میدانِ عرفات میں جبلِ رحمت حج سے وابستہ اہم ترین اسلامی یادگار کے طور پر نمایاں ہے۔ عرفہ کے دن لاکھوں حجاج یہاں قیام کرتے ہیں۔ اس منظر میں خشوع و خضوع اور اللہ سے دعا کے معانی جھلکتے ہیں، جہاں روحانی ماحول مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو ایک ہی میدان میں متحد کر دیتا ہے۔
جبلِ رحمت میدانِ عرفات کے مشرق میں، مکہ مکرمہ سے تقریباً 22 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ یہ مقدسات (مشاعرِ مقدسہ) میں مشہور ترین مذہبی اور جغرافیائی نشانات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجة الوداع کے موقع پر وہاں قیام سے ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا وہ تاریخی خطبہ دیا جس نے عدل، مساوات اور حقوق کے تحفظ کے اصول وضع کیے۔اس پہاڑ کی بلندی تقریباً 65 میٹر ہے اور یہ اپنی گہرے رنگ کی چٹانی ساخت کی وجہ سے نمایاں ہے۔ اس کی چوٹی پر ایک سفید ستون نصب ہے جو پورے میدان میں حجاج اور زائرین کے لیے ایک واضح علامت کا کام دیتا ہے۔
وقوف ِعرفہ: حج کا رکن اعظم
عرفات میں قیام حاجی کے ایمانی سفر کا عروج ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’حج عرفہ ہے‘۔ جو حج کے مناسک میں اس دن کی عظمت اور مقام کی واضح دلیل ہے۔ حجاج منٰی میں یومِ ترویہ گزارنے کے بعد 9 ذوالحجہ کی فجر سے ہی میدانِ عرفات کا رخ کرتے ہیں اور غروبِ آفتاب تک وہاں دعا، مناجات اور رحمت و مغفرت کی طلب میں ڈوبے رہتے ہیں۔پہاڑ کی وسیع شہرت کے باوجود، علماءاِس بات پر زور دیتے ہیں کہ جبلِ رحمت پر چڑھنا نہ تو حج کا رکن ہے اور نہ واجبات میں شامل ہے۔ اس کے ساتھ کوئی مخصوص عبادت بھی ثابت نہیں ہے بلکہ پورا عرفات ہی قیام، دعا اور ذکر کی جگہ ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’میں نے یہاں قیام کیا ہے اور پورا عرفہ ہی قیام گاہ ہے‘۔ جبلِ رحمت اور مشعرِ عرفات کو تاریخ، سیرت اور اسلامی سفرناموں میں بھرپور جگہ ملی ہے جہاں مو¿رخین اور جغرافیہ دانوں نے صدیوں سے اس مقام کی اہمیت اور حجاج کے منظر کو دستاویزی شکل دی ہے۔
لازوال مذہبی اور انسانی علامت
جبلِ رحمت مسلمانوں کے نزدیک بڑی روحانی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ حجة الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے سے وابستہ ہے جس میں آپ نے جان، مال اور عزت کی حرمت پر زور دیا اور بھائی چارے، عدل اور مساوات کے اصول قائم کیے۔ یہ انسانی مضامین اقدار اور حقوق کے حوالے سے ایک ابدی نصاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جدید دور میں سعودی عرب کی حکومت نے جبلِ رحمت اور مشعرِ عرفات کی ترقی اور خدمات کے مربوط منصوبوں پر خصوصی توجہ دی ہے، جس کا مقصد حجاج کی نقل و حرکت کو آسان بنانا اور خدمات کے معیار کو بلند کرنا ہے۔ان ترقیاتی کاموں میں پہاڑ کی طرف جانے والے راستوں کی بہتری، پیدل چلنے والوں کے لیے ٹریکس کی تعمیر، کئی زبانوں میں معلوماتی بورڈز کی تنصیب، جدید لائٹنگ سسٹم اور فیلڈ سروسز شامل ہیں، تاکہ ہجوم کو منظم کیا جاسکے اور یومِ عرفہ کے دوران رش کو کم کیا جاسکے۔
ہجوم کے انتظام کےلئے اسمارٹ ٹیکنالوجی
متعلقہ اداروں نے مشعرِ عرفات میں ہجوم کے انتظام کے لیے جدید آپریشنل سسٹمز اور اسمارٹ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے، جو لمحہ بہ لمحہ مانیٹرنگ اور نقل و حرکت کے تجزیے پر مبنی ہے، تاکہ حجاج کی آمد و رفت میں روانی اور ہنگامی حالات میں فوری رد عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔جبلِ رحمت مقدسات میں ایک نمایاں روحانی علامت کے طور پر قائم ہے جو چودہ سو سال سے زائد عرصے سے دُہرائے جانے والے دنیا کے سب سے عظیم سالانہ اسلامی اجتماع کا گواہ ہے، جہاں رحمت، توبہ، مغفرت اور اُمتِ مسلمہ کے اتحاد کے معانی کے ساتھ دل اور زبانیں دُعا و اِلتجا پر متحد ہوجاتی ہیں۔ (بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ)

