بھارت میں چار سکھوں کی گرفتاری کے لیے فوج طلب

بھارت کی ریاست اتراکھنڈ کے ضلع ردرا پریاگ میں واقع ناگراسو گردوارے میں تلواروں اور نیزوں سے لیس نہنگ سکھوں اور پولیس کے درمیان چوتھے دن بھی تناؤ برقرار ہے۔ یہ پورا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب نہنگ سکھوں کے ایک گروپ نے گردوارے پر قبضہ کر لیا اور ایک سیوادار سمیت دو سکھ زائرین کو چھت پر یرغمال بنا لیا۔ بات پولیس کے بس سے باہر نکلی تو قبضہ چھڑانے کے لیے فوج کو طلب کرلیا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نہنگ سکھوں کا مطالبہ ہے کہ ان کے ان چار ساتھیوں کو فوری رہا کیا جائے جنہیں 16 جون کو ضلع چمولی میں مقامی لوگوں کے ساتھ پارکنگ کے تنازع پر ہونے والی لڑائی کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

تاہم اب مذاکرات کے بعد صورتحال کچھ بہتر ہو رہی ہے اور وہاں موجود سات نہنگ سکھوں میں سے تین گردوارے سے باہر آ چکے ہیں جبکہ دو یرغمالیوں کو بھی چھڑوا لیا گیا ہے، لیکن چار نہنگ سکھ اب بھی ہتھیاروں کے ساتھ اندر موجود ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، ردرا پریاگ کے قصبے ناگراسو میں پولیس اور نیم فوجی دستے انڈو تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

اس سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان نے اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کو فون کیا اور ان سے درخواست کی کہ اس پورے مسئلے کو لڑائی کے بجائے بات چیت اور امن سے حل کیا جائے۔

بھگونت مان نے اتراکھنڈ کی حکومت کو اپنی طرف سے ہر ممکن مدد دینے کی پیشکش بھی کی۔

اس گفتگو کے بعد اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”میں نے ان سے بات کی ہے اور انہیں یقین دلایا ہے کہ ہم بالکل انصاف سے کام لیں گے اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔“

پولیس کے اعلیٰ افسر راجیو سورپ نے بتایا کہ نہنگ سکھوں کے ساتھ مسلسل بات چیت کے بعد ہفتے اور اتوار کے روز دونوں یرغمالیوں کو بحفاظت آزاد کروا لیا گیا تھا۔