سائنس اور کائنات کی تخلیق پر غور و فکر

چوتھی قسط:
میں اکثر اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں اپنے تعلیم و سائنس کے شعبے سے تعلق رکھنے والوں کو کہ سورۂ آل عمران کی آیات وہ ڈیوائن چارٹر یعنی فرمانِ الٰہی ہیں جو اس امت کو دی گئیں۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے بہت وضاحت کے ساتھ یہ بیان فرمایا کہ یقینا آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے الٹ پھیر میں ہوش مندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ اور پھر اپنے پیاروں کا ذکر یوں کیا کہ جو اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں کھڑے بھی بیٹھے بھی اور اپنے پہلوؤں پر بھی اور مزید غور و فکر کرتے رہتے ہیں آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق پہ غور و فکر وہ خدائی مشن ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کے لیے نازل فرمایا یا لازم کیا جو اسے یاد کرنے والے ہیں، جو اس کے پیارے ہیں، جو اس کے محبوب ہیں اور پھر کہتے ہیں ”اے ہمارے رب تو نے یہ سب کچھ بے مقصد تو پیدا نہیں کیا تو پاک ہے، بس تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔”

”تو میرے بھائیو اور بزرگو! آج آپ مجھے بتائیے کہ کائنات کی تخلیق پہ غور و فکر کون کر رہا ہے؟ کائنات کی تخلیق کا غور و فکر جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کر رہی ہے جو باہر مدار میں یورپ اور امریکا کی اسپیس ایجنسیوں نے لانچ کی ہے۔ آج کائنات کی تخلیق پر غور و فکر ہبل ٹیلی اسکوپ کر رہی ہے ،کسی مسلمان ملک کا اس کے قریب قریب گزر نہیں ہے۔ جب ہمارا گولڈن پیریڈ (سنہری دور) تھا تو اس وقت ہم اسپیس سائنسز کی تحقیق کا مرکز تھے۔ تمام آبزرویٹریز یا سمرقند و بخارا میں تھیں یا اندلس میں تھیں یا بغداد میں تھیں اور کانسٹیلیشن آف اسٹارز کی میپنگ مسلمان سائنس دان کرتے تھے۔ تو یہ علم اور فکر پر ہم نے جب اس روایت کو چھوڑ دیا تو ہم تنزلی کا شکار ہوتے چلے گئے۔ آج اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم اس تحقیق کی روایت کو دوبارہ زندہ کریں، قرآن مجید کے ایک ایک لفظ کے اندر جو سمندر اس کے اندر معنی کا اور ہمارے لیے دعوت عمل ہے ہم اس میں غوطہ زن ہو کر اس دنیا کے اندر دوبارہ وہ شان و شوکت حاصل کریں جسے ہم بھلا چکے ہیں۔”

علمائے کرام کے مطابق قرآنِ پاک کی آیات کی مذکورہ بالا تشریح سراسر غلط ہے، ایسی تشریح کرنے والے حضرات کو بہت سنگین خلط مبحث ہوگیا ہے اور صحیح تشریح وہی ہے جو پہلے بیان کردی گئی۔ ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ امتِ مسلمہ نے علم کی روایت کو نہیں کھویا اورعلم کی اس اصل روایت کو مدارسِ دینیہ زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہ وہی مدارسِ دینیہ ہیں جہاں بوریہ نشین علمائے کرام نہایت محدود دنیاوی وسائل کے ساتھ اس اصل علم کی روایت کو زندہ کیے ہوئے ہیں جس کو ختم کرنے کے درپے مغربی اقوام اور باطل قوتیں ہیں۔ یہ مغربی اقوام اور باطل قوتیں چاہتی ہیں کہ مدارسِ دینیہ سے اس علم کی روایت کی اصل روح کو چھین لیا جائے اور اس کے لیے مدارس کے نظام کو کمزور کرنے کی کوششیں اپنے عروج پر ہیں جس کے تحت دینی و عصری علوم کا حسین امتزاج کا کھوکلا نعرہ لگایا جارہا ہے۔ مدارس قائم رہیں گے کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کے نام کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور باطل قوتوں کی مدارس کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام ہوجائے گی ان شاء اللہ۔

جہاں تک دمشق اور غرناطہ کی جامعات سے علم کی روایت کو جوڑنے کا تعلق ہے تو یاد رکھنا چاہیے کہ علم کی اصل روایت اہِل صفہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے زندہ کی تھی اور مدارسِ دینیہ اس علم کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اگر امت مسلمہ نے اپنی بنیاد کو پانا ہے تو ہمیں اس اصلی علم کی قدردانی کرنی ہوگی جو مدارسِ دینیہ زندہ رکھے ہوئے ہیں اور جس کی بنیادیں اہلِ صفہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین سے جڑتی ہیں۔

جہاں تک تعلق ہے کہ آج دنیا جب ایک نئے علم کے انقلاب کی طرف گامزن ہے تو غالبا یہاں پر ایسے حضرات اس نئے علم کے انقلاب سے سائنس و ٹیکنالوجی مراد لیتے ہیں۔ اس سلسلے میں گزارش ہے کہ ہم مسلمانوں کو کسی نئے علم کے انقلاب کی طرف نہیں جانا بلکہ علم وہی محمود ہے جس کا نتیجہ خدا کی یاد اور آخرت کی طرف توجہ ہو اور ایسے علم کا حصول متقی علمائے کرام سے حاصل کیا جاتا ہے۔

پھر کہتے ہیں کہ اسپین میں گئے اور وہاں جاکر مشاہدہ کیا کہ وہاں پر آٹھ سو سال تک اسلامی سلطنت قائم ہوئی۔ ہم آپ سے یہ پوچھتے ہیں کہ آپ اسپین کیوں گئے؟ آپ مدینہ منورہ کیوں نہیں تشریف لے گئے؟ آپ اہلِ صفہ کے چبوترے کا مشاہدہ کرنے کیوں مدینہ منورہ تشریف نہیں لے گئے کہ کس طریقے سے اہلِ صفہ کئی کئی دنوں فاقوں پر فاقے سے گزارتے اور اللہ رب العزت کی معرفت اور آخرت کی تیاری کی فکر میں لگے رہتے۔ کیا آپ کے سامنے حضورپاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا طرز زندگی نہیں؟ کیا حضور پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور یہاں پر ایسے وقت گزارو جیسے مسافر زندگی گزارتا ہے۔

نیز یہ جو کہا گیا کہ کوئی مسلمان ملک بحیثیتِ مجموعی کائنات کی تخلیق میں غور و فکر نہیں کررہا تو یہ بالکل درست ہے کیونکہ ہم مسلمانوں نے اپنے اصل مقصدِ حیات کو بھلا کر ختم ہونے والی دنیاوی زندگی کے پیچھے اپنی صلاحیتیں صرف کرنا شروع کردی ہیں ۔ جہاں تک مسلمانوں کے سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کا تعلق ہے تو یہ بات ملحوظِ خاطر رہے کہ مسلمانوں کی ترقی کا معیار الگ ہے اور مغربی ممالک کی ترقی کا معیار الگ۔ بَفرضِ محال اگر مغربی سائنس و ٹیکنالوجی کو ہی معیار بنا لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کس کے ذمے ہے؟ عصری تعلیمی اداروں، کالجوں، یونیورسٹیوں کے یا پھر مدارسِ دینیہ کے؟ پاکستان ہی کے اعداد و شمار لے لیجیے، ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)کے مطابق پاکستان میں کل دو سو اٹہتر (ایک سو سولہ پرائیوٹ سیکٹر اور ایک سو باسٹھ پبلک سیکٹر) یونیورسٹیاں ہیں۔ سن کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کی ان تمام یونیورسٹیوں میں تقریباً اٹھاون ہزار پی ایچ ڈی فیکلٹی ہے اور بیس لاکھ سے زائد طلبائے کرام مختلف سائنسی شعبہ جات میں زیر تدریس تھے۔ سوال تو یہ ہونا چاہیے کہ جب ان یونیورسٹیوں اور عصری تعلیمی اداروں پر اتنے وسائل خرچ ہورہے ہیں تو انہی سے سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی نہ ہونے پر بازپرس بھی ہونے چاہیے؟ یہ عجیب منطق ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی میں کام کرنے کے جو پیسے لے رہے ہیں اور جن کے یہ فرائضِ منصبی میں شامل ہے کہ وہ سائنسی تحقیق کریں، ان سے تو کوئی باز پرس نہیں اور سائنس و ٹیکنالوجی میں تحقیق کرنا جن کا کام نہیں یعنی مدارس ان سے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ انہوں نے سائنس و ٹیکنالوجی میں کیا کردار ادا کیا؟

مزید افسوس اس بات پر ہے کہ قرآنِ پاک کی آیات کی غلط تشریح ایک دینی تعلیمی ادارے کے سالانہ اجتماع میں کی جارہی ہے اور کوئی بھی اس پر ان صاحب کو تنبیہ نہیں کررہا کہ کیوں وہ قرآنی آیات کی غلط تشریح کررہے ہیں۔ دینی تعلیمی اداروں میں اس طرح کی تقریر کرنے سے دو فوائد حاصل کیے جارہے ہیں، اول یہ کہ ان دینی تعلیمی اداروں کو مدارس کے نظام سے علیحدہ کیا جائے اور دوم یہ کہ ان دینی تعلیمی اداروں میں کوئی اس طرح کی تقریر کرنے والوں سے باز پرس نہیں کرے گا جبکہ اس کے برعکس اگر یہی تقریر پاکستان کے عصری تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں کی جائے گی تو وہاں کی پی ایچ ڈی فیکلٹی ایسے لوگوں سے پوچھے گی کہ آپ سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرنے کے لیے ہمیں فنڈنگ کیوں نہیں کررہے؟ ہماری تنخواہیں کیوں نہیں بڑھا رہے؟ ہمارے مسائل کیوں نہیں حل کررہے؟ ایسی پالیساں کیوں نہیں مرتب کررہے جسے سے پاکستان میں سائنس و ٹیکنالوجی کو فروغ ملے؟ پھر قرآنِ پاک کی غلط تشریح اتنے اعتماد سے کی جارہی ہے کہ الامان الحفیظ اور پھر علامہ اقبال کے اشعار کو بھی غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ ہم بس گزارش کریں گے کہ خدارا قرآنِ پاک کی وہی تشریح لیں جو حضرات مفسرین نے بیان فرمائی ہے اور اسی تفسیر کو اختیار کرنے میں مسلمانوں کی فلاح و نجات ہے۔ ہم قارئین کے لیے علامہ اقبال کے شعر کو دہراتے ہیں

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر
(جاری ہے)