ایران، امریکا تصادم کے خطرات اور پاکستان کے لیے مسائل

اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد امریکی افواج نے مختلف ایرانی اہداف پر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ دارالحکومت تہران میں بڑے دھماکے سنے گئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ امریکا نے پاس دارانِ انقلاب کے مرکزی ہیڈ کواٹر کو زمین بوس کر دیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی افواج نے بھی مختلف عرب ریاستوں میں امریکی اہداف پر میزائلوں سے حملے کیے ہیں۔ ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحری جہازوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کو طاقت کے بل پر نہیں جھکایا جا سکتا۔ ایران مذاکرات کا حامی ہے لیکن وہ اپنے مفادات کا مکمل تحفظ کرے گا۔ عالمی میڈیا کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کو ہر قسم کے جہازوںکی آمد ورفت کے لیے بند کر دیا ہے۔ ایرانی افواج نے دھمکی دی ہے کہ اگر کسی بھی جہاز نے بلااجازت آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کی تو اس پر حملہ کر دیا جائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج ایران پر شدید حملے کریں گے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ایران پر نئے حملوں کا صدارتی حکم مذاکرات میں تاخیر اور لیت و لعل کی وجہ سے مایوسی کی کیفیت میں دیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان فریقین پر ضبط و تحمل کے لیے زور دیتا ہے۔ پاکستان مسئلے کے پُر امن حل کا خواہا ں ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ایک دوسرے پر حملوں سے کشیدگی میں ہونے والا حالیہ اضافہ دراصل امن، مذاکرات اور مصالحت کے لیے اب تک کی گئی پاکستانی کوششوں کو ناکام بنانے کے مترادف ہے۔ ہر چند کہ اب تک دونوں ملکوں کے درمیان بڑی جنگ کا آغاز نہیں ہوا تاہم اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عراق اور یمن میں ایرانی اتحادی گروپ متحرک ہو چکے ہیں۔ یمن کے حوثیوں کی جانب سے کسی بھی وقت اسرائیل یا امریکی اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ عراق میں بھی امریکی اہداف پر حملوں کی دھمکیاں سامنے آ رہی ہیں۔ یہ اطلاعات ثابت کرتی ہیں کہ ایران خطے میں اپنی بالادست حیثیت کو قائم رکھنے کے لیے جنگ چھیڑنے سے گریز نہیں کرے گا خواہ اس کے نتائج کیسے ہی سنگین کیوں نہ ہوں۔ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات اور پُر امن معاہدے پر اصرار کے باوجود پاسدارانِ انقلاب کی طرف سے ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کے بعد سیخ پا ہو گئے اور ایران پر حملے کا حکم دے دیا۔ گزشتہ چند گھنٹوں میں فریقین ایک دوسرے پر متعدد حملے کر چکے ہیں تاہم فریقین کے نقصانات کی حتمی اور مصدقہ اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔ ایسے ہی چند حملوں کا تبادلہ ہوا تو فریقین کے درمیا ن بڑی جنگ چِھڑ سکتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر جنگ چھڑی تو اس کے نتائج کیا ہوں گے اور کیا امریکا اور اسرائیل بلکہ خود ایران بھی ان نتائج کا تحمل کر سکیں گے؟

دفاعی ماہرین کے مطابق اس وقت ایران، امریکا اور اسرائیل اپنے اپنے مفادات کو پیشِ نظر رکھ کر شطرنج کی بساط پر چالیں چل رہے ہیں۔ اسرائیل اس خطے میں مرکزی حیثیت حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ ایک وسیع تر اسرائیل کے خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ غزہ کی بربادی، ایران کے ساتھ جنگ، لبنان اور شام پر حملے اور ابرہام معاہدے میں عربوں کے ساتھ شمولیت کے پسِ پردہ مقاصد سوائے علاقائی بالادستی، طاقت، کنٹرول اور اختیار کے سوا کچھ نہیں تھے۔ عرب ممالک کو دوستانہ معاہدے کے جال میں پھنسا کر ایران کی فوجی قوت کو تہس نہس کرنا ہی اسرائیل کا ہدف تھا جس کا ایک آسان راستہ یہ تھا کہ ایران اور عرب ریاستیں باہم متصادم ہو جائیں جوکہ بفضلہ تعالیٰ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں نہ ہو سکا۔ اس کے بعد اسرائیل کی کوشش رہی کہ امریکا اور اسرائیل مشترکہ طور پر ایران کو تخت و تاراج کر دیں لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق انھوں نے پاکستان کے مطالبے کی وجہ سے ایران کے ساتھ کھلی جنگ سے گریز کیا اور ایک موقع پر نیتن یاہو کو جنگ سے باز رہنے کی تلقین بھی کی۔ اگر پاسدارانِ انقلاب کی طرف سے امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنانے سے گریز کر لیا جاتا تو ممکن تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا راستہ ہموار ہو چکا ہوتا لیکن اب یہ معاملہ دور چلا گیا ہے۔ اسرائیل کی پوری کوشش ہوگی کہ وہ امریکا کے ساتھ مل کر ایران کو سبق سکھانے میں کامیاب ہو جائے۔ اسی لیے اسرائیل کی فوجیں لبنان کی سرحدوں کا رخ کر چکی ہیں تاکہ ایران پر امریکی حملے کے ساتھ ہی لبنان میں پیش قدمی کی جا سکے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر امریکا اور اسرائیل کو خطے میں پیش قدمی اور جنگ چھیڑنے کا جواز کس وجہ سے دیا جا رہا ہے؟ یہ کہنا تو دشوار ہے کہ یہ سب کچھ ملی بھگت ہے تاہم یہ امر قرینِ قیاس دکھائی دیتا ہے کہ ایران کی سخت گیر موقف رکھنے والی قیادت کو اپنی مزاحمت پر ضرورت سے زیادہ اعتماد ہے اور اسی خوش فہمی کا شکار ہوکر وہ ازخود جنگ کو اپنے پر مسلط کر سکتی ہے۔ امن معاہدے کے قریب پہنچ کر امریکا اور ایران صرف اپنی ساکھ، انا اور بالادستی کے زعم کی وجہ سے یہ جنگ لڑیں گے جو دنیا بھر میں مہنگائی، توانائی کے بحران اور دیگر شدید مشکلات اور مسائل کا سبب بن جائے گی۔ اگر ایران اس جنگ کے بعد بھی مزاحمت کے قابل رہا تو یہ امر اسرائیل کے لیے بھی خوش گوار نہیں ہوگا کیو ں کہ ایران اور لبنان کے درمیان دفاعی اتحاد اسرائیل کی بالادستی کے لیے ایک نیا چیلنج بن جائے گا۔ اس موقع پر یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے حال ہی میں شام اور لبنان کے دفاع کو ترکیہ کی سلامتی کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

پاکستان کشیدگی میں اضافے سے یقینا خوش نہیں ہوگا کیوں کہ آبنائے ہرمز کی بندش اس کے عوام کے لیے شدید مہنگائی کا سبب بن جائے گی۔ اس وقت وطنِ عزیز پہلے ہی دہشت گردی، انارکی اور داخلی مشکلات سے دوچار ہے۔ پاکستان کی داخلی مشکلات کو بھارت اور اسرائیل اپنے مفادات کے حق میں استعمال کرنے کے لیے فتنۂ خوارج، فتنۂ ہندوستان اور اب کشمیر ایکشن کمیٹی کے نام سے عوام کو ریاست کے خلاف مشتعل کرنے والے عناصر کی مدد کر رہے ہیں۔ ایسے میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ پاکستان کے داخلی معاملات کو مزید الجھانے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس موقع پر ضرورت اس امر کی ہے کہ فتنہ و فساد پھیلانے والے عناصر سے بلاضرورت کوئی رعایت نہ رکھی جائے اور عوام کے سامنے ان کے اصل کردار کو بے نقاب کیا جائے۔ پاکستان نے گزشتہ دو دنوں میں افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر پیغام دے دیا ہے کہ شرپسندوںکے ساتھ آہنی ہاتھوں ہی سے نمٹا جائے گا۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ خطہ ایک بہت بڑے تصادم کے خطرات سے دوچار ہو، ملک کے تمام طبقات کو اپنی ریاست کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔