افریقہ کی وہ خوفناک جھیل جہاں جانور”پتھر” بن جاتے ہیں

رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
افریقہ کے شمالی تنزانیہ میں واقع ایک پُراسرار جھیل برسوں سے دنیا بھر کے لوگوں کے لیے خوف، حیرت اور تجسس کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اس جھیل کے کناروں پر مُردہ پرندوں، چمگادڑوں اور دیگر جانوروں کی ایسی لاشیں دیکھی گئی ہیں جو پہلی نظر میں یوں محسوس ہوتی ہیں جیسے وہ اچانک پتھر کے مجسموں میں تبدیل ہو گئی ہوں۔
سیاہ و سفید تصاویر میں یہ منظر اتنا ہولناک دکھائی دیتا ہے کہ بعض لوگ اسے یونانی دیومالا کی اُس افسانوی کردار ’میڈوسا‘ سے تشبیہ دیتے ہیں جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ صرف ایک نظر سے انسانوں کو پتھر بنا دیتی تھی۔ یہ پُراسرار مقام ’نیٹرون جھیل‘ ہے جو تنزانیہ کے دشوارگزار اور خشک علاقے میں واقع ہے۔ دنیا کی شاید ہی کوئی اور جھیل ایسی ہو جس کے بارے میں اتنی خوفناک کہانیاں مشہور ہوں۔ تاہم جدید سائنس نے اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہاں جانور حقیقتاً پتھر نہیں بنتے بلکہ ایک غیرمعمولی کیمیائی عمل کے باعث ان کی لاشیں محفوظ ہو کر ’پتھریلے مجسموں‘ جیسی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔
نیٹرون جھیل پہلی بار عالمی توجہ کا مرکز اُس وقت بنی جب 2013ءمیں برطانوی فوٹوگرافر Brandt Nick نے اپنی کتاب میں اس جھیل کی خوف ناک تصاویر شائع کیں۔ تصاویر میں مردہ پرندے اور چمگادڑ اس طرح دکھائی دے رہے تھے جیسے وہ اچانک حرکت کرتے ہوئے جم گئے ہوں۔ کسی کے پر پھیلے ہوئے تھے، کوئی سر اٹھائے کھڑا تھا جبکہ کچھ ایسے لگتے تھے جیسے ابھی پرواز شروع کرنے والے ہوں۔ ان تصاویر نے انٹرنیٹ پر تہلکہ مچا دیا اور دنیا بھر میں یہ سوال اٹھنے لگا کہ آخر اس جھیل میں ایسا کیا ہے جو جانداروں کو ’پتھر‘ بنا دیتا ہے؟ سائنس دانوں نے اس پر طویل تحقیق کی۔ اس کے بعد ان کا کہنا ہے کہ اس جھیل کی پُراسراریت کا اصل راز اس کی غیرمعمولی کیمیائی ساخت میں چھپا ہوا ہے۔ نیٹرون جھیل ایک بند آبی نظام رکھتی ہے یعنی اس میں داخل ہونے والا پانی باہر نکلنے کا کوئی قدرتی راستہ نہیں پاتا۔ صحرائی بارشوں، معدنی چشموں اور قریبی دریاو¿ں سے آنے والا پانی مسلسل جھیل میں جمع ہوتا رہتا ہے مگر شدید گرمی کے باعث بخارات بن کر اُڑ جاتا ہے۔ پانی کے بخارات بننے کے بعد نمکیات اور معدنیات جھیل میں ہی باقی رہتی ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔ اس جھیل کے قریب ’اول ڈوئنیو لنگائی‘ نامی فعال آتش فشاں موجود ہے جو مسلسل ایسے معدنی مرکبات خارج کرتا رہتا ہے جن میں سوڈیم کاربونیٹ اور کیلشیم کاربونیٹ بڑی مقدار میں شامل ہوتے ہیں۔
یہی معدنیات جھیل کے پانی کو انتہائی قلیائی بنا دیتی ہیں۔ ’قلیائی‘ (Alkaline) کیمیا کی اصطلاح ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے: ایسا مادہ یا پانی جس میں تیزابیت کم اور ’کھاراپن‘ زیادہ ہو۔ ماہرین کے مطابق جھیل کے پانی کا ’پی ایچ لیول‘ 10.5 سے بھی اوپر جا سکتا ہے جو تقریباً امونیا جتنی تیز قلویت کے برابر ہے۔ اس قدر قلیائی پانی انسانی جلد کو بھی جلا سکتا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ جھیل کا درجہ حرارت بعض اوقات 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ شدید گرمی، تیز قلویت اور نمکیات کا یہ امتزاج بیشتر جانداروں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ اگر کوئی جانور یا پرندہ اس پانی میں گر جائے تو اس کی جلد، آنکھیں اور نرم بافتیں شدید متاثر ہوتی ہیں جبکہ مردہ جسم تیزی سے خشک ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ ماہرین حیاتیات کے مطابق اصل میں یہاں ’تحجر‘ یعنی پتھر بننے کا عمل نہیں ہوتا بلکہ ’قدرتی حنوط‘ جیسا عمل وقوع پذیر ہوتا ہے۔
جھیل میں موجود ’نیٹرون‘ نامی کیمیائی مرکب وہی بنیادی مادہ ہے جسے قدیم مصری لاشوں کو محفوظ کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ یہی مادہ مردہ جسم سے نمی اور چکنائی جذب کرلیتا ہے، بیکٹیریا کی افزائش روک دیتا ہے اور لاش کو گلنے سڑنے سے بچا لیتا ہے۔ بعدازاں نمکیات کی تہیں جسم کے اوپر جمنا شروع ہوجاتی ہیں جس سے وہ سفید، سخت اور پتھریلا دکھائی دینے لگتا ہے۔ تحقیقی ادارے ’نیچر تنزانیہ‘ سے وابستہ ماہرہ Rabdia Akshita کے مطابق جھیل کے کنارے ملنے والے جانور حقیقتاً پتھر نہیں بنتے بلکہ ان کے جسم نمکیاتی تہوں اور تیز خشک ہونے کے عمل کی وجہ سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے پروں، جلد اور جسمانی ساخت کے آثار باقی رہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنی خطرناک جھیل کے باوجود بعض مخلوقات نے یہاں زندگی گزارنے کا طریقہ سیکھ لیا ہے۔ جھیل میں ’ہالوآرکیا‘ نامی نمک پسند خردبینی جاندار پائے جاتے ہیں جو پانی کو سرخ اور گلابی رنگ دیتے ہیں۔ یہی جاندار مشہور ’فلیمنگو‘ پرندوں کی خوراک بنتے ہیں۔ دنیا بھر میں پائے جانے والے لاکھوں فلیمنگو اس جھیل کو افزائش نسل کے لیے استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہاں کی سخت فضا شکاری جانوروں کو قریب آنے سے روکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مشرقی افریقہ کے تقریباً تین چوتھائی فلیمنگو اسی جھیل پر انحصار کرتے ہیں۔ یہاں کا گرم، نمکین اور دلدلی ماحول اگرچہ دوسرے جانوروں کے لیے تباہ کن ہے لیکن فلیمنگو کے لیے قدرتی قلعہ ثابت ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا پر اکثر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ نیٹرون جھیل کسی ’شیطانی طاقت‘ یا ’قدرتی لعنت‘ کا شکار ہے مگر سائنس دان اس تصور کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق زیادہ تر پرندے بصری دھوکے کی وجہ سے جھیل سے ٹکرا جاتے ہیں۔ جھیل کی سطح آئینے کی طرح چمکتی ہے جس سے بعض پرندے دھوکے میں اسے کھلا آسمان سمجھ لیتے ہیں۔ اسی طرح 2007ءمیں ایک ہیلی کاپٹر بھی جھیل کی سطح سے بصری دھوکا کھا کر حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔ فوٹوگرافر نک برانڈٹ نے بعد میں اعتراف کیا تھا کہ اس نے مردہ پرندوں کو خود ترتیب دے کر تصویریں بنائی تھیں تاکہ وہ زیادہ ڈرامائی دکھائی دیں۔ یعنی جانور خودبخود ’مجسموں‘ کی شکل میں کھڑے نہیں ہوئے تھے بلکہ فوٹوگرافی کے لیے انہیں مخصوص انداز میں رکھا گیا تھا۔ تاہم ان کے جسم واقعی غیرمعمولی حد تک محفوظ تھے۔ اگرچہ نیٹرون جھیل دنیا کے خوفناک ترین مقامات میں شمار کی جاتی ہے مگر ماہرین ماحولیات اسے ایک نہایت اہم قدرتی نظام قرار دیتے ہیں۔ اب اس علاقے میں صنعتی منصوبوں، سوڈا ایش نکالنے کے کارخانوں اور ڈیموں کی تعمیر کی تجاویز دی جارہی ہیں جن سے اس نایاب ماحولیاتی نظام کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر جھیل کی کیمیائی ساخت تبدیل ہوگئی تو فلیمنگو کی عالمی آبادی کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یوں افریقہ کی یہ پُراسرار جھیل ایک ساتھ خوف، حیرت، سائنس اور قدرتی حسن کی علامت بن چکی ہے، ایک ایسی جگہ جہاں حقیقت افسانوں سے بھی زیادہ عجیب محسوس ہوتی ہے۔