سعودی عرب کے تاریخی شہر جدہ میں قائم بحیرہ احمر میوزیم اسلامی بحری ورثے کے نادر تاریخی آلات کو محفوظ رکھنے کا منفرد مرکز بن گیا ہے۔ میوزیم میں 400 سال قدیم قبلہ نما، قطب نما اور دھوپ گھڑیوں سمیت 20 سے زائد تاریخی نوادرات موجود ہیں، جو اسلامی تہذیب میں جہاز رانی، علمِ فلکیات اور مذہبی روایات کے باہمی تعلق کی عکاسی کرتے ہیں ۔
عرب میڈیا ذرائع کے مطابق میوزیم میں موجود 20 سے زائد نایاب آلات میں بعض کی عمر 400 برس سے بھی زیادہ ہے، جنہیں سترہویں سے بیسویں صدی عیسوی کے درمیان تانبے، چاندی، لکڑی، ہاتھی دانت اور شیشے سے تیار کیا گیا۔
نمائش میں شامل قبلہ نما، قطب نما اور دھوپ گھڑیاں نہ صرف جہاز رانی اور سمت کے تعین میں استعمال ہوتی تھیں بلکہ مسافروں اور ملاحوں کو دورانِ سفر مکہ مکرمہ کی سمت معلوم کرنے اور نماز کی ادائیگی میں بھی معاون ثابت ہوتی تھیں۔ ان آلات پر قرآنی آیات، دعائیں اور اسلامی نقش و نگار کندہ ہیں، جو اسلامی تہذیب میں سائنس اور مذہبی اقدار کے امتزاج کی نمائندگی کرتے ہیں۔
میوزیم میں رکھی گئی دھوپ گھڑیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ اسلامی تہذیب نے سورج کی حرکت کی بنیاد پر وقت اور نماز کے اوقات کے تعین میں نمایاں سائنسی ترقی حاصل کی۔ یہ آلات علمِ فلکیات اور جہاز رانی کے عملی استعمال کی بہترین مثال سمجھے جاتے ہیں۔
نمایاں نوادرات میں انیسویں صدی کا ایک قبلہ نما اور قطب نما بھی شامل ہے، جس پر بحیرہ احمر، اس کے ساحلی شہروں اور کعبہ مشرفہ کا نقشہ بنایا گیا ہے۔ یہ تاریخی شاہکار بحیرہ احمر کے ذریعے تجارت، جہاز رانی اور حج کے قدیم راستوں کے گہرے تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ کاوشیں تاریخی جدہ کو عالمی ثقافتی مرکز کے طور پر فروغ دینے اور سعودی عرب کے ویژن 2030 ء کے ثقافتی اہداف کے حصول کی جانب اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

