بھارتی آبی دہشت گردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟

مارچ انیس سو اڑتالیس کا واقعہ ہے۔ پاکستان بنے ابھی سات ماہ ہی ہوئے تھے کہ بھارت نے پنجاب کو سیراب کرنے والی دو نہروں کا پانی روک دیا۔ پانچ ہفتوں تک ہمارے پنجاب کی قابل کاشت زمین کا خاصا بڑا حصہ پانی کی بوند بوند کو ترستا رہا۔ اسی بحران نے سعادت حسن منٹو سے وہ افسانہ لکھوایا جس کا نام انہوں نے ‘یزید’ رکھا۔ افسانے کا مرکزی کردار اپنے نومولود بیٹے کا نام ‘یزید’ رکھتا ہے تو گاؤں والے حیران رہ جاتے ہیں۔ وہ سادگی سے جواب دیتا ہے کہ ضروری نہیں یہ بھی وہی ‘یزید’ ہو، اس نے پانی بند کیا تھا، یہ کھولے گا۔ یہ حوالہ اس لیے یاد آیا کہ آج اٹھہتر برس بعد بھی کہانی وہیں کھڑی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انیس سو اڑتالیس والے بھارت نے دنیا کی نظروں کا لحاظ کیا اور بارہ برس بعد عالمی بینک کی ثالثی میں سندھ طاس معاہدہ کر لیا۔ آج کا بھارت نقاب اتار چکا ہے۔ اب وہ ڈھکے چھپے لفظوں میں نہیں بلکہ ببانگ دہل کہہ رہا ہے کہ پاکستان کو پانی نہیں دیں گے۔

صورتحال کس قدر بگڑ چکی ہے؟
اپریل دو ہزار پچیس میں پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تو خاکسار نے اپنے تفصیلی کالم میں لکھا تھا کہ بھارت فوری طور پر ہمارے دریاؤں کا پانی نہیں روک سکتا، البتہ مستقبل کے لیے ہوشیار رہنا ہو گا۔ وہ مستقبل اب ہماری دہلیز پر آ کھڑا ہوا ہے۔گزشتہ مہینے بھارتی وزارت خارجہ نے دو ٹوک کہا کہ معاہدہ معطل ہی رہے گا۔ اس سے آگے بڑھ کر بھارتی وزیر آبی وسائل سی آر پاٹل نے کہا کہ نئی دہلی اس پر کام کر رہا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان کو ایک قطرہ پانی نہ ملے۔’ایک قطرہ نہ ملے’، یہ الفاظ کسی جنونی اینکر کے نہیں، بھارتی کابینہ کے ایک وزیر کے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں معاملہ محض آبی تنازع نہیں رہتا۔ جب ایک ریاست جان بوجھ کر دوسرے ملک کی خوراک، زراعت اور انسانی زندگی کو نقصان پہنچانے کے لیے پانی کو سیاسی ہتھیار بنائے تو اسے دنیا بھر میں واٹر ویپنائزیشن یا آبی دہشت گردی کہا جاتاہے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ صرف پانی روکنا دہشت گردی نہیں بلکہ اسے سیاسی ہتھیار بنا لینا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔

بھارتی منصوبوں کو تین حصوں میں تقسیم کر کے سمجھا جا سکتا ہے۔ پہلا حصہ وہ ہے جو ہو چکا۔ معاہدہ معطل کرتے ہی بھارت نے بگلیہار ڈیم سے چناب کا پانی روکا اور پھر سلال اور بگلیہار کے ذخائر کی فلشنگ کی، یعنی ڈیموں میں جمع مٹی اور گاد نکال کر ان کی گنجائش بڑھائی گئی۔ یہ کام معاہدے کے تحت مخصوص طریقے اور موسم میں، پاکستان کو پیشگی اطلاع دے کر ہونا چاہیے تھا مگر بھارت نے بے موسم، بغیر بتائے کیا۔فلشنگ بظاہر تکنیکی عمل ہے مگر اس کا مطلب سمجھیں، بھارت اپنے موجودہ ڈیموں کو زیادہ پانی روکنے کے قابل بنا رہا ہے۔ اسی عرصے میں ڈیٹا کی فراہمی بھی بند کر دی گئی۔ ہمارے انڈس واٹر کمشنر کے مطابق ماہانہ ڈیٹا عرصے سے نہیں مل رہا، چناب کے معاملے پر بھارتی کمشنر کو چار خط لکھے گئے، جواب ایک کا بھی نہیں آیا۔انڈین پلاننگ کا دوسرا حصہ وہ ہے جو ہو رہا ہے۔ چناب اور جہلم کے بہاؤ میں اپریل دو ہزار پچیس سے اچانک اور غیر معمولی اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ ایک موقع پر بھارت نے اچانک اٹھاون ہزار کیوسک سے زائد پانی چناب میں چھوڑ دیا اور پھر ڈیم بھرنے کے لیے بہاؤ تقریباً صفر تک گرا دیا۔ ہمارے کمشنر نے اسے اسٹریٹجک خطرہ قرار دیا اور ان کا یہ جملہ سو فیصد درست ہے کہ ڈیٹا کے پانی کے بہاؤ میں نیچے واقع پاکستان جیسا ملک اندازے لگانے پر مجبور ہے کہ فطرت سے مقابلہ کرے یا اوپر بیٹھے ملک کی کارروائی سے۔

بھارتی پلاننگ کا تیسرا اور سب سے خطرناک حصہ وہ ہے جو بھارت مستقبل میں کرنے جا رہا ہے۔ خود بھارتی میڈیا کے مطابق چناب کا پانی سرنگ کے ذریعے دریائے بیاس میں منتقل کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ بیاس مشرقی دریا ہے جو معاہدے کے تحت مکمل طور پر بھارت کا ہے، یعنی چناب کا پانی ایک بار بیاس میں گیا تو ہمیشہ کے لیے پاکستان کی پہنچ سے نکل جائے گا۔یہ پانی روکنا نہیں، پانی چرانا ہے اور ہمارے دفتر خارجہ نے بجا طور پر اسے معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ بھارت مغربی دریاؤں پر نئے منصوبوں کی رفتار بڑھا رہا ہے اور ایسا انفراسٹرکچر بڑھا رہا ہے جو پاکستان کو الاٹ شدہ پانی کنٹرول کرنے کی کیپسیٹی رکھتا ہو۔ یاد رہے کہ انڈس واٹر ٹریٹی نے بھارت کو مغربی دریاؤں پر صرف رن آف دی ریور منصوبوں کی اجازت دی تھی، یعنی بہتے پانی سے بجلی بناؤ اور پانی آگے جانے دیا جائے۔

چند اعداد ذہن میں رکھیں تو معاملے کی سنگینی کھلتی ہے۔ ہر دس میں سے نو پاکستانی سندھ طاس میں آباد ہیں۔ ہماری نوے فیصد سے زائد فصلیں انہی دریاؤں سے سیراب ہوتی ہیں۔ ملک کے تمام اکیس پن بجلی گھر اسی طاس میں ہیں۔ زراعت معیشت کا چوتھائی حصہ اور دو تہائی افرادی قوت کا روزگار ہے۔ اب اسے کسانوں کے نقطہ نظر سے دیکھیں۔ چناب کا بے ترتیب بہاؤ سب سے پہلے پنجاب کی گندم پر وار کرتا ہے۔ بوائی کے دنوں میں پانی نہ ملے تو فصل بیٹھ جاتی ہے اور جب کھڑی فصل کو ریلے کی ضرورت نہ ہو تب اچانک پانی چھوڑ دیا جائے تو کھیت ڈوب جاتے ہیں۔ لاکھوں ایکڑ کی آبپاشی اس اتار چڑھاؤ سے متاثر ہو رہی ہے اور کسان کم پیداوار اور بڑھتے قرضوں کی چکی میں پس رہا ہے۔ پانی کم ہو تو صوبوں کے درمیان تقسیم کا جھگڑا بڑھتا ہے۔ سندھ پہلے ہی پنجاب پر زیادہ پانی لینے کا الزام لگاتا رہتا ہے۔ میری رائے میں بھارت کا ایک ہدف یہ بھی ہے کہ پانی گھٹا کر پاکستانی صوبوں کو آپس میں لڑا دیا جائے۔ ہمیں یہ چال سمجھنی چاہیے۔ (جاری ہے)