ایران میں ایک ہفتے کے دوران 59 زلزلے ریکارڈ کیے گئے، جس کے بعد ملک میں زلزلہ خیزی اور ممکنہ خطرات کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔
تہران یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف جیو فزکس کے سیسمولوجیکل نیٹ ورکس کی رپورٹ کے مطابق 15 سے 21 اگست کے دوران ایران میں مجموعی طور پر 59 زلزلے ریکارڈ ہوئے۔ ان میں 54 زلزلوں کی شدت 3 سے کم، 3 کی شدت 3 سے 4 جبکہ 2 زلزلوں کی شدت 4 سے 5 کے درمیان رہی۔
رپورٹ کے مطابق 19 اگست کو کرمان شاہ صوبے میں آنے والے زلزلے کی شدت 4.2 ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث مختلف علاقوں میں شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق خراسان رضوی 13 زلزلوں کے ساتھ سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا، جبکہ کرمان شاہ اور کرمان میں 7،7 اور سمنان میں 6 زلزلے ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسی عرصے کے دوران تہران، مشرقی و مغربی آذربائیجان، اردبیل، البرز اور جنوبی خراسان سمیت 15 صوبوں میں کوئی زلزلہ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔
تہران یونیورسٹی کے مطابق مارچ 2025 سے مارچ 2026 کے دوران ایران بھر میں 2.5 سے زیادہ شدت کے 2 ہزار 380 زلزلے ریکارڈ کیے گئے۔ ان میں 910 زلزلوں کی شدت 3 سے زیادہ، 130 کی شدت 4 سے زیادہ جبکہ 15 زلزلوں کی شدت 5 سے زیادہ ریکارڈ ہوئی۔
ماہرین کے مطابق ایران کئی فعال ارضیاتی فالٹ لائنوں پر واقع ہونے کے باعث دنیا کے زیادہ زلزلہ خیز ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں وقفے وقفے سے آنے والے زلزلے معمول کا حصہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں آنے والے تقریباً 2 فیصد زلزلے ایران میں ریکارڈ ہوتے ہیں، 20 ویں صدی کے دوران دنیا بھر میں زلزلوں کے باعث ہونے والی اموات میں 6 فیصد سے زیادہ ایران میں رپورٹ ہوئیں۔

