رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بعض اوقات ایک بیان کئی برسوں سے قائم تصورات، الزامات اور پروپیگنڈوں کی حقیقت کھول دیتا ہے۔ حالیہ دنوں لبنان کی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کا بیان بھی اسی نوعیت کا ایک اہم واقعہ ہے جس نے شام کی نئی قیادت، اس کی سیاسی ترجیحات اور اس کے بارے میں پھیلائے جانے والے متعدد دعووں کو ازسرِنو زیر بحث لاکھڑا کیا ہے۔
شامی صدر احمدالشرع نے چند روز قبل ایک اہم گفتگو میں واضح کیا تھا کہ اگرچہ شام اور لبنان کے درمیان بعض سرحدی اور علاقائی تنازعات موجود ہیں اور بعض علاقوں کی ملکیت کے حوالے سے اختلافات بھی پائے جاتے ہیں، لیکن موجودہ حالات میں شام ان معاملات کو بنیاد بناکر لبنان میں کسی قسم کی فوجی مداخلت نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحدوں کے تعین اور متنازع علاقوں کے مسائل اس وقت شام کی ترجیح نہیں ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب لبنان خود شدید بحرانوں اور اسرائیلی جارحیت کا سامنا کر رہا ہے۔ اس بیان کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے خود اعتراف کیا کہ شام پر دباو ڈالا گیا تھا کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف مداخلت کرے، لیکن شامی حکومت نے اس دباو کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ ان کے مطابق بعض قوتیں چاہتی تھیں کہ شام حزب اللہ کے خلاف ایک نیا محاذ کھولے مگر دمشق نے اس راستے پر چلنے سے گریز کیا، جس پر حزب سربراہ نے ان کا شکریہ ادا کیا۔
یہ اعتراف معمولی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شامی خانہ جنگی کے دوران حزب اللہ نے بشار الاسد حکومت کی حمایت میں براہِ راست عسکری کردار ادا کیا تھا۔ شام کے اندر ایک بڑا طبقہ آج بھی اس دور کو تلخ یادوں کے ساتھ یاد کرتا ہے۔ ہزاروں شامیوں کے نزدیک حزب اللہ صرف ایک لبنانی مزاحمتی تنظیم نہیں بلکہ خانہ جنگی میں فریق بننے والی قوت بھی رہی ہے۔ اسی لیے اگر شام کی نئی حکومت ماضی کی تلخیوں کو بنیاد بنا کر حزب اللہ کے خلاف کوئی اقدام کرتی تو بہت سے لوگ اسے غیرمتوقع قرار نہ دیتے۔ تاہم احمدالشرع نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے اس حقیقت کے باوجود کہ شام کے اندر حزب اللہ کے کردار پر شدید تنقید موجود ہے، لبنان میں جاری کشیدگی کو شام کے لیے انتقام یا حساب چکانے کا موقع نہیں بنایا۔ یہ فیصلہ سیاسی لحاظ سے بھی اہم ہے اور اخلاقی اعتبار سے بھی۔
اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ نئی شامی قیادت اپنی خارجہ پالیسی کو جذبات، انتقام اور ماضی کی دشمنیوں کے بجائے ریاستی مفادات اور خطے کے استحکام کی بنیاد پر ترتیب دینا چاہتی ہے۔ اس واقعے کا ایک دوسرا پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے بعض سیاسی اور فکری حلقوں کی جانب سے مسلسل یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ شام کی موجودہ حکومت امریکا یا اسرائیل کے مفادات کی نمائندہ ہے اور اس کی پالیسیاں بیرونی طاقتوں کے اشاروں پر تشکیل پاتی ہیں۔ لیکن اگر یہ دعویٰ درست ہوتا تو موجودہ حالات شام کے لیے ایسا موقع تھے جس سے اسرائیل کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکتا تھا۔ اگر شام حزب اللہ کے خلاف محاذ کھول دیتا تو لبنان مزید کمزور ہوتا، حزب اللہ پر دباو بڑھتا اور اسرائیل کو ایک اضافی تزویراتی فائدہ حاصل ہوجاتا۔ لیکن دمشق نے ایسا کرنے سے انکار کیا اور عملاً اس بیانیے کو کمزور کردیا جو اسے محض بیرونی طاقتوں کا آلہ کار قرار دیتا ہے۔
درحقیقت احمدالشرع کی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو ان کے سامنے دو بنیادی ترجیحات واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں؛ پہلی ترجیح ریاستِ شام کی بحالی ہے۔ تیرہ برس سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی خانہ جنگی نے ملک کو جغرافیائی، سیاسی اور سماجی طور پر تقسیم کردیا۔ مختلف علاقوں میں مختلف مسلح گروہ سرگرم رہے، بعض خطے نیم خودمختار حیثیت اختیار کرگئے اور ریاستی ادارے شدید کمزوری کا شکار ہوئے۔ موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ پورے ملک کو دوبارہ ایک مضبوط ریاستی ڈھانچے کے تحت متحد کیا جائے، فوج اور سکیورٹی اداروں کو منظم کیا جائے اور داخلی استحکام کو یقینی بنایا جائے۔ دوسری ترجیح شام کو نئی علاقائی جنگوں سے دُور رکھنا ہے۔ شامی عوام ایک دہائی سے زائد عرصے تک ایسی جنگ کا شکار رہے جس نے ان کے شہروں، معیشت، تعلیمی نظام اور سماجی ڈھانچے کو تباہ کردیا۔ لاکھوں افراد جان سے گئے، کروڑوں بے گھر ہوئے اور نصف سے زیادہ آبادی کسی نہ کسی شکل میں ہجرت، غربت یا عدم استحکام کا شکار بنی۔ ایسے حالات میں شام کے لیے سب سے بڑی ضرورت نئی جنگوں میں کودنا نہیں بلکہ اپنے زخموں پر مرہم رکھنا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شام گزشتہ برسوں میں علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کی کشمکش کا میدان بنا رہا۔ مختلف ممالک نے اپنے اپنے مفادات کے تحت وہاں مداخلت کی، مختلف گروہوں کی حمایت کی اور شامی سرزمین کو پراکسی جنگوں کے لیے استعمال کیا۔ اس تمام صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان عام شامی عوام نے اٹھایا۔ اسی لیے آج شام کے اندر امن، تعمیرِنو اور سیاسی استحکام کی خواہش کسی بھی دوسرے نعرے سے زیادہ طاقتور دکھائی دیتی ہے۔ نعیم قاسم کا حالیہ اعتراف اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس نے شام کی موجودہ قیادت کے ایک ایسے رویے کی تصدیق کردی جسے اس کے حامی مدت سے بیان کرتے آرہے تھے۔ اگرچہ اس اعتراف کے ساتھ شامی خانہ جنگی کے دوران حزب اللہ کے کردار پر اظہارِ افسوس بھی سامنے آتا تو یہ ایک اور مثبت قدم ہوتا، تاہم موجودہ بیان بہرحال اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ دمشق نے ماضی کی تلخیوں کے باوجود ایک نئے محاذ کے قیام سے گریز کیا۔
آج شام کی ضرورت انتقام نہیں بلکہ تعمیر ہے، نئی جنگ نہیں بلکہ استحکام ہے اور علاقائی کشمکش میں الجھنا نہیں بلکہ اپنے عوام کو سکون، روزگار اور معمول کی زندگی فراہم کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احمدالشرع کی حالیہ پالیسی کو بہت سے مبصرین شام کی داخلی ترجیحات کے عین مطابق قرار دے رہے ہیں۔ حالیہ واقعات نے کم ازکم اتنا ضرور ثابت کیا ہے کہ شام کی موجودہ قیادت نے لبنان کے معاملے میں وہ راستہ اختیار کیا جو خطے میں مزید خونریزی کے بجائے نسبتاً تحمل، تدبر اور سیاسی ذمہ داری کا مظہر سمجھا جاسکتا ہے۔ شاید یہی وہ نکتہ ہے جسے نظرانداز کر کے شام کے بارے میں رائے قائم کرنا آسان تو ہوسکتا ہے مگر منصفانہ نہیں۔ حالات کا غیرجانب دارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس معاملے میں دمشق نے جنگ کے بجائے استحکام، انتقام کے بجائے تحمل اور علاقائی کشیدگی کے بجائے سیاسی حکمت کو ترجیح دی اور یہی وہ فیصلہ ہے جس نے شام کے بارے میں رائج بہت سے مفروضات کو ایک مرتبہ پھر سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔

