حج سیزن 2026ء: صحت کے مثالی انتظامات

موجودہ عالمی وبائی چیلنجز جیسے ایبولا وائرس کے پھیلا اور ہانٹا وائرس سے منسلک کیسز کے سامنے آنے کے باوجود اس سال حج سیزن کے دوران سعودی ہیلتھ سسٹم نے مانیٹرنگ، الرٹ اور تیاریوں کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا۔
سعودی وزارت صحت نے حج سیزن کے آغاز سے لے کرحج اختتام تک حجاج کرام کو 1,273,380سے زائد طبی خدمات فراہم کیں تاکہ حجاج کی صحت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ یہ خدمات ہیلتھ سیکٹر ٹرانسفارمیشن پروگرام اور خدمت ضیوف الرحمن پروگرام کے اہداف کے عین مطابق ہیں جو مملکت کے ویژن 2030ء کا حصہ ہیں۔اسی تناظر میں سعودی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ ضیوف الرحمن کی عمومی صحت کی صورتحال پورے سیزن میں مستحکم اور اطمینان بخش رہی ہے۔باوجود اس کے کہ دنیا کو بیک وقت وبائی چیلنجوںاور بین الاقوامی طبی حالات کا سامنا تھا جن کے لیے مانیٹرنگ کے اعلیٰ ترین معیار کی ضرورت تھی تاکہ ایک مخصوص جغرافیائی علاقے میںحجاج کرام کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب سعودی وزیر صحت فہد الجلاجل نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر بیک وقت درپیش طبی چیلنجز کے سائے میں حج سیزن کا وبائی امراض کے پھیلا اور صحت کے خطرات سے پاک رہنا اس خصوصی توجہ کا عکاس ہے جو مملکت خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں ضیوف الرحمن کی صحت اور سلامتی کو دیتی ہے، اور یہ ہمارے ہیلتھ سسٹم کی تیاری اور مختلف سرکاری اداروں کے ساتھ اس کے بہترین تعاون کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مملکت سعودیہ میں اس عظیم انسانی اجتماع کی میزبانی کے نتیجے میں ہے جہاں دنیا کے مختلف ممالک سے مسلمان آتے ہیں اور پھر مناسک کی ادائیگی کے بعد صحت و سلامتی کے ساتھ اپنے وطن واپس لوٹتے ہیں۔سعودی وزارت صحت نے وضاحت کی ہے کہ حج سیزن کا وقت بعض ممالک میں ایبولا وائرس کے پھیلا اور بین الاقوامی سطح پر ہانتا وائرس کے کیسز سامنے آنے جیسے عالمی وبائی حالات کے ساتھ آیا تھا۔ وزارت نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ سیزن کے دوران حجاج کرام کے درمیان صحت عامہ پر اثر انداز ہونے والے وبائی امراض، بشمول ایبولا اور ہانتا وائرس کا کوئی بھی مشتبہ یا مصدقہ کیس ریکارڈ نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ حکومت سعودیہ نے حج سیزن 2026 ء کی کامیابی کا اعلان کیا ہے اور تصدیق کی ہے کہ اس سیزن میں سیکورٹی، تنظیم اور خدمات کا ایک مربوط نظام دیکھنے میں آیا جس کی بدولت ضیوف الرحمن سکون کے ساتھ اپنے مناسک ادا کرنے میں کامیاب رہے۔