اسلام آباد/کراچی:وفاقی حکومت کی جانب سے نئے مالی سال کا بجٹ پیش کیے جانے کے موقعے پر جمعے کو قومی اسمبلی کا اجلاس شدید ہنگامہ آرائی کی زد میں رہا۔کئی ارکان نے بجٹ کی کاپیاں پھاڑ ڈالیں۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہی اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور حکومت کے خلاف بھرپور نعرے بازی شروع کردی۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے ”بجٹ نامنظور” سمیت حکومت مخالف نعرے لگائے جس کے باعث ایوان کا ماحول خاصا کشیدہ ہو گیا جبکہ بعض اراکین کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ ہنگامے کے باوجود وزیرِ خزانہ نے اپنی تقریر جاری رکھی۔
اپوزیشن رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ حکومت مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر معاشی مسائل پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے، اس لیے اس بجٹ کو عوام دوست قرار نہیں دیا جا سکتا۔دوسری جانب حکومتی ارکان نے اپوزیشن کے طرزِ عمل کو غیر پارلیمانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ ایک اہم قومی دستاویز ہے جس پر سنجیدہ اور بامقصد بحث ہونی چاہیے۔
پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں بجٹ اجلاس اکثر سیاسی کشیدگی کا باعث بنتے رہے ہیں۔ماضی میں بھی اپوزیشن جماعتیں بجٹ تقاریر کے دوران نعرے بازی، واک آؤٹ اور احتجاج کے ذریعے اپنا ردعمل ظاہر کرتی رہی ہیں۔تاہم بعض مواقع پر صورتحال اس قدر کشیدہ ہو جاتی ہے کہ ایوان کی کارروائی بھی متاثر ہوتی ہے۔
دوسری جانب چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور بزنس مین گروپ نے نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کو عوام کے لیے غیرسود مند جبکہ تجارت وصنعت کے لیے ففٹی ففٹی بجٹ قرار دیتے ہوئے بجٹ میں کراچی کو نظرانداز کیے جانے کا شکوہ کرڈالا ہے۔
بزنس مین گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والا نے جمعہ کو کراچی چیمبر آف کامرس میں جاوید بلوانی ودیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں ایکسپورٹرز کے ساتھ کراچی کے لیے بھی کچھ نہیں ہے، جب ایکسپورٹ نہیں بڑھے گی تو ڈالر کہاں سے آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں روزگار بڑھانے کے اقدامات بھی نظر نہیں آئے، بجٹ میں کے فور منصوبے کے لیے 10ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جس سے یہ منصوبہ ایک دو سال مزید تاخیر کا شکار ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ محصولات کا ہدف 15ہزار ارب روپے کردیا گیا ہے جسے کس طرح پورا کیا جائے گا، بجٹ میں یہ نہیں بتایا گیا ہے۔ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے بجائے حکومت سارا بوجھ ٹیکس ادا کرنے والے پر ڈال رہی ہے، ایف بی آر کا ماڈل کیا ہوگا بجٹ میں واضح نہیں کیا گیا، حکومت کو اب فیصلہ کرنا ہوگاکہ آئی ایم ایف سے جان چھڑانا ہوگی۔
تاجر رہنما نے کہا کہ بجٹ میں برآمدات سیکٹر کیلئے کوئی اچھی خبر نہیں ہے، انرجی سیکٹر کی بات ضرور کی گئی لیکن اسکی لاگت میں کمی کی کوئی پالیسی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ انرجی سیکٹر کا 47فیصد لائن لاسز بوجھ صنعتوں پر ڈالا گیا اس کو بجٹ میں کم نہیں کیا گیا۔
زبیر موتی والا نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقہ کو ریلیف دیا اس عمل کو سراہتے ہیں۔کنسٹرکشن انڈسٹری کو مراعات دیں اس عمل کو سپورٹ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بجٹ مین ایکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہیں۔
ایف بی آر کا سالانہ ہدف صنعتوں کی مدد سے پورا ہوگا مگر کوئی مثبت اعلان نہیں ہوا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ پاکستانی بجٹ ضرور ہے لیکن اس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔کراچی چیمبر کے قائم مقام صدر محمد رضا نے کہا کہ بجٹ میں سپر ٹیکس کا خاتمہ اچھا اقدام ہے تاہم برآمدات بڑھانے کا کوئی اقدام نظر نہیں آرہا ہے۔
کراچی چیمبر کے سابق صدر ادریس میمن نے کہا کہ تاجربرادری کا مطالبہ تھا کہ انڈسٹریل اور کمرشل امپورٹس میں فرق کو ختم کیا جائے۔ ایکسپورٹرز نے فکسڈ ٹیکس کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا تھا جسے بحال نہیں کیا گیا۔
سابق نائب صدر ابراہیم کسمبی نے کہا کہ فنانس بل سامنے آئے گا تو اصل بجٹ واضح ہوسکے گا۔ سائٹ ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین عبدالرشید، کراچی چیمبر کے سابق نائب صدر شاہد اسماعیل،سابق صدر ادریس میمن نے بھی نئے وفاقی بجٹ کو ملا جلا قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں کراچی کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے جبکہ کاروباری لاگت میں کمی، برآمدات کے فروغ اور روزگار بڑھانے کے لیے اقدامات بھی بجٹ میں نظر نہیں آئے۔
ادھرمتحدہ قومی موومنٹ نے آئندہ مالی سال میں کراچی اور حیدرآباد کا ترقیاتی بجٹ کم مختص کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی و حیدرآباد کے لیے اربن ڈیولپمنٹ پیکیج 25 ارب روپے کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے 20 مئی کی میٹنگ میں 25 ارب روپے پر اتفاق کیا تھا، بجٹ میں کراچی کے لیے صرف 10 ارب روپے رکھے گئے جو شہر کے ساتھ ناانصافی ہے جبکہ کراچی ہزاروں ارب روپے کا ریونیو دیتا ہے اور اتنا کم ترقیاتی پیکیج ناکافی ہے۔
فاروق ستار نے کہا کہ کراچی کے لیے 10 ارب روپے اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہیں۔ایم کیو ایم نے گورنر سندھ کا عہدہ واپس دینے کا مطالبہ دہرایا اور کہا کہ گورنر شپ ایم کیو ایم کا حق ہے، جس پر حکومت نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 140 اے میں ایم کیو ایم کی مجوزہ ترمیم پر بھی کوئی ٹائم لائن نہیں دی گئی، حکومت کی یقین دہانیاں ناکافی ہیں صرف جوابات پر انحصار نہیں کرسکتے، موجودہ بجٹ عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر رہا۔
فاروق ستار نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، بجٹ کو عوام دوست بنایا جانا چاہیے تھا، مگر ایسا نظر نہیں آ رہا، بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا لیکن ٹیکسوں کا بوجھ بدستور موجود ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار ہے، سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی کی شرح کم کی جائے، بالواسطہ ٹیکس کم ہوں تو بجلی، گیس اور تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ توانائی کی قیمتیں کم ہونے سے عوام کا معیارِ زندگی بہتر ہوگا، کاروبار اور سرمایہ کاری کی لاگت کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی سے معیشت اور صنعتوں کو فروغ ملے گا، زیادہ ٹیکس والی معیشت ترقی کی رفتار برقرار نہیں رکھ سکتی۔

