جسم پاکستان میں، دِل مکہ و مدینہ میں، حجاج کرام کے جذباتی تاثرات

حج کی سعادت حاصل کرکے وطن واپس آنے والے حجاج کرام کے دِل آج بھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی روح پرور یادوں سے معمور ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں پہنچنے والے عازمینِ حج کے استقبال کے دوران جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں اہل خانہ نے اپنے پیاروں کا والہانہ استقبال کیا، جبکہ حجاج کرام نے اپنے روحانی تجربات اور یادگار لمحات کو شکر اور عقیدت کے ساتھ بیان کیا۔

حجاج کرام کا کہنا ہے کہ جسم تو وطن واپس آگیا ہے، لیکن دل اب بھی حرمین شریفین کی مقدس فضاؤں میں دھڑک رہا ہے۔ کسی کی آنکھوں میں بیت اللہ شریف کے پہلے دیدار کا منظر تازہ ہے تو کوئی روضہ رسول(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)، ریاض الجنہ، عرفات، منیٰ اور مزدلفہ کی یادوں میں کھویا ہوا ہے۔

اسلام آباد ایئرپورٹ پر پہنچنے والی ایک پرواز میں شامل حاجیہ، اہلیہ ارشد محمود نے جذباتی انداز میں بتایا کہ جب پہلی بار بیت اللہ شریف پر نظر پڑی تو آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ اس لمحے دُعا تو یاد تھی لیکن الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے، بس نگاہیں خانہ کعبہ پر جمی رہیں اور دِل شکرگزاری سے بھر گیا۔

اُن کے شوہر ارشد محمود نے بتایا کہ یہ اُن کی زندگی کا پہلا حج تھا اور وہ اس روحانی کیفیت کو الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کے مطابق حج کا ہر لمحہ یادگار تھا اور حرمین شریفین سے واپسی کے بعد بھی وہاں کی یادیں دل و دماغ پر نقش ہیں۔

واپس آنے والے دیگر حجاج نے بھی اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ روضہ رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) پر حاضری، ریاض الجنہ میں عبادت، حجرِ اَسود کا استلام، عرفات میں وقوف اور منیٰ و مزدلفہ میں گزارے گئے لمحات زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ بعض حجاج کا کہنا تھا کہ غارِ حرا، غارِ ثور، مسجدِ قبا ء اور مسجدِ قبلتین کی زیارت نے اُن کے ایمان اور روحانی وابستگی کو مزید مضبوط کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان سے ہر سال لاکھوں مسلمان فریض حج کی ادائیگی کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ مقررہ کوٹے کے تحت رواں سال حج 2026 ء کے لیے پاکستان سے تقریباً ًایک لاکھ 79 ہزار عازمین نے حج کی سعادت حاصل کی۔ وطن واپس آنے والے حجاج کرام کے مطابق یہ سفر محض ایک عبادت نہیں بلکہ زندگی کو بدل دینے والا روحانی تجربہ ہے، جس کی یادیں ہمیشہ اُن کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔