشیا اور لاطینی امریکا میں امریکی آپریشنز کی نگرانی کرنے والے فور اسٹار کمانڈرز کی جانب سے دیا گیا ہے اور اس کا اظہار 14 اگست کو جاری ہونے والی خفیہ سیکرٹری آف ڈیفنس آرڈرز بک کے ایڈیشن میں کیا گیا۔

سیکرٹری آف ڈیفنس آرڈرز بک عام طور پر مہینے میں دو بار تیار کی جاتی ہے جس میں دنیا بھر میں امریکی جنگی جہازوں، طیاروں، اہلکاروں اور جنگی سازوسامان کی دستیابی کی تفصیلات درج ہوتی ہیں جبکہ اعلیٰ ترین جرنیلوں اور ایڈمرلز کی آرا اور تجاویز بھی شامل ہوتی ہیں جن کی بنیاد پر پینٹاگون اپنی ہدایات جاری کرتا ہے۔

14 اگست کو جاری ہونے والی آرڈرز بک میں مشرق وسطیٰ میں تعینات بعض امریکی فوجیوں کو ستمبر تک جبکہ کچھ کو 2027 ء تک وہیں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اخبار کے مطابق افواج کی تعیناتی میں اس طویل توسیع کے امکان نے امریکی جرنیلوں کو اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

خفیہ دستاویز کے مطابق امریکی فوج کی یورپین کمانڈ، پیسیفک کمانڈ اور سدرن کمانڈ کے سربراہان سمیت امریکی بحریہ کے سینیئر ترین ایڈمرل نے ان احکامات پر تکنیکی طور پر عدم اتفاق کا اظہار کیا ہے۔ عسکری اصطلاح میں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سیکرٹری دفاع کے فوجیوں کی توسیع کے فیصلے سے متفق نہیں ہیں تاہم بحیثیت ماتحت وہ اس حکم کی تعمیل ضرور کریں گے۔

اخبار کے مطابق امریکی عسکری قیادت کا مجموعی تاثر یہ ہے کہ 6 ماہ سے جاری ایران جنگ اب حد سے زیادہ طویل اور بوجھل ہو چکی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی عسکری قیادت کا یہ انتباہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے ایک ایسے وقت میں نیا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے جب وہ اس جنگ کو امریکا کے لیے سازگار شرائط پر ختم کرنا چاہتے ہیں جبکہ دوسری جانب ایران بھی اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ یہ جنگ امریکی عوام میں تیزی سے غیر مقبول ہو رہی ہے اور امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کو مسلسل ختم کر رہی ہے۔

دریں اثناء ریپبلکن پارٹی کے اندر یہ خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ انتخابی بوجھ بن کر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں پارٹی کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ فوجی کارروائیوں کے چھٹے ماہ میں داخل ہونے کے ساتھ ساتھ ایندھن کی قیمتوں اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے متعلق دبا ئوبھی بڑھ رہا ہے۔

خبر رساں ادارے بلومبرگ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق ریپبلکن حکمتِ عملی سازوں کا کہنا ہے کہ جنگ کا جاری رہنا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی جماعت کے لیے ایک مشکل انتخابی امتحان بن گیا ہے۔

خاص طور پر اس لیے کہ ریپبلکن ووٹرز کے ایک حصے نے گزشتہ انتخابات میں ٹرمپ کی حمایت مہنگائی کم کرنے اور بیرونِ ملک طویل جنگوں میں امریکا کی مداخلت سے گریز کے وعدوں کی بنیاد پر کی تھی۔

ڈیموکریٹس اور انتخابی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی مقبولیت میں مسلسل کمی اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اپوزیشن کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اپنی پوزیشن دوبارہ حاصل کرنے کا موقع دے سکتے ہیں۔

ایسی صورت میں ٹرمپ کے لیے اپنی دوسری مدت کے دوسرے نصف میں ایجنڈے پر عمل درآمد مشکل ہو سکتا ہے۔ سروے کے اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ریپبلکن ووٹرز میں بھی جنگ کی حمایت کم ہو رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ریپبلکنز میں فوجی کارروائیوں کی حمایت مارچ میں 77 فیصد سے کم ہو کر 69 فیصد رہ گئی ہے جبکہ ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت کی شرح 33 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

علاوہ ازیںاسرائیل نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے اپنا جوہری پروگرام یا بیلسٹک میزائل پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی تو اسرائیل ایک بار پھر حملہ کرے گا، چاہے ایران اور امریکا کے درمیان کوئی معاہدہ ہی کیوں نہ ہوجائے۔

عرب ٹی وی کے مطابق اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن نے اسرائیلی ویب سائٹ وائی نیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے جوہری یا بیلسٹک میزائل پروگرام کی بحالی کی کوشش کو اسرائیل برداشت نہیں کرے گا۔

ایلی کوہن نے کہا کہ اگر ایران نے دوبارہ یہ پروگرام شروع کرنے کی کوشش کی تو اسرائیل کارروائی کرے گا۔اسرائیلی وزیر نے دعویٰ کیا کہ اگر اسرائیل نے ایران کے خلاف حملہ نہ کیا ہوتا تو ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکا ہوتا۔

ادھرایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہاہے کہ امریکا اور اسرائیل صرف ایران ہی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کا دشمن ہے۔ایرانی سپریم لیڈر نے خلیجی ممالک کے حکمرانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے حقیقی دشمن کو پہچانیں اور اس کا مقابلہ کریں،مسلم اتحاد اسلامی انقلاب کا بنیادی اصول اور اہم پیغام ہے۔

دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ دنیا میں امن اور استحکام قائم کرنا ہے تو یہ ہمارے خطے ہی سے ابھرے گا۔تہران میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری قوت اور عزم سے کھڑی قوم کو ہتھیار ڈالنے پر کوئی بھی مجبور نہیں کرسکتا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ہم نے جنگ شروع نہیں کی اور نہ ہی ہم جنگ کے خواہاں ہیں لیکن کسی بھی جارح کے خلاف پوری قوت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

اس موقع پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ نئے علاقائی معاہدے اور انتظامات مسلم پڑوسی ممالک کا سیکورٹی کے لیے غیرملکی طاقتوں کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر انحصار کا آغاز ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی سیکورٹی مسلم ممالک کے درمیان تعاون اور خواہش کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔

شہدا کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی فوج کے کمانڈر ان چیف نے کہا کہ کسی بھی جنگ میں کامیابی کا فیصلہ اس بات سے ہوتا ہے کہ مخالف فریق اپنے اہداف حاصل کر پاتا ہے یا نہیں۔

امیر حاتمی کے مطابق ایران کے دفاعی نظام کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کے باوجود ایرانی فورسز نے آخری مرحلے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں اور میزائل و ڈرونز کے ذریعے بھرپور جواب دیا۔انہوں نے کہا کہ ایرانی فضائی دفاع نے بھی متعدد دشمن ڈرونز اور جنگی طیاروں سمیت اہم اسٹریٹجک آلات کو نقصان پہنچایا۔

ادھرایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اعلان کیا ہے کہ تہران نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کے انتظاامات کے حوالے سے سلطنتِ عمان کے ساتھ مفاہمت طے کرلی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ انتظامات اس وقت تک نافذ العمل نہیں ہوں گے جب تک امریکا اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا۔

دوسری جانب عراقی وزیراعظم کے سیکورٹی مشیر قاسم الاعرجی نے کہا ہے کہ عراق ایران اور امریکا کے درمیان رابطے کا ذریعہ بننے اور دونوں ممالک کے درمیان کسی ایسے معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کررہا ہے جو پورے خطے کے حقوق اور مفادات کو یقینی بنائے۔

الجزیرہ کو دئیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں قاسم الاعرجی نے کہا کہ عراق کے ایران اور امریکا دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور وہ ان تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

ادھرتازہ ترین تصاویر میں جنوب مشرقی ایران کے شہر بندر عباس میں واقع رجائی بندرگاہ کے میدان سامان کی لوڈنگ اور ان لوڈنگ کی معمول کی کسی بھی سرگرمی یا نقل و حرکت سے مکمل طور پر خالی دکھائی دے رہے ہیں۔

یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایرانی جہاز رانی اور تجارت کو شدید پابندیوں کا سامنا ہے۔رجائی بندرگاہ ایران کی اہم ترین تجارتی بندرگاہوں میں سے ایک ہے جو اشیا کی آمدورفت اور برآمدات میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اسی وجہ سے یہاں کی سرگرمیوں کا معیار ملک میں بحری تجارت کی صورتحال کا ایک اہم اشارہ بن جاتا ہے۔