حج مبارک ہو مگر پیغام بھی یاد رہے!

ہمارے معاشرے میں حج سے واپسی ہمیشہ ایک روحانی خوشی کا منظر ہوتی ہے۔ گاؤں کی تنگ گلیوں سے لے کر شہروں کی روشن سڑکوں تک، کہیں پھولوں کے ہار سجتے ہیں، کہیں گھروں پر بینر آویزاں ہوتے ہیں، کہیں بچے حاجی صاحب آگئے کی خوشی میں دوڑتے پھرتے ہیں اور کہیں اہلِ خانہ کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو چمکتے ہیں، کیونکہ یہ ایک ایسے انسان کی آمد ہوتی ہے جو اللہ کے گھر سے ہو کر آیا ہو، جس نے عرفات میں ہاتھ اٹھائے ہوں، مزدلفہ کی رات گزاری ہو، منی کی وادیوں میں تکبیرات بلند کی ہوں اور بیت اللہ کے سامنے کھڑے ہوکر اپنی زندگی کے گناہوں، لغزشوں اور کمزوریوں کو ربِ کریم کے حضور رکھ دیا ہو۔

تقریباً دنیا کے ہر مسلم معاشرے میںحاجی کا لقب ہمیشہ احترام، وقار اور دیانت کی علامت سمجھا گیا ہے۔ لوگ ایک حاجی سے صرف یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ مکہ و مدینہ کی داستانیں سنائے گا، بلکہ یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ اس کے چہرے، لہجے، معاملات اور اخلاق میں حج کی روشنی نظر آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے بڑے کہا کرتے تھے کہ حج انسان کے نام کے ساتھ صرف ایک لقب نہیں جوڑتا، بلکہ اس کے کردار پر ایک ذمہ داری بھی ڈال دیتا ہے اور یہ سچ بھی ہے، کیونکہ قرآنِ کریم نے بھی حج کو صرف عبادات کا مجموعہ قرار نہیں دیا بلکہ اسے اخلاق کی تربیت سے جوڑا ہے:(فلا رفث ولا فسوق ولا جِدال فِی الحجِ) یعنی حج انسان کو زبان کی پاکیزگی، رویوں کی شائستگی اور دل کی نرمی سکھاتا ہے۔

اس پاک سفر میں لاکھوں انسان ایک ہی لباس میں جمع ہوتے ہیں تاکہ انسان اپنے غرور، تعصب، نمود اور نفرت کو اتار پھینکے اور بندگی، عاجزی اور اخوت کو اختیار کرے۔
حج دین اسلام کا ایک بڑا رکن ہے جو ہر صاحب استطاعت پر عمر بھر میں ایک بار فرض ہے، جس نے اسے درست طریقے سے ادا کرلیا وہ یقینا بری الذمہ ہوجاتا ہے، تاہم اصل امتحان حج سے واپسی کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اگر حج کے بعد بھی کاروبار میں دھوکا باقی رہے، زبان میں تلخی باقی رہے، رشتوں میں نفرت باقی رہے اور دل میں تکبر باقی رہے تو پھر انسان نے مناسک تو ادا کیے، مگر شاید حج کی روح کو پوری طرح نہ پا سکا۔ہمارے معاشرے میں حج کے بعد حاجی کے لقب کی ایک ظاہری نمائش بھی کبھی کبھی دیکھنے میں آتی ہے۔ ایک مشہور لطیفہ ہے کہ ایک صاحب حج سے واپس آئے تو سیدھے دکاندار کے پاس پہنچے، ادھار والا رجسٹر منگوایا اور رقم ادا کرنے کی بجائے اپنے نام کے آگے فخر سے حاجی لکھ کر بولے: حساب پھر کبھی کرلیں گے۔یہ ہے تو لطیفہ، سبق مگر اس کا گہرا ہے کہ حج صرف نام کے ساتھ حاجی لکھوانے کا نہیں، بلکہ اپنے معاملات، اخلاق اور کردار کو بدلنے کا نام ہے۔ ایک مقبول حج کی سب سے بڑی علامت یہی ہے کہ انسان بدل جائے۔ وہ پہلے سے زیادہ نرم دل، زیادہ سچا، زیادہ دیانت دار اور زیادہ بااخلاق ہوجائے۔ وہ مسجد سے اپنا تعلق مضبوط کرے، لوگوں کے حقوق کا خیال رکھے، معاف کرنا سیکھے، غریبوں پر رحم کرے، اور اپنے گھر والوں کے لیے راحت بن جائے۔ یہی وہ تبدیلی ہے جسے دیکھ کر معاشرہ محسوس کرتا ہے کہ واقعی یہ شخص اللہ کے گھر سے ہوکر آیا ہے۔

آج جب ہمارے حاجی وطن لوٹ رہے ہیں تو یقینا وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ ان کے لیے دعائیں ہونی چاہئیں، ان سے دعا کی درخواست ہونی چاہیے، ان کا احترام ہونا چاہیے، اللہ تعالیٰ ان کا حج، ان کا سفر، ان کی تکالیف، جان مال کی قربانی اور عبادتیں اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ لمحہ ہمیں یہ یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ حج بیت اللہ شریف صرف مکہ مکرمہ کا سفر نہیں، بلکہ انسان کے باطن کا سفر ہے۔حج چند دنوں کی عبادت نہیں بلکہ پوری زندگی کی اصلاح کا پیغام ہے۔

آئیے! ہم اپنے حجاجِ کرام کو صرف حج مبارک نہ کہیں، بلکہ ان کے ذریعے اپنے معاشرے میں سچائی، رحم، دیانت، برداشت اور اخلاق کی وہ خوشبو بھی پھیلانے کی کوشش کریں جس کی تعلیم حج دیتا ہے۔ کیونکہ اگر حج انسان کو بدل دے تو پھر ایک حاجی صرف اپنے گھر نہیں لوٹتا، وہ پورے معاشرے کے لیے خیر اور روشنی کا سبب بن جاتا ہے۔