وفاقی حکومت نے مالی سال 2026ـ27 کے لیے قومی دفاع کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص کر دیے ہیں جو گزشتہ سال کی نسبت 17.6فیصد زائد ہے۔ گزشتہ سال حکومت نے 2550ارب کا دفاعی بجٹ پیش کیا تھا۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق، دفاع کو حکومت کی اہم ترین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ خطے کی غیر یقینی صورتحال اور قومی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے دفاعی شعبے کے بجٹ میں غیر معمولی اضافہ کیا جا رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ دفاعِ وطن کو ناقابلِ تسخیر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اسی لیے دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
وفاقی حکومت نے پی ایس ڈی پی کے تحت وزارت دفاع کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 10,902.5 ملین روپے اور دفاعی پیداوار ڈویژن کے لیے 979.84 ملین روپے کے فنڈز مختص کر دیئے ہیں۔
پی ایس ڈی پی دستاویز کے مطابق مالی سال 2026ـ27 میں دفاعی شعبے کے جاری منصوبوں میں نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پروجیکٹ کے لیے 2,550 ملین روپے، این آئی ایچ ڈی سینٹر آف ایکسی لینس فار کارڈیو ویسکولر ریسرچ کے لیے 1,152.5 ملین روپے، کوانٹم ویلی پاکستان (فیزـ1) کے لیے 1,053.8 ملین روپے، اے ایف آئی سی اور این آئی ایچ ڈی راولپنڈی کی توسیع کے لیے 1,000 ملین روپے اور اسلام آباد ایئرپورٹ پر رین واٹر ہارویسٹنگ ڈیم کے لیے 500 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اسی طرح نئی سکیموں میں این ڈی یو ایف سی ایس کیمپس اسلام آباد کے لیے 500 ملین روپے اور روبوٹکس سینٹر آف ایکسی لینس کے لیے 100 ملین روپے تجویز ہوئے ہیں، جبکہ دفاعی پیداوار کے تحت کراچی شپ یارڈ انفراسٹرکچر اپ گریڈیشن کے لیے 820.939 ملین روپے مختص کر دیئے گئے ہیں۔

