بیجنگ: چین نے آبدوز سے اسٹریٹجک بیلسٹک میزائل داغنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔چینی حکام کے مطابق یہ تجربہ معمول کے فوجی تربیتی پروگرام کا حصہ تھا اور اسے بین الاقوامی قوانین کے مطابق انجام دیا گیا۔چینی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق تجربے میں ایک ڈمی وارہیڈ سے لیس اسٹریٹجک میزائل استعمال کیا گیا، جو بحرالکاہل میں پہلے سے مقررہ ہدف پر کامیابی سے جا گرا۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ میزائل تجربے کا مقصد فوجی صلاحیتوں اور دفاعی نظام کا جائزہ لینا تھا جبکہ اس کا ہدف کسی مخصوص ملک یا خطے کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔سرکاری بیان میں مزید کہا گیا کہ اس تجربے سے قبل متعلقہ ممالک کو پیشگی اطلاع دے دی گئی تھی تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی یا غیر ضروری کشیدگی پیدا نہ ہو۔دوسری جانب جاپان نے تصدیق کی ہے کہ اسے میزائل تجربے کے بارے میں پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا تاہم ٹوکیو نے بیجنگ سے ایسے تجربات پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے بھی کہا کہ چین نے میزائل ٹیسٹ سے متعلق پیشگی اطلاع فراہم کی تھی، لیکن ان کے مطابق بیلسٹک میزائلوں کے ایسے تجربات خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق آبدوز سے اسٹریٹجک میزائل کا کامیاب تجربہ چین کی بحری دفاعی صلاحیتوں میں اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تجربات خطے میں سکیورٹی اور اسٹریٹجک توازن کے حوالے سے بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بحرالکاہل میں بڑھتی عسکری سرگرمیوں کے باعث ایشیا پیسیفک خطہ عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں چین، امریکا اور دیگر علاقائی ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط کر رہے ہیں۔

