ہم آئی ایس آئی افسران کی موجودگی میں قانون سازی کرتے تھے، وزیر دفاع

اسلام آباد:قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا جہاں بجٹ پر بحث کے دوران اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی جنید اکبر خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ تیسری بار قومی اسمبلی میں آئے ہیں اور اگر کسی کا حق مار کر اسمبلی میں پہنچے ہیں تو ان پر بھی لعنت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایوان میں ہر شخص اداروں کے سربراہان کی تعریفیں کرتا ہے کیونکہ انہیں یقین ہے کہ دوبارہ بھی انہی کے ذریعے اقتدار میں آئیں گے، اسٹیبلشمنٹ کی مسلط کردہ حکومت کو چار سال ہوگئے ہیں۔حکومت کا غریب عوام سے کوئی تعلق نہیں اور وزیراعظم بھی ہر کام کی اجازت لے کر آتے ہیں۔

اس کے جواب میں پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ اداروں اور ان کی قیادت کی تعریف کارکردگی کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت نے عالمی حالات میں ایسا کردار ادا کیا جسے طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دنیا کو تیسری جنگ عظیم سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر ایک ہیرو ہیں، چاہے کوئی مانے یا نہ مانے۔

عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ پیپلز پارٹی پر سودے بازی کے الزامات لگائے جاتے ہیں، تاہم ان کی جماعت صرف ملک کے مفاد میں فیصلے کرتی ہے، کسی سیاسی جماعت کے مفاد میں نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر غریب آدمی کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں تو تمام معاشی اعداد و شمار بے معنی ہیں۔

قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث جاری ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت اور اپوزیشن میں ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہوئے اپنا ماضی بھول جاتے ہیں، اس ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کی قیادت بیٹھتی ہے، جب ہم کرسیاں تبدیل ہوتے ہی الفاظ بدل لیتے ہیں۔

سابق اسپیکر اسد قیصر کے گھر جنرل فیض کے بھیجے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرتے تھے، میں اعتراف کرتا ہوں کہ اسد قیصر کے گھر ہم آئی ایس آئی کے افسران کی موجودگی میں قوانین کی نوک پلک درست کرتے تھے، میں اپنے ضمیر کا بوجھ سچ بول کر ہلکا کرنا چاہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم اینٹی منی لانڈرنگ سمیت متعدد بلز پر پر ترامیم لارہے تھے تو ہماری سمت آئی ایس آئی کے افسران درست کرتے تھے، اب یہ ہمیں طعنے دیتے ہیں حالانکہ یہی سب کچھ یہ کرتے رہے ہیں، ہمیں کس منہ سے طعنے دیتے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ امریکا و ایران کے معاہدے میں پاکستان ناممکن کو ممکن کر دکھایا، بھارت کے ساتھ جنگ میں بھی پاکستان نے وہ کر دکھایا جس کا کسی نے سوچا بھی نہیں تھا، یہ دونوں فخر ہمارے سب کے لئے ہے، مودی نے معاہدے پر ٹرمپ کو مبارک باد دی مگر پاکستان کا نام تک نہیں لیا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے ساتھ کام کرنے والی ٹیم قابلِ تحسین ہے اور سب کو اس پر شکر گزار ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ صورتحال اور سیکورٹی چیلنجز کے تناظر میں ایسے مواقع کم ہی آتے ہیں جن میں ریاستی ادارے اور سیاسی قیادت ایک صفحے پر ہوں۔

خواجہ آصف کے مطابق بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے حالیہ بیان میں پاکستان کا نام لیے بغیر بات کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صورتحال کی حساسیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سکیورٹی اور راستوں کی صورتحال تشویشناک ہے اور اس کے ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کرنا ضروری ہے۔