اسلام آباد:سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس شاہد وحید نے اہم فیصلہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا۔
جج کے لیے معیار صرف بے گناہی نہیں بلکہ بے داغ کردار بھی ہے، جج کی خراب شہرت پورے عدالتی نظام کو نقصان پہنچاتی ہے ایسا جج جس کی دیانت داری پر سوال ہو اسے منصب پر برقرار رکھنا عدلیہ کے بطور ادارہ مفادات کے منافی ہے۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وہاڑی محمد افضل زاہد کی برطرفی کا فیصلہ بحال کردیا جبکہ لاہور ہائی کورٹ کی اپیل منظور کر لی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سرکاری ملازم اور ایک جج کو برابر نہیں ٹھہرایا جاسکتا،سرکاری ملازم کی معمولی کوتاہی جبری ریٹائرمنٹ کا باعث بن سکتی ہے، ایک جج کی دیانت داری او ر ساکھ اہم ہوتی ہے، جج کی اہلیت کو اس کے فیصلوں کے ذریعے جبکہ اس کی دیانت کو شہرت کے ترازو سے تولا جاتا ہے۔
درست فیصلہ دینے والا جج عوامی ذہن میں داغ دار ہو تو اس کے فیصلے کو شک کی نظر سے دیکھا جائے گا، جج کی دیانت اور ساکھ پر عوامی اعتماد نہ ہو تو اس کا اثر قانون کی حکمرانی کے پورے ڈھانچے تک پھیل جاتا ہے۔

