دوسری قسط:
ایک اور مغربی مصنفہ لکھتی ہیں:جون کی صلیبی جنگ میں یور پ کے صلیبی مجاہد جب یروشلم کے گرد جمع ہوئے تو شہر مقدس پر پہلی نظر پڑتے ہی ان پر سکتے کی کیفیت پید ا ہوگئی جو بعد میں آہستہ آہستہ مسلمانوں اور یہودیو ں کے خلاف غیض وغضب میں تبدیل ہوگئی۔ اس کے بعد تین دن تک یہ صلیبی یروشلم میں منظم قتل ِ عام کرتے رہے جس میں تیس ہزار کے قریب شہریوں کو انہوںنے تہ تیغ کیااور نظر آنے والے ہر ترک اور مسلمان کا سر قلم کیا۔ مسجد ِاقصی کی چھت پر دس ہزار مسلمان پناہ لئے ہوئے تھے لیکن انہوںنے انہیں بھی چن چن کر قتل کیا۔ جو سپاہی یا افسر سب سے پہلے جس گھر میں داخل ہوجاتا، بلا شرکت ِ غیر ے وہ اس کا مالک ہوجاتا۔ تمام گلیاں خو ن سے لتھڑی ہوئی تھیں۔ (ایک شہر تین مذاہب۔ کیرن آرمسٹرانگ)
صلیبی لشکریوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ وہ لوگ خدا کامنتخب گروہ ہیں اور خدا ہی نے انہیں یہ صلیبی جنگ لڑنے کیلئے تیا ر کیا ہے۔ مسجد اقصی کو انہوںنے اصطبل کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیاتھا اور اس میں اسلحہ او رسامان ِ رسد بھی ر کھنا شروع کردیاتھا۔ اس جنگ میں بعض عیسائی اپنے ساتھ عورتوں کا جھنڈ بھی ساتھ لے کر آئے تھے تاکہ موقع ملتے ہی ان سے تسکین حاصل کرسکیں۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کے دو رکی جنگ میں عیسائیوں کی شکست کی ایک وجہ ان کی یہ بیماری بھی تھی۔ ( History of Sex and Customs by Lichord Lalaim صلیب کی یہ جنگیں کئی عشروں تک لڑی گئیں حتی کہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے ان عیسائیوں کو جنگی طور پر ہمیشہ کیلئے مغلوب کرلیا۔ ان جنگوں میں عیسائیوںنے مسلمانوںکو گاجر مولی کی طرح کاٹا تھا اور بے انتہا دہشت گردی دکھائی تھی۔ بقول رون ڈیوڈ عرب اس سارے معاملے سے ششدرر ہ گئے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہ آرہاتھا کہ آخر ان کا ایسا کون سا قصور ہے جس کے باعث سارے عیسائی ان پر حملہ آور ہوگئے ہیں؟ (قومیں جو دھوکہ دیتی رہیں)
جنگوں کے ساتھ ساتھ عیسائیوں نے اسلام کے خلاف علمی لحاظ سے بھی حملے شروع کردیے اور جس طرح کے تمسخرانہ خاکے یہ حضرات آج تخلیق کررہے ہیں، اسی طرح کی مضحکہ خیز چیزیں انہوںنے سترھویں صدی ہی سے شروع کردی تھیں مثلا ایک مقام پر ان مستشرقین نے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)نے ایک سفید کبوتر پالاتھا جو ان کے کندھے پر بیٹھ کر کان سے دانہ نکال کر کھاتاتھاجس کا مقصد عام لوگوںکو یہ یقین دلانا ہوتا تھا کہ ایک فرشتہ کبوتر کی شکل میں محمد کو وحی پہنچارہاہے۔ (کتاب اسلام اینڈ دی ویسٹ۔ از فلپ کے ) ایک اور مستشرق نکلسن نے قرآن ِ پاک کے بارے میںلکھا کہ قرآن انجیلوں کے مسترد اور غیر مصدقہ مواد پر مبنی کتاب ہے۔(کتاب انٹروڈکشن ٹو کوران ) ایک دوسرے مستشرق روڈلِنسن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لکھا کہ اگرچہ وہ ایک غیر مخلص انسان نہیں تھے لیکن قرآن کو سمجھنے میں انہیں غلطی ہوئی تھی۔
قرآن پاک کا عیسائی مترجم J M Rodwell اپنے انگریزی ترجمے The Koran مطبوعہ کے دیباچے میں ہرزہ سرائی کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ جس انتہائی خفیہ انداز سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی ربیوں اور عیسائی دوستوںسے ہدایا ت وصول کیں، اس کے باعث مکے کے جاہل اور بے دین سرداروں کے سامنے انہیں یہ اعلان کرتے ہوئے کوئی جھجک نہیں رہی کہ ان کی زبان سے بیا ن کر دہ قدیم داستانیں ان پر خدانے وحی کی ہیں۔ رفتہ رفتہ محمد کو بھی یقین ہوگیاکہ وہ اللہ ہی کے بھیجے ہوئے نبی ہیں۔ وہ طویل عرصے تک (نعوذ باللہ)خود فریبی میںمبتلا رہے۔ انہیں (نعوذ باللہ) مرگی کی بیماری تھی۔ اداسی ِ خوشی، اور بے ہوشی وغیرہ کے باعث ان کیلئے خود کے بارے میں خدائی پیغمبر ہونے کا دعوی کرنا بہت آسان ہوگیا تھا۔ تاہم اصولوں اور کردار کی بعض اہم کمزوریوںکے باوجود انہوںنے عرب دنیا پر گہر اثرڈالاتھا۔ ایک ایسا کارنامہ جو دنیا میں شاید ہی کسی نے انجام دیاہو۔(نعوذ باللہ) انسانیت کوایک جھوٹا مذہب عطا کرنے پر محمد کو ہم کتنا ہی بڑا مجرم قرار دیں لیکن ان کی ذاتی نیکیوں کا بہر حال انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح ایک اور نامور مستشرق ولئیم میور نے اپنی کتاب لائف آف محمد میں لکھا کہ نعوذ باللہ محمد کو اپنی وحی پر خود بھی کامل یقین نہیںتھا(مستشرقین ِ مغرب کا اندازِ فکر۔ ڈاکٹر عبدالقادرجیلانی مر حوم کراچی) دوسری طرف مارٹن لوتھر نے امریکا میں گزشتہ صدیوںکی اسلام دشمن تحریریں جمع کرکے ان کی ایک کتا ب شائع کی۔ اس نے لکھا کہ شیطان، سراسین(صحرانشین)اور ترک سب کے سب ایک ہی شے کے مختلف نام ہیں۔ اس نے اسلام کو اپنا سب سے بڑادشمن قراردیا اور کہاکہ عیسائیوںکے دشمن دوہیں۔ اندرونی طورپر یورپ اور بیرونی طورپر اسلام۔
جب تک اسلام میدان ِ جہاد میں عیسائیوں کے مد مقا بل رہا اور ان پر غالب آتارہا، مستشرقین کی زبان گندی اور مضحکہ خیز رہی۔ انہوںنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، قرآن، اور اسلام کیلئے توہین آمیز زبان اور رکیک جملے استعمال کیے۔ ایک خیال یہ بھی پھیلا یا گیا کہ مسلمان کچھ زیادہ ہی کافر Pagan ہیں کیونکہ وہ نعوذ باللہ محمد کی پوجا کرتے ہیں۔ ہندوستان میں قائم شدہ فورٹ و لئیم کالج اور ایشیا ٹک سوسائٹی کے پس پردہ بھی یہی مقاصد پوشیدہ تھے۔
بعد کے ادوار میں جب سیاسی طورپر اسلام میں اضمحلال چھانے لگا اور مسلمان ان سے مغلوب ہونے لگے، جو اٹھارہویں صدی کا دور تھا، تومستشرقین نے نسبتاً سنجیدگی اختیار کرنا شروع کردی۔ اب ان کے ہاں اسلام کے اثرات کو محسوس کیا جانے لگا اور کڑوی با ت میٹھی زبان میں کہی جا نے لگی۔ تاہم چونکہ مسلمان مضمحل اور پسپا ہورہا تھا اور اقتدار ڈوب رہاتھا، اس لئے ان کی زبان میں آقائیت در آئی تھی۔ اسی لئے انیسویں صدی کی ان کی تحریریںاحساسِ برتری سے پر ہیں، البتہ جیسے جیسے سیاسی خطرہ کم ہوتا گیا، ان کی اسلام دشمنی کی شدت میں بھی کمی آنے لگی۔ پھر جب مغرب مسلمانوں پر حاوی ہوگیاتو انہیں اسلام کو صحیح طور سے سمجھنے کی توفیق نصیب ہوئی اور اپنی تحریروں سے انہوںنے بے سرو پا قصے خارج کرنے شروع کردیے۔ تھامس کارلائل بھی اسی دورکے سمجھدار مصنفوں میںسے ایک ہے۔ یہ وہ پہلا دانشور ہے جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن ِ پاک کی تعریف کی اور پہلے سے پھیلائی گئی غلط فہمیوں کی تردید کی ہے۔ اب بہرحال مسیحی دنیا میں دینِ اسلام کو سنجیدہ طور سے سمجھنے کی کوششیں تیزتر ہوگئی ہیں۔
عیسائیت چونکہ حضرت عیسی علیہ السلام سے موسوم مذہب ہے، اس لئے عیسائیوں نے اسلام کو بھی ایک ایسا ہی مذہب سمجھا اور اسلام کی بجائے اسے محمڈنزم کہہ کر پکارناشرو ع کیا۔ تاہم اب اکیسویں صدی میں جاکر عیسائیوں کا یہ رجحان ختم ہوا ہے۔ آج جو ہمیں آکسفورڈ، برمنگھم، اور دیگر غیر ملکی یونیورسٹیوں میں اسلامی شعبہ جات قائم ملتے ہیں، یہ دراصل عیسائیوں کی انہی مستشرقانہ کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ حدیث پر بھی ان دانشوروں کی زبانیں دراز رہی ہیں تاکہ اپنے لوگوں اور مسلم عوام کو احادیث کے بارے میں شکوک میں مبتلا کریں۔ مشہو ر مستشرقین گولڈزیہر اور اسپرنگر نے بتایا کہ عقائد اور رسوم و رواج میں تبدیلی کیلئے حسب ِ ضرورت احادیث وضع کی گئیں اور ان کے الفاظ محمد سے منسو ب کیے گئے۔ انہوںنے لکھا کہ قرآنی بحثوں میںجب بھی کوئی نزاع پیداہوا تو احادیث گھڑ کر بحثیں طے کی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ احادیث کے ذخیرے میںمتضاد احادیث پائی جاتی ہیں۔ ایک اور مستشرق (Orientalist) ونکسن ڈی ورڈ Winkson de Worde نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کا مبلغ جب اپنے عقائد کی تبلیغ کیلئے کھڑاہوتاہے تو خطبہ ختم ہونے تک اس کے ایک ہاتھ میں تلوار رہتی ہے یا پھر یہ تلوار کسی ایسے بلند مقام پر رکھی ہوتی ہے کہ ہو سب کی نظروں میں رہے تاکہ اسے دیکھ کر ہر شخص خوف زدہ رہے۔ (مستشرقین کا اندازِ فکر۔ ڈاکٹر عبدالقادر جیلانی) (جاری ہے)

