تبصرہ: عنایت شمسی
انسان کے اندر خدا نے تجسس کی ایک ایسی حس ودیعت کر رکھی ہے، جو اسے ہر دم انفس و آفاق، اپنی ذات اور گرد و پیش اور یہاں تک کہ ما کان و ما یکون تک کے بارے میں کھود کرید اور چھان پھٹک پر آمادہ کیے رکھتی ہے۔ یہی وہ حس ہے جو انسان کے وجود میں پارہ بھر کر اسے سیماب صفت بنا دیتی ہے، اسی کا شاخسانہ ہے کہ انسان کسی ایک حال پر قائم، قانع اور باقی نہیں رہتا۔ رہ ہی نہیں سکتا۔
وہ تغیر و تلون کی تصویر بنا رہتا ہے اور ہر آن اس کے اندر سے دمادم کن فیکون کے تیشۂ فرہادی کا ساز و آہنگ بلند ہوتا رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کی مسکون دنیا اگر تہذیب و ترقی اور تمدن و ارتقا کے اوجِ کمال پر پہنچی ہوئی ہے تو دنیائے بوقلموں کی یہ ساری چکاچوند رعنائیاں انسان کی اسی خوئے تجسس کا منتِ کشِ شانہ ہیں۔ سوچیے، اگر انسان میں یہ خو نہ ہوتی تو دنیا کی کیا شکل و ہیئت ہوتی؟ قدرت کی اس کارگہِ ہست و بود میں نہ کوئی رونق ہوتی نہ میلہ ہوتا۔ نہ ترقی ہوتی نہ ارتقا ہوتا۔ نہ تمدن کے خیرہ کن نقوش ہوتے اور نہ تہذیب کی رعنائیاں ہوتیں۔ ہر طرف جمود و خمود کا دور دورہ ہوتا۔ سوچئے کہ آبِ رواں اور ایک چھوٹے سے کھڑے پانی کے حوض میں کس قدر فرقِ مرتبت ہے۔ تجسس ہی وہ قوت ہے جس نے انسان کو سمندروں کی تہہ میں اترنے اور فلک کے بیکراں راستوں میں سفر کرنے کا حوصلہ بخشا۔ اسی کے طفیل کبھی ایک سیب کے گرنے نے نیوٹن کو قوانینِ فطرت کے انکشاف تک پہنچایا اور کبھی آسمان پر جھلملاتے ستاروں نے انسان کو کائنات کے اسرار و رموز سے پردہ اٹھانے پر آمادہ کیا۔ یہی جستجو تھی جس نے انسان کو غاروں کی تاریکیوں سے نکال کر علم و حکمت کے روشن ایوانوں تک پہنچایا۔ اگر انسان سوال نہ کرتا، حیرت نہ کرتا اور دریافت کی لگن نہ رکھتا تو نہ علم کے چراغ روشن ہوتے اور نہ تاریخِ انسانی میں ارتقا کے یہ لالہ و گل بکھرے ہوتے۔
یہ بھی پڑھیں: لکھنؤ کے ”شوگر فری“ آم
یہ خوئے جستجو محض مادی ترقی کا سرچشمہ نہیں بلکہ اقوام و ملل کی تاریخی خود آگاہی کا بھی بنیادی محرک ہے۔ انسان جب اپنی اصل، اپنے ماضی، اپنے نسب، اپنی تہذیبی بنیادوں اور اپنے سماجی سفر کے بارے میں سوال اٹھاتا ہے تو تاریخ نویسی، تحقیق اور علمی کاوشوں کے در وا ہوتے ہیں۔ قومیں بھی افراد کی طرح اپنی شناخت کے سوال سے دوچار ہوتی ہیں اور پھر اسی سوال کا جواب تلاش کرتے کرتے اپنے ماضی کی بازیافت کا سفر طے کرتی ہیں۔
یہ کتاب جو آپ کے ہاتھوں میں ہے، اسی خوئے جستجو کی کوکھ سے برآمد شدہ ایک سرمایہ علم و فکر ہے اور چترال کی گجر کمیونٹی کے ایک بارسوخ، مقتدر اور محتشم قبیلے باروال کے ایک فرزند کی اسی جستجو کا ماحصل ہے۔ چترال کی گجر برادری سماجی اعتبار سے ایک پسماندہ اور حاشیے پر موجود برادری شمار ہوتی ہے۔ اس پسماندگی کے تہذیبی، تاریخی، معاشی اور سیاسی اسباب اپنی جگہ ایک مستقل بحث کے متقاضی ہیں، تاہم ان تفصیلات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اتنا عرض کرنا مقصود ہے کہ اس سماجی پسماندگی نے اس برادری کی اصل شناخت اور تاریخی نقوش کو بھی دھندلا دیا ہے۔ ممتاز مورخ و محقق ڈاکٹر مبارک علی نے جاگیرداری اور جاگیرداریت کے موضوع پر نہایت علم افروز تحقیقات پیش کی ہیں۔ ان کے مطابق کسی قوم یا قبیلے کا سماجی طور پر ابھرنا یا پچھڑ جانا طاقت اور سیاست کی کرشمہ کاری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ تکوینیات کی سنت اپنی جگہ مسلم، مگر کوئی قوم خدا کی طرف سے عزت یا ذلت اپنے ساتھ لکھوا کر دنیا میں نہیں آتی۔ پھر یہ سماجی مراتب، عزت و ذلت کی تقسیم اور قوموں کے درمیان تفاخر کے پیمانے کہاں سے پیدا ہوتے ہیں؟ ڈاکٹر مبارک علی کے نزدیک اس کی بڑی وجہ طاقت کے غیر مساوی ڈھانچے اور جاگیردارانہ نظام ہیں۔ ایک گروہ جب اقتدار اور وسائل پر قابض ہو جاتا ہے تو وہ اپنے مصالح و مفاسد کے مطابق بعض طبقات کو مراعات اور مناصب سے نوازتا ہے اور بعض کو حاشیے پر دھکیل دیتا ہے۔ یوں سماج میں طبقاتی اور نسلی مراتب کی ایک طویل زنجیر وجود میں آتی چلی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں:
تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ کتنی ہی قومیں جو کسی زمانے میں اقتدار، عزت اور سماجی برتری کی علامت سمجھی جاتی تھیں، وقت کے تغیرات کے ساتھ زوال آشنا ہو کر ایسی قلب ماہیئت سے دوچار ہوگئیں کہ اپنی شناخت تک بھلا بیٹھیں اور کتنی ہی ایسی قومیں جو کبھی پس منظر میں تھیں، تاریخ کے کسی موڑ پر ابھر کر مرکزِ نگاہ بن گئیں۔ چترال، سوات، دیر اور ملحقہ علاقوں کے گجروں کو آج عموماً ایک پسماندہ سماجی شناخت کے ساتھ جانا جاتا ہے، مگر کیا وہ ہمیشہ سے اسی حیثیت کے حامل رہے ہیں؟ اس قوم کا تاریخی ماضی کیا ہے؟ اس کی تہذیبی جڑیں کہاں پیوست ہیں؟ اقوام کی صف میں یہ ماضی میں کہاں کھڑی تھی اور آج کن حالات سے دوچار ہے؟ زیرِ نظر کتاب دراصل انہی سوالات کے جواب کی جستجو کا ماحصل ہے۔ یہ اسی تجسس کا حاصل، اسی کھوج کا ثمر اور اپنی قوم کی اصل و بنیاد کی بازیافت کی ایک اچھی کوشش ہے، جسے مفتی حنیف اللہ صاحب نے نہایت خلوص، عرق ریزی اور محبت کے ساتھ مرتب کیا ہے۔
کتاب کے نتائجِ تحقیق، بعض استدلالات یا طریقِ تحقیق کے حوالے سے اختلاف کی گنجائش کو محفوظ رکھتے ہوئے اتنا عرض کردینا یقیناً قرین انصاف ہے کہ مجموعی طور پر یہ ایک ایسی قوم اور قبیلے کے دھندلائے ہوئے نقوش کو ابھارنے اور اس کی تاریخی شناخت کو ازسرِ نو دریافت کرنے کی ایک قابلِ قدر کاوش ہے جسے حالات کے جبر نے طویل عرصے تک پسماندگی کے دھندلکوں میں دھکیلے رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس محنت کو شرفِ قبول عطا فرمائے، اسے اس راہ میں مزید علمی تحقیقات کیلئے نقطۂ آغاز بنائے اور اس کے ذریعے تاریخ و سماج کے طالب علموں کیلئے تحقیق و تفتیش کے نئے دریچے وا ہوں۔ این دعا از من و از جملۂ جہاں آمین باد۔

