لبنان کے کچھ دیہات اسرائیل میں شامل ہونا چاہتے ہیں: نیتن یاہو کا دعویٰ

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی لبنان کے بعض مسیحی اکثریتی دیہات اسرائیل کا حصہ بننے کے خواہاں ہیں تاکہ وہ حزب اللہ سے محفوظ رہ سکیں، تاہم متعلقہ مسیحی دیہات نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل میں شامل ہونے کی کوئی درخواست نہیں کی اور وہ اپنی لبنانی شناخت اور قومی پرچم کے وفادار ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ جنوبی لبنان کے کچھ مسیحی دیہات نے خود اسرائیل میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے، کیونکہ وہ حزب اللہ کے مخالف ہیں اور اسرائیل انہیں تحفظ فراہم کرتا ہے۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ یہ دیہات امن کے ماحول میں رہنا چاہتے ہیں اور حزب اللہ سے محفوظ رہنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے نہ تو ان دیہات کے نام بتائے اور نہ ہی اپنے دعوے کے حق میں کوئی مزید تفصیل فراہم کی۔

دوسری جانب جنوبی لبنان کے مسیحی دیہات نے جمعہ کو سامنے آنے والی ایسی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں نے اسرائیل میں شامل ہونے کی کوئی درخواست نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی فرد یا مقامی ادارے کو ایسا فیصلہ کرنے کا نہ اختیار حاصل ہے اور نہ ہی قانونی حق۔

مسیحی دیہات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ اپنی سرزمین پر قائم ہیں اور لبنانی پرچم سے مکمل وفاداری رکھتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یہی ان کی قومی شناخت ہے اور وہ اس پر قائم رہیں گے۔