پاکستان اس وقت جن بڑے صحت کے بحرانوں سے گزر رہا ہے، ان میں دل کے امراض کا تیزی سے بڑھتا ہوا رجحان سب سے زیادہ تشویشناک اور توجہ طلب مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ہارٹ اٹیک، دل کی شریانوں میں رکاوٹ اور دیگر قلبی بیماریاں زیادہ تر ضعیف العمری سے منسلک سمجھی جاتی تھیں، لیکن اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ آج تیس، چالیس اور پچاس برس کی عمر کے افراد بھی دل کے مہلک امراض کا شکار ہو رہے ہیں جبکہ نوجوانوں میں اچانک دل کا دورہ پڑنے کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ محض طبی مسئلہ نہیں بلکہ قومی پیداوار، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران دو لاکھ بیاسی ہزار سے زائد مریضوں کا ایمرجنسی سے رجوع کرنا اور بیس ہزار سے زیادہ طبی پروسیجرز کا انجام دیا جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امراضِ قلب اب کسی مخصوص طبقے یا عمر تک محدود نہیں رہے۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ آخر ہمارے معاشرے میں دل کے امراض اس قدر تیزی سے کیوں پھیل رہے ہیں؟ اس کی پہلی اور شاید سب سے بڑی وجہ ہماری بدلتی ہوئی غذائی عادات ہیں۔ چند دہائیاں پہلے تک گھریلو کھانا، تازہ سبزیاں، دالیں، دودھ، دہی اور سادہ غذا ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ تھیں، مگر اب ان کی جگہ برگر، پیزا، فرائیڈ چکن، پراسیسڈ گوشت، چپس، بیکری مصنوعات اور کولڈ ڈرنکس نے لے لی ہے۔ ذائقے اور سہولت کی خاطر ہم ایسی غذائیں استعمال کر رہے ہیں جو چکنائی، نمک، چینی اور مصنوعی اجزاء سے بھرپور ہوتی ہیں۔ یہ غذائیں بظاہر لذیذ ضرور محسوس ہوتی ہیں مگر خاموشی سے خون کی نالیوں میں چربی جمع کر کے دل کی بیماریوں کی بنیاد رکھتی رہتی ہیں۔ فاسٹ فوڈ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ایک الگ سماجی مسئلہ بن چکی ہے۔ بچے، نوجوان اور خاندان تفریح کے نام پر ہفتے میں کئی مرتبہ ایسی غذائیں کھانے لگے ہیں جن میں کیلوریز کی مقدار ضرورت سے کہیں زیادہ اور غذائیت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان غذاؤں کے نقصانات کے بارے میں عوامی شعور بھی محدود ہے اور حکومتی سطح پر مؤثر آگاہی مہمات بھی نظر نہیں آتیں۔ دل کے امراض میں اضافے کی ایک اور اہم وجہ غیر معیاری گھی اور کوکنگ آئل کا استعمال ہے۔
ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر بھی امراضِ قلب کے بڑے اسباب میں شامل ہیں۔ پاکستان پہلے ہی ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے دنیا کے سرفہرست ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ جب شوگر اور بلڈ پریشر پر مناسب کنٹرول نہ رکھا جائے تو یہ خاموشی سے دل، گردوں اور دماغ کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ باقاعدہ طبی معائنہ کرانے کو غیر ضروری سمجھتے ہیں اور بیماری کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب حالات پیچیدہ ہو چکے ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں حکومتی سطح پر ناکافی اقدام بھی کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے لیکن امراضِ قلب کے ہسپتالوں، کارڈیالوجی یونٹس، کیتھ لیبز اور تربیت یافتہ ماہرین کی تعداد اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی۔ بڑے شہروں کے چند ہسپتالوں پر پورے صوبوں کا بوجھ ڈال دینا کسی صورت مناسب حکمت عملی نہیں ہو سکتی۔ دور دراز علاقوں کے مریضوں کو سینکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کر کے بڑے شہروں تک پہنچنا پڑتا ہے اور اکثر قیمتی وقت ضائع ہونے کی وجہ سے جان بچانا ممکن نہیں رہتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر ضلع میں جدید سہولیات سے آراستہ کارڈیالوجی سینٹر قائم کیے جائیں، تحصیل سطح پر ابتدائی امراضِ قلب کی تشخیص اور علاج کی سہولت فراہم کی جائے اور ضلعی ہسپتالوں میں کارڈیک ایمرجنسی یونٹس کو فعال بنایا جائے۔ اسی طرح ایمبولینس سروس کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور طبی عملے کو ہارٹ اٹیک کی ابتدائی طبی امداد کی تربیت دینا بھی ناگزیر ہے۔ پارکس، واکنگ ٹریکس، سائیکلنگ لینز اور کھیلوں کے میدان صرف تفریحی سہولتیں نہیں بلکہ عوامی صحت میں سرمایہ کاری ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے شہروں میں رہائشی کالونیاں تو تیزی سے بن رہی ہیں مگر کھیلوں اور ورزش کی سہولتیں اسی رفتار سے نہیں بڑھ رہیں۔ میڈیا، سماجی تنظیموں، مساجد اور تعلیمی اداروں کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جس طرح پولیو، ڈینگی اور دیگر بیماریوں کے خلاف قومی مہمات چلائی گئیں۔
حقیقت یہ ہے کہ دل کے امراض کا علاج صرف ہسپتالوں، ادویات یا سرجری میں نہیں بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کے معمولات میں پوشیدہ ہے۔ متوازن غذا، باقاعدہ واک، مناسب ورزش، ذہنی سکون، تمباکو نوشی سے اجتناب اور باقاعدہ طبی معائنہ ایسے اقدامات ہیں جو ہزاروں جانیں بچا سکتے ہیں۔

