لبنان میں جھڑپوں کے بعد سیز فائر،ایران امریکا مذاکرات میں تاخیر

جنیوا/اسلام آباد/واشنگٹن/بیروت/تہران/تل ابیب:ایران اور امریکا کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے طے شدہ مذاکرات اچانک منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہائوس نے کہا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی مذاکرات کیلئے سوئٹزرلینڈ نہیں جارہے۔دوسری جانب سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے بھی طے شدہ مذاکرات کی منسوخی کی تصدیق کی۔

سوئس حکام نے کہا کہ جمعہ کو ہونے والے مذاکرات اب طے شدہ شیڈول کے مطابق نہیں ہوں گے۔وائٹ ہائوس کے ترجمان نے بھی کہا کہ مذاکرات کی تیاری جاری تھی اور امریکی وفد روانگی کے لیے تیار تھا تاہم بات چیت کے انتظامی اور سفارتی معاملات حتمی شکل اختیار نہ کر سکے۔

ترجمان نے کہا کہ مذاکرات کا لائحہ عمل ہمیشہ پیچیدہ اور غیر متوقع رہا ہے،فی الحال جے ڈی وینس کا دورہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔ادھرامریکا کے بعد ایرانی حکام نے بھی سوئٹزرلینڈ میں امن مذاکرات کیلئے دورہ ملتوی کردیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے خبرایجنسی سے گفتگو میں بتایا کہ اسرائیل کی لبنان میں جاری جارحیت کی بنا پر سوئٹزرلینڈ کا دورہ ملتوی کردیا گیا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق مذاکرات کے مقام کا فی الحال ابھی تک کوئی حتمی تعین نہیں کیا گیا ہے۔

دریں اثناء پاکستان کے دفترخارجہ حکام کے مطابق امریکا ایران تکنیکی مذاکرات کو ملتوی قرار نہیں دیا جاسکتا، مذاکرات کا فیز ٹو دوچار روز میں بھی شروع ہوسکتا ہے۔

دفتر خارجہ حکام کا کہنا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات ہونے ہی ہونے ہیں، محرم کے بعد امریکا ایران مذاکرات کا دوسرا دور ہوگا، امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوچکے، جب دستخط ہوگئے تو پھر سوئٹزرلینڈ جانے کا کوئی جواز نہ تھا۔

نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے بھی ان افواہوں کی تردید کردی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں کوئی تعطل آیا ہے اور واضح کیا کہ محرم کی آمد کی وجہ سے دوسرے مرحلے کے مذاکرات میں کچھ تاخیر ہوئی ہے کیونکہ جولائی کے پہلے ہفتے میں خامنہ ای کی تدفین کی رسومات ادا کی جانی ہیں۔

صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کا کہنا تھا کہ بات چیت کے عمل میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہوئی بلکہ طے شدہ پلان کے مطابق اب ہمیں 60 روز کے اندر اندر دوسرے مرحلے کے ان مذاکرات کو ہر صورت مکمل کرنا ہے۔

علاوہ ازیںاسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لبنان میںشدید ترین لڑائی کے بعد امریکی مداخلت کے باعث جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا جو مقامی وقت کے مطابق شام 4 بجے سے نافذ العمل ہو چکی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ معاہدہ امریکا اور قطر کی ثالثی سے طے پایا جس میں امریکا نے اسرائیل سے جبکہ قطر نے ایران سے بات چیت کی۔ایک اسرائیلی ذریعے نے عبرانی میڈیا کو تصدیق کی کہ جنگ بندی نافذ ہو چکی ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے بفر زون میں موجود رہے گی۔

ذرائع کے مطابق اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے کوئی حملہ کیا گیا تو اس کا جواب دیا جائے گا۔ادھرلبنانی وزارت صحت عامہ کے ہیلتھ ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق گذشتہ رات سے صبح تک جنوبی لبنان کے کئی قصبوں کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملوں کے شدید سلسلے کے نتیجے میں 28 افرادجاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد لبنان پر اسرائیلی حملوں کی یہ ”سب سے شدید لہر” ہے۔خبرایجنسی نے بتایا کہ قابض اسرائیل نے جمعہ کی صبح سویرے جنوبی لبنان کے کئی دیہاتوں میں رہائشی مکانات کو فضائی حملوں سے نشانہ بنا کر کئی قتل عام کیے۔

مزید کہا گیا کہ ”یہ رات ملک پر اسرائیلی جارحیت کے دوران سب سے مشکل راتوں میں سے ایک تھی”جو دو مارچ کو شروع ہوئی تھی۔

سرکاری ذرائع نے صبح سویرے اطلاع دی کہ فضائی حملوں کی شدت کے باعث ایمبولینس اور شہری دفاع کی ٹیموں کو امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہ بعض متاثرہ علاقوں سے لاشوں اور زخمیوں کو نکالنے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری رہنے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی توپ خانے نے نبطیہ شہر، کفر جوز، کفر رمان اور زبدین سمیت کئی قریبی قصبوں پر گولہ باری کی، اس کے بعد فضائی حملوں کی لہر نے کفر تبنیت اور ریحان کی پہاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا۔

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر بن گویرنے کہا ہے کہ ہمیں پورے لبنان کو جلا دینا چاہیے۔ لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوجیوں کی جھڑپ میں ایک افسر سمیت4 اسرائیلی فوجی مارے گئے جس کے بعد اسرائیلی وزیر کا اشتعال انگیز بیان سامنے آیا۔

بن گویر نے کہاکہ اسرائیل کو دنیا پر واضح کرنا چاہیے کہ اس کے شہریوں کے خون کا بدلہ لیا جائے گا، پورے لبنان کو جلایا جانا چاہیے اور ہر اسرائیلی ماں کے آنسو کے بدلے ہزار لبنانی مائوں کو رونا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں سخت اور فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت ہے،اب سخت ترین اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔

ادھرفرانس کے وزیر خارجہ ژاں نویل بارو نے کہا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی جارحیت اور فوجی کارروائیوں کو روکنے کے لیے امریکا کو اسرائیل پر دبائو ڈالنا چاہئے۔فرانسیسی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ ژاں نویل بارو نے کہا کہ فرانس اب بھی لبنانی فوج کی حمایت کے لیے عالمی امداد اور تعاون کو متحرک کرنے کے مقصد سے ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد پر کام کر رہا ہے۔

قبل ازیںامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر میری مداخلت نہ ہوتی تو اسرائیل تباہ ہو چکا ہوتا، نیتن یاہو کوکسی حد تک متوازن رکھنا ہوگا۔ایگزیوس کو انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں اسرائیل کو لبنان پر حملہ کرنے سے روک سکتا ہوں، اسرائیلی میرا احترام کرتے ہیں اور میری بات مانتے ہیں، ایران جنگ مزید بڑھتی تو دنیا بھر میں معاشی بحران پیدا ہو سکتا تھا۔

قبل ازیں ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناتھا کہ امریکا امن کے لیے پرعزم ہے، ہم لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ عالمی مارکیٹیں تیل کی قیمتوں میں کمی اور اسٹاکس میں اضافے کو پسند کررہی ہیں۔

امریکا کیلئے کامیابی ہے کہ تیل کی قیمتیں کم ہورہی ہیں اور فتح حاصل ہورہی ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ امریکا کی طرف سے ایران کو 300 ارب ڈالر کی ادائیگی نہیں ہورہی، یہ جعلی خبر ہے، ڈیموکریٹس کا پروپیگنڈا چل رہا ہے ۔

ادھرامریکی نائب صدرنے کہا ہے کہ اگر میں اسرائیلی کابینہ میں ہوتا تو پوری دنیا میں اپنے واحد اور طاقتور اتحادی کو نشانہ نہ بناتا۔ پچھلے تین ماہ کے دوران جن دفاعی ہتھیاروں نے آپ کے ملک کو بچایا اس میں سے دو تہائی امریکی تھے اور انھیں امریکی ہنر مندوں نے تیار کیا تھا اور امریکی ٹیکس دہندگان نے اس کے لیے ڈالرز دیے۔

جے ڈی وینس کا مزید کہنا تھا کہ انھیں اسرائیلی وزراء کے بیانات دیکھ کر برا لگتا ہے کہ وہ ایسے ملک کے سربراہ کو نشانہ بنا رہے ہیں جو ان سے ہمدردی رکھتا ہے اور دنیا کی سپر پاور کا سربراہ مملکت ہے۔

امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ گو کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اس راستے پر نہیں چلے لیکن میں ان وزرا کو پیغام دینا چاہتا ہوں جو صدر ٹرمپ کو نشانہ بنا رہے ہیں کہ انھیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور صدر ٹرمپ پر تنقید کے بجائے زمینی حقائق کو مدِنظر رکھنا چاہیے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے کہاہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا اگلا دور شروع کرنے پر ثالثوں کے ذریعے مشاورت کا عمل جاری ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر کسی بھی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی یا فریق مخالف کی جانب سے غیر ضروری اور سخت مطالبات سامنے آئے تو ایران بھرپور اور فیصلہ کن ردعمل دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں قالیباف نے واضح کیا کہ ملک کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے معاہدے کی شقوں اور شرائط پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جس پر سنجیدگی سے عمل کیا جا رہا ہے۔

ادھرآبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال ،خلیجی ممالک نے تیل کی برآمدات معمول پر لانے کے اقدامات تیز کر دیے۔بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کر دی جبکہ خلیجی ممالک نے تیل کی برآمدات معمول پر لانے کے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔

امارات کی سرکاری تیل کمپنی نے داس اور زرکو جزائر سے خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت کردی۔ رپورٹ کے مطابق عراق نے بھی تیل کی پیداوار اور برآمدات مرحلہ وار بحال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خریداروں کو جنوبی بندرگاہوں سے تیل اٹھانے کے لیے ٹینکرز نامزد کرنے کی ہدایت کردی۔ کویت پیٹرولیم کارپوریشن نے بھی جنگ کے دوران جاری کام روکنے کے نوٹسز واپس لے لیے۔