نصف صدی قبل سالہا سال تک میرا یہ معمول رہا ہے کہ عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران کچھ ایام مردان اور سخاکوٹ میں گزرتے تھے۔ ممتاز اسیر مالٹا حضرت مولانا سید گل بادشاہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضری ہوتی، وہاں سے سخاکوٹ صاحبزادہ خالد جان کے ہاں جاتا اور ان کے ہمراہ حضرت مولانا عزیر گل رحمہ اللہ تعالیٰ کی زیارت و مجلس سے شادکام ہونے کی سعادت حاصل ہوتی اور مردان شہر میں پیر مبارک شاہ رحمہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہو جاتی۔ سابق وفاقی وزیر تعلیم نواب محمد علی خان ہوتی مرحوم کے ساتھ بھی مجلس آرائی کا موقع مل جاتا، وہ صاحب علم و مطالعہ شخصیت تھے، ایک بار گوجرانوالہ میں میری دعوت پر تشریف لا کر شیخ الاسلام حضرت مولانا علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں منعقدہ ایک سیمینار میں انہوں نے خطاب کیا تھا۔ پشاور میں حضرت مولانا سید محمد ایوب جان بنوری، مولانا محمد امیر بجلی گھر اور ڈاکٹر فدا حسین رحمہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ حضرت مولانا مفتی عبد القیوم پوپلزئی رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضری کا بھی کئی بار موقع ملا۔
پھر ان بزرگوں کی دنیا سے رحلت کے بعد کافی عرصہ یہ سلسلہ منقطع رہا اور اب چند سال قبل صوابی کے مولانا مفتی ہدایت الرحمن کی دعوت پر پھر سے اس کا آغاز ہو گیا ہے۔ مفتی ہدایت الرحمن اور ان کے رفقائے کرام نے باجہ اور دیگر مقامات میں علمائے کرام اور دینی کارکنوں کے اجتماعات کا سلسلہ چند برسوں سے شروع کر رکھا ہے جس میں علمائے کرام اور دینی راہنماؤں و کارکنوں کو دینی جدوجہد کے عصری تقاضوں سے آگاہ کرنے اور رکھنے کا اہتمام کیا جاتا ہے اور مجھے بھی ایسے اجتماعات میں شرکت کا موقع مل جاتا ہے۔ آج کے دور میں ایسے اجتماعات کا انعقاد بہت ضروری ہے کیونکہ بدلتے ہوئے حالات میں دینی و ملی جدوجہد کے تقاضے اور ضروریات بدلتی رہتی ہیں جن سے علماء کرام اور دینی کارکنوں کا آگاہ رہنا ضروری ہے۔
اس سال انہوں نے تیرہ مئی کو باجہ اور یکم جون کو زیدہ میں علمائے کرام اور دینی راہ نماؤں و کارکنوں کی علاقائی نشستوں کا اہتمام کر رکھا تھا۔ مجھے پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ منیر احمد اور ادارة النعمان گوجرانوالہ کے سربراہ مولانا مفتی نعمان احمد کے ہمراہ ان اجتماعات میں حاضری کا موقع ملا اور کچھ گفتگو کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ اس کے علاوہ اس سفر میں کچھ اور مصروفیات بھی شامل ہو گئیں جن کا مختصر تذکرہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
صوابی کے علاقہ میں پنج پیر کا معروف علمی و تعلیمی مرکز ہے جہاں جمعیت اشاعت التوحید والسنہ پاکستان کے امیر مولانا محمد طیب طاہری کی سربراہی میں ایک بڑا تعلیمی نظام مصروفِ عمل ہے۔ میری ان سے متعدد ملاقاتیں اس سے قبل ہو چکی ہیں، خاص طور پر چند سال قبل سعودی حکومت کی دعوت پر علمائے کرام کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ حرمین شریفین کی سعادت بھی ہم حاصل کر چکے ہیں اور اس دوران ہفتہ عشرہ اکٹھے گزارنے کے باعث کچھ باہمی بے تکلفی ور دوستی کا ماحول بھی بحمد اللہ بن گیا تھا۔ اس لیے میں نے وہاں سے گزرتے ہوئے ساتھیوں سے کہا کہ اگر مولانا محمد طیب طاہری موجود ہیں تو ان سے ملاقات کرنا چاہوں گا۔ انہیں پتہ چلا تو انہوں نے بھی خوشی کا اظہار کیا اور ہماری یہ ملاقات ایک یادگار محفل کی صورت اختیار کر گئی جس کا سوشل میڈیا پر کئی روز چرچا ہوتا رہا۔
دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس رحمہ اللہ تعالیٰ کی شہادت اور حضرت مولانا مفتی سیف اللہ حقانی رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات پر تعزیت کے لیے حاضری ہوئی۔ اگرچہ عید کی تعطیلات کے باعث اکثر حضرات موجود نہیں تھے مگر حضرت مولانا عبد القیوم حقانی کے ہمراہ وہاں حاضری اور مولانا عرفان الحق حقانی، مولانا اسامہ حقانی اور دیگر حضرات کے ساتھ تعزیت اور اپنے غم و صدمہ کے اظہار کی ترتیب بن گئی اور دعا میں شرکت ہو گئی۔ جس کے بعد رات مولانا عبد القیوم حقانی کے ہاں جامعہ ابوہریرہ میں گزارنے کی روایت بھی تازہ ہو گئی۔
اگلے روز ٢ جون کو راولپنڈی میں جانشین شیخ القرآن حضرت مولانا اشرف علی رحمہ اللہ تعالیٰ کی تعزیت کے لیے دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار میں حاضری ہوئی جہاں ان کے فرزندان گرامی اور رفقاء کے ساتھ تعزیت کی اور دعائے مغفرت میں شریک ہوئے۔
اس کے علاوہ جامعہ خالد بن ولید اسلام آباد میں انصار الامہ کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل کے ساتھ ملاقات ہوئی جس میں پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف محمدی اور سردار زاہد منان بھی شریک تھے۔ اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے مسلم حکمرانوں سے ”ابراہیمی معاہدہ” پر دستخط کے تقاضے اور اس سلسلہ میں سعودی عرب کے علمائے کرام کے موقف پر تبادلہ خیال ہوا اور سعودی علماء کے موقف کو امت مسلمہ کے عقائد و جذبات کی بھرپور ترجمانی قرار دیتے ہوئے اس سلسلہ میں رائے عامہ بالخصوص دینی کارکنوں کی آگاہی و بیداری کے لیے مربوط جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا گیا اور طے پایا کہ اکابر اہل علم کی مشاورت اور راہ نمائی کے ساتھ یہ جدوجہد منظم کی جائے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اس دوران صوابی کے قریب پنج تار کے علاقہ میں ایک بار پھر حاضری کی سعادت حاصل ہوئی، جہاں شہدائے بالاکوٹ کے قافلہ نے امیر المومنین حضرت سید احمد شہید اور حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمہمااللہ تعالیٰ کی قیادت میں دورانِ جہاد کئی ماہ قیام کیا تھا اور قافلہ میں شریک بہت سے مجاہدین اس دوران وفات پا گئے تھے، ان کی قبروں پر حاضری اور دعا کا موقع مل گیا۔
بعد ازاں تحریک آزادی کے نامور مجاہد حاجی صاحب ترنگزئی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ایک خلیفہ محترم کی خانقاہ میں حاضری ہوئی جو علاقہ میں علمائے کرام اور دیندار عوام کا مرجع ہے، وہاں کے بزرگوں نے بہت عزت افزائی سے نوازا۔ اس موقع پر ہمیں عظیم مجاہد آزادی حضرت حاجی صاحب ترنگزئی رحمہ اللہ تعالیٰ کے سلسلہ تصوف و جہاد کے ساتھ نسبت تازہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ اللہ پاک ان عظیم مجاہدین اور شہدا کے درجات جنت الفردوس میں بلند سے بلند تر فرمائیں اور ان کے مقدس جہاد کے اہداف و مقاصد کی تکمیل میں علمائے حق کی پر امن سیاسی جدوجہد کو کامیابی سے ہم کنار کرے، آمین یا رب العالمین۔

