حج2026ء کی تکمیل: مقدس مقامات میں نئی سرگرمیاں شروع

سعودی وزارتِ داخلہ کی جانب سے 1447ہجری (2026ئ)کے حج سیزن کے منصوبے کی کامیابی کے اعلان کے ساتھ ہی عظیم الشان قومی نظام کی تصویر واضح ہو کر سامنے آتی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق حجاج کرام کے اپنے اپنے ممالک سے روانگی سے لے کر واپسی تک حج کے سفر کو محفوظ بنانے کے لیے طویل مہینوں تک کام کیا ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسے مربوط تجربے کے تحت ہوتا ہے جس نے امن و امان، تنظیم، خدمات اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کیا گیا ہوتا ہے۔سعودی وزارتِ داخلہ کی کوششیں صرف مشاعر مقدسہ کے اندر سیزن کے انتظام تک محدود نہیں رہیں بلکہ یہ ”روڈ ٹو مکہ”اقدام کے ذریعے سعودی عرب کی سرحدوں سے باہر تک پھیل گئی ہیں،جس سے ابتدائی لمحات ہی سے آسان بنانے میں مدد فراہم کی۔اسی طرح فضائی، بری اور بحری راستوں نے ایک ایسے مربوط نظام کے تحت ضیوف الرحمن کا استقبال جاری رکھا ۔
1447ہجری کے اختتام کے باوجود حج سیزن کے اثرات اُن لاکھوں حجاج کی یادوں میں موجود رہے گا جنہوں نے امن و امان اور اطمینان کے ماحول میں اپنے مناسک ادا کیے اور ان ہزاروں کارکنوں اور رضاکاروں کی یادوں میں بھی محفوظ رہے گا جنہوں نے ان کی خدمت کے لیے اپنی کوششیں وقف کر دیں۔
سعودی حکام نے بتایا ہے کہ حج سیزن 2026ء کے اختتام پذیر ہوتے ہی مقدس مقامات کو نئے سرے سے معتمرین کے لیے کھولنے اور اگلے حج سیزن(2027ئ) کی تیاریوں پرفوری کام شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ حج سیزن 2026ء کے اختتام کے ساتھ ہی حجاج کرام کی اپنے اپنے ملکوں کو واپسی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ گزشتہ برسوںکے مقابلے میں رواں سال زیادہ تعدادمسلمان حج کی ادائیگی کے لیے آئے۔مقامی شہریوں یا سعودی عرب میں بسلسلہ روزگار مقیم 160646افراد سے زائد نے فریضہ حج ادا کیا ہے۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے حجاج کرام نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کو اس کامیاب حج آپریشن کے مکمل ہونے پر مبارکباد پیش کی ہے۔