وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لیے فنڈز میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے بالترتیب صحت کے ترقیاتی بجٹ میں تقریباً 75 فیصد اور اعلی تعلیم کے بجٹ میں تقریبا 16.5 فیصد کا اضافہ کر دیا ہے۔
مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کے مطابق، صحت کے شعبے کے لیے 25.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ مالی سال کے نظرثانی شدہ بجٹ (14.3 ارب روپے) کے مقابلے میں 10.8 ارب روپے زیادہ ہیں، یعنی اس میں تقریبا 75 فیصد کا نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے لیے مجموعی طور پر 46 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز رکھے گئے ہیں، جو گزشتہ مالی سال کے 39.5 ارب روپے کے مقابلے میں 6.5 ارب روپے زیادہ ہیں، جس سے تعلیم کے بجٹ میں تقریبا 16.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تعلیم کے اس بجٹ میں 43.8 ارب روپے جاری منصوبوں اور 2.2 ارب روپے نئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
تعلیمی ترجیحات میں بیرونِ ملک پی ایچ ڈی اور ایم ایس/ایم فل اسکالرشپس (فیز III) کے لیے 1.8 ارب روپے اور پاک-امریکا نالج کوریڈور کے لیے 1.5 ارب روپے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد کے اکیڈمک بلاک کے لیے 450 ملین، کراچی میں شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا کے لیے 339.71 ملین، اور بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سب کیمپس (قلعہ سیف اللہ) کے لیے 400 ملین روپے فراہم کیے جائیں گے۔
ساتھ ہی حیدرآباد میں فیڈرل انسٹیٹیوٹ، نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کا نیا کیمپس اور کوہاٹ، سوات، گوادر، لاہور اور بہاولپور کی جامعات میں لیبز کی اپ گریڈیشن اور وزیر اعظم لیپ ٹاپ اسکیم بھی اس کا حصہ ہیں۔
صحت کے شعبے میں ہونے والا یہ 75 فیصد اضافہ گزشتہ مالی سال کے دوران ہونے والی مالیاتی کٹوتیوں کے اثرات کو زائل کرنے اور تعطل کا شکار طبی منصوبوں کو بحال کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے، جس سے سرکاری ہسپتالوں میں طبی آلات کی تنصیب اور جدید سہولیات کی فراہمی میں تیزی آئے گی۔

