چودھری رحمت علی۔ تاریخِ پاکستان کا امر نام

چودھری رحمت علی کے عشرے میں کیمبرج یونیورسٹی کے ایک ایسے ہندوستانی طالبِ علم تھے جوبھارتی مسلمانوں کے مستقبل کیلئے حد درجہ فکرمند رہتے تھے۔ دل سے خواہش مند تھے کہ بھارت میں ا ن کیلئے ایک علیحدہ خطہ حاصل کیا جائے۔ اگرچہ یہ ان کی طالب علمی کا دور تھالیکن اس دوران بھی وہ اپنے حلقہ احباب میں اسی مقصد کی خاطر مسلسل متحرک رہتے تھے۔ اس دور میں، جبکہ مسلمان کانگریس ہی کو اپنی امیدوںکا مرکز سمجھے بیٹھے تھے، چودھری صاحب نے کہنا شروع کردیا تھاکہ انگریزوں کے جانے کے بعد مسلم قوم ہندوئوں کے ساتھ مل کر کبھی نہیں رہ سکے گی۔ وہ زور دیتے تھے کہ ن پر لازم ہے کہ وہ اپنا ایک خطہ الگ حاصل کریں۔ تاہم کسی علیحدہ خطے کے حصول کی سوچ اس زمانے تک عام نہیں ہوئی تھی اور شاید ہی کوئی ان خطوط پرسوچ رہا تھا مگر چودھری رحمت علی کے نزدیک یہی راستہ اس کا واحد حل تھا اور اسی کی خاطر میںانہوںنے ایک تنظیم پاکستان نیشنل موومنٹ بھی منظم کی تھی اور معروف کتابچے Now or Neve. Are We To Live or Perish? کی بھی تصنیف کی تھی۔ یہی وہ دور تھا جب انہوںنے اپنے تصور کردہ علاقے کیلئے لفظ پاکستان کی بھی ایجاد کی تھی۔ پاکستان۔ (پاک لوگوں کی سرزمین) ایک بالکل ہی منفرد خیال جسے لیکر وہ تن تنہا بے حد اعتما د کے ساتھ چل رہے تھے۔

تاہم کسی نے بھی ایک طویل عرصے تک ان کے مذکورہ خیالات اور نام کوسنجیدگی سے نہیں لیا۔ سچ پوچھیں تو بلکہ اسے ایک طالب علم کانیم پختہ خیال سمجھ کر نظر انداز کردیا۔ چودھر رحمت علی کے دوست بتاتے ہیں کہ یہ لفظ سوچ بچار کرتے ہوئے انہیں اس وقت ذہن میں آیاتھا جب وہ لندن کی ایک بس کی اوپری منزل پر سفر کررہے تھے۔ پاکستان کے معاملے پر چودھری صاحب اس قدر بے چین رہتے تھے کہ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا کہ انہوںنے Now or Never. Are We To Live or Perish? نامی کتابچہ لکھ کر دوسری گول میز کانفرنس منعقدہ لندن دسمبر 1930کو بھارتی و برطانوی عمائدین کوبنفس نفیس پیش کیا۔ عمائدین کی خدمت میں انہوں نے گزارش کی کہ یہ کتابچہ آپ کی خدمت میں میں پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے پیش کررہا ہوں۔ وہ چاہتے تھے کہ عمائدین کانفرنس اس اہم مسئلے کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرلیں۔ انہوںنے قائد اعظم سے بھی ملاقات کی اور اپنی تحریک کی جانب متوجہ کیا۔ تجویز چونکہ بہت ہی ابتدائی ذہن کی تھی، اس لئے قائد اعظم نے جواب میں بہت مشفقت وتدبر سے سمجھایایا۔ انہوںنے کہا کہ میرے بچے جلدی نہ کرو۔ پانی کو بہنے دو۔ وہ اپنی سطح خود ہی طے کرلے گا۔ اس وقت تک قائد اعظم بھی اس راستے کی جانب مائل نہیں ہوئے تھے کیونکہ کوئی بات متعین ہی نہیں تھی۔ پانی واقعی اپنا راستہ خود بنا رہا تھا۔ یاد رہے کہ یہ وہ وقت تھا جب قائد اعظم مایوس ہوکر خود بھی لندن منتقل ہوگئے تھے۔

نائو اور نیور کتابچہ واقعی ایک قابل ِ مطالعہ دستاویز ہے جس میں انہوںنے بہت درد دل کے ساتھ اور بہت مدلل انداز سے ایک نئے اور پاک ملک کے بارے میں خیالات پیش کیے ہیں۔ کتابچے کاآغاز بھی انہوںنے قرآن حکیم کی آیت کے ایک حصے سے کیا ہے۔ اِن اللہ لایغیر مابقومِِ حتی یغیروا ما بانفسھم۔ کتاب میں ان کا دینی و تاریخی مطالعہ بھی صاف جھلکتا ہے۔ تفہیم کی خاطرہم ذیل میں کتاب کے چند پیراگرافس کا ترجمہ پیش کررہے ہیں۔ چودھری صاحب کہتے ہیں: تاریخ میںبھارت کبھی ایک واحد قومیتی ملک نہیں رہاہے۔ یہاں جتنی بھی قومیتیں رہی ہیں، سب ہی اپنا اپنا علیحدہ تشخص برقرار رکھتی رہی ہیں۔ اگر اس موقع پر مسلمانوںکو بھارت ہی میں رہنے پر مجبور کیا گیاتو ان کی حیثیت وہاں دس کے مقابلے میں ایک کی رہ جائے گی۔ ہندوئوں کے تعصب کی واضح مثال کل ہند کی عام بولی جانے والی زبان اردو کے ساتھ ان کا روا رکھا جانے والا بے رحمانہ سلوک ہے۔ برصغیر کا دفاع مسلمانوں نے ہمیشہ مکمل جوش و جذبے کے ساتھ کیا ہے۔ اس لئے ہمارے لئے یہ اب یا کبھی نہیں کا مسئلہ بن چکا ہے۔ کیاہم اپنے اسلامی ورثے اور روایات کو یوں تباہ ہوجانے دیں؟ ہم ہندوستان میں تب ہی باقی رہ سکتے ہیں جب اپنے دیرینہ عقائدسے ہاتھ نہ دھو لیں۔

چودھری رحمت علی کا ٹکسال کردہ لفظ پاکستان تب عملی شکل میں ڈھلا تھاجب مارچ 1940 میں لاہور میں قراردادِ لاہور منظور کی گئی تھی جس میں برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ مملکت کی قرارداد متفقہ طورپر منظورہوئی تھی۔ نام تو اس قرار داد کا مسلم لیگ نے سرکاری طورپر قراردادِلاہوررکھا تھا لیکن ہندو پریس نے اسے اپنے طورپر ہی قراردادِپاکستان کا نام دے دیا۔ یوں مسلم لیگ نے بھی یہ نام اپنا لیا اور پھر یہ ازخود ایک زباں زد لفظ کی حیثیت حاصل کرگیا۔ سوال یہ ہے کہ ہندوئوں کو یہ نام پاکستان کہاں سے حاصل ہوا؟ جوا ب یہی ہے کہ چودھری صاحب کا تجویز کردہ نام اس تما م عرصے میں مقبولیت ِ عامہ حاصل کرچکا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ لفظ پاکستان مذکورہ قرار دادمیں بھی موجود نہیں لیکن یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ قرارداد میں کئی جملے بلکہ ایک دو پیرے معمولی ترمیم کے ساتھ چودھری رحمت علی ہی کے شامل کئے گئے ہیں۔

اس موقع پر بہرحال ایک سوال ذہن میں یہ ضرور ابھرتا ہے کہ اس قدر اہم شخصیت کا تذکرہ تاریخِ پاکستان اور درسی کتب میں محض سرسری طورپر کیوں ملتا ہے؟ کیوں اسے دیگر قائدین ِملت کی مانند برابر کی حیثیت نہیں ملتی ؟ اس کی ایک خاص وجہ ہے۔ اگرچہ چودھری صاحب نے پاکستان کے حق میں فضااس وقت ہموار کرنا شروع کی تھی جب بہت دور تک بھی اس بارے میں کوئی مضبوط خیال ذہنوں میں نہیں پیدا ہوا تھا، تاہم عجب بات ہے کہ سنہ چالیس کے بعد جب تحریک ِ پاکستان نے قوت حاصل کرنی شروع کی تھی، ہندو و برطانوی قائدین نے اس مطالبے کو گفتگوئوں کا مرکز بنالیاتھا ا ور بر صغیر کے مسلمانوںکی عظیم اکثریت بھی اسے اپنی زندگی نصب العین طے کرچکی تھی، یعنی چودھری صاحب کے الفاظ میں اب یا کبھی نہیں کا پرچم اٹھا لیا تھا، تو اس تمام سات سالہ سخت کشمکش اور جانگسل پنجہ آزمائی کے دوران وہ کبھی بھارت دوبارہ نہ لوٹے ا و ر نہ کبھی ا س میںعملی حصہ لیا۔ جس شدومد سے انہوںنے تا بعد، تحریکِ پاکستان چلائی تھی، فطری تقاضا تھا کہ اب وہ عملی طورپر بھی اس میں شرکت کریں اور نمائندہ جماعت مسلم لیگ کو تقویت پہنچائیں لیکن نہ جانے انہوںنے ایسا کیوں نہیں کیا ؟ کوئی توجیہ ا س کی اب تک سامنے نہیں آسکی ہے۔

قیام پاکستان کے بعدا لبتہ چودھری رحمت علی مرحوم لاہور لوٹ آئے لیکن یہاں آکر وہ الٹا قائد اعظم ہی کیخلاف بیانات دینے لگے بلکہ قائد اعظم نے انہیں ایک متعین دن ملاقات کی دعوت بھی دی مگر اسے بھی انہوںنے قبول نہیں کیا۔ چودھری صاحب کا کہنا تھا کہ بائونڈری کمیشن کے اعلان کردہ کٹے پھٹے پاکستان کوقائد اعظم نے کیوں قبول کیا؟ اپنے لاہور قیام کے دوران چودھری صاحب اسی الزا م کو مسلسل دہراتے رہے۔ عجیب بات ہے کہ ان کی اس تنقید کا کسی نے بھی ساتھ نہیں دیا۔ اس وقت بھارت کیخلاف پاکستان کسی بھی اقدام کے قابل نہیں تھا۔ ادھر لارڈ مائونٹ بیٹن نے بھی بائونڈرکمیشن ایوار ڈ کے فیصلے پر متفق ہونے پر دونوں قوموں کے قائدین سے پیشگی دستخط لے لئے تھے، چنانچہ قائد اب اس کے پابند ہوکر رہ گئے تھے۔ اس تما م پس منظر میں اب چودھری رحمت علی کی نہ رکنے والی یہ تنقید عوام میں اشتعال پھیلا سکتی تھی۔ نیز ہندوئوں کو بھی نوزائیدہ مسلم ملک کیخلاف ہتھیا ر مل جانے کا خدشہ تھا۔ اس لئے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے تدبرکا مظاہرہ کرتے ہوئے چودھری رحمت علی کی نقل و حرکت کی نگرانی کرنے کی ہدایت کی جس سے مجبور ہوکر رحمت علی بالآخر دوبارہ برطانیہ لوٹ گئے جہاں ان کا انتقال ہوگیا۔ بعدازاںفروری کو ان کی تدفین عمل میں لائی گئی۔ اخراجات ان کے دوستوںنے ادا کیے، تاہم حکومت پاکستان نے میں یہ رقم انہیں واپس کردی۔ یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ایک یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیا تھا۔ تاریخ میں ان کانام امر ہوگیا ہے۔ چودھری رحمت علی صاحب مرحوم نے پاکستان کے علاوہ بھی برصغیر کے دیگر مسلم ا کثریتی علاقوں کیلئے علیحدہ آزاد خطے قائم کرنے تجویز کیے تھے جن کے نام مثلاً دینیہ اور عثمانیہ وغیرہ طے کیے تھے۔ ان کی ا یک اور خصوصیت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ وہ ایک دینی مزاج کے فرد تھیم لہٰذا اگر وہ تحریک ِپاکستان میں عملاًشریک ہوتے تو عین ممکن ہے کہ ہمیںصف ِ اول کے قائدین میں ایک مضبوط مذہبی فرد مل جاتا۔