مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں ڈرامائی پیش رفت یا نفسیاتی جنگ

اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی روابط کے جدید مواصلاتی ذرائع کی مدد سے ایک ڈرامائی اعلان کیا جس کے مطابق امریکا نے ایران پر طے شدہ شدید ترین حملے کو ملتوی کردیا ہے، جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے اور امن مذاکرات کے لیے بنیادی نکات پر اتفاق ہوگیا ہے۔ امریکی صدر نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے سفارتکاری کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا۔ ڈونلڈٹرمپ کے مطابق مذاکرات اور معاہدے کے لیے نکات پر علاقائی ممالک نے بھی اتفاقِ رائے کا اظہار کردیا ہے۔ مبصرین کے مطابق ان ممالک میں قطر، ترکیہ، سعودی عرب، پاکستان، مصر اور اسرائیل کا نام شامل ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کے لیے وقت اور مقام کا تعین جلد ہی کرلیا جائے گا۔ امریکی صدر نے گفتگو کے دوران پاکستان کے سفارتی کردار کی کھل کر تعریف کی اور پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف اور ڈیفنس فورسز کے سربراہ فیلڈمارشل جنرل عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ بتایا جارہا ہے کہ اس حیرت انگیز سفارتی پیشرفت میں پاکستان کے ساتھ قطر نے بھی بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکومت کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے لیے متعدد اُمورپر اتفاق موجود ہے لیکن کسی معاہدے کے حوالے سے تاحال کوئی بات حتمی اور طے شدہ نہیں ہے۔ ایرانی حکومت کے ترجمان کے مطابق ایران اپنے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ایران مذاکرات کے لیے آمادہ ہے تاہم دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں چار فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ آبنائے ہرمز کھلنے کا فی الحال کوئی امکان روشن نہیں ہوا۔ امریکی صدر کے مطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

امریکی صدر کے یوٹرن کی وجہ سے عالمی سطح پر ایران، امریکا امن مذاکرات کی کامیابی اور امن معاہدے کے امکانات پھر روشن ضرور ہوئے ہیں، لیکن غیریقینی کی کیفیت تاحال قائم ہے۔ امریکا آبنائے ہرمز کی ناکابندی ختم کرنے پر تیار نہیں۔ یعنی اس کی طرف سے ایران پر معاشی دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔ دوسری جانب ایرانی حکومت کے ترجمان کے بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیانات میں حقیقت سے زیادہ مبالغہ آرائی کا عنصر غالب ہے یا پھر ان کے اقدامات ایک نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں’ جیسا کہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکی صدر دراصل نفسیاتی دباؤ بڑھا رہے ہیں تاکہ ایران کو جلد ازجلد امن معاہدے پر مجبور کیا جاسکے۔ جہاں تک ایران پر بھرپور حملے کا فیصلہ واپس لینے کا تعلق ہے تو اس بابت ایک طرف پاکستان اور قطر کی سفارتکاری کو داد دینی چاہیے تو دوسری جانب ایران کی طرف سے بھرپور مزاحمت اور اسرائیل سمیت امریکی اہداف کو نشانہ بنانے اور پراکسی جنگ کو پورے خطے میں پھیلانے کے عزائم بھی اہمیت رکھتے ہیں۔

سیاسی اور دفاعی ماہرین کے مطابق ایران نے امن معاہدے کے لیے ایک بنیادی شرط یہ پیش کی ہے کہ جنگ کا خاتمہ مکمل امن کے ساتھ ہی مشروط ہے، جس میں لبنان اور فلسطین بھی شامل ہیں۔ ایران جوہری بم نہیں بنائے گا لیکن وہ پُرامن مقاصد کے لیے یورنیم کی ایک خاص سطح تک افزودگی جاری رکھے گا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ امریکی شرائط کے علیٰ الرغم ایران اپنی پراکسی تنظیموں سے دست بردار ہونے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ ان حالات میں یہ سوال اہمیت رکھتا ہے کہ پھر مذاکرات اور امن سے متعلق امریکی صدر کے دعوؤں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ ایران پر نفسیاتی دباؤ قائم رکھنے کے لیے بھی امریکی صدر کی باتوں میں کچھ سچائی تو ہونی چاہیے لیکن مسلسل اپنے ہی بیانات سے روگردانی اختیار کرکے ڈونلڈ ٹرمپ نے پوری دنیا کے لیے عجیب و غریب صورتحال پیدا کردی ہے۔ سرِدست خوش آئند امر یہ ہے کہ جنگ کی آگ بھڑکنے سے قبل ہی سرد پڑگئی ہے لیکن کسی بھی لمحے شعلے بھڑک سکتے ہیں۔ دنیا کی مصروف ترین سمندری تجارتی گزرگاہ کشیدگی کی زد میں ہے اور تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے متعدد ممالک کی معیشت متزلزل ہورہی ہے۔ یہاں ایسے سنجیدہ مزاج اور صلابتِ فکر رکھنے والے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو کہ دنیا کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے میں کردار ادا کرسکتے ہوں، نہ کہ انسانیت کے دشمن نیتن یاہو کی مانند اپنے اقتدار، سیاسی مفادات اور پست مقاصد کی خاطر انسانوں کو جنگ کی آگ میں دھکیلنا پسند کرتے ہوں۔ دنیا کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے پاکستان اپنے ہم خیال دوست ممالک کے ساتھ مل کر مسلسل کوشش کررہا ہے اور پس پردہ سفارتکاری کے ذریعے اس نے تین سے زائد مواقع پر یقینی جنگ کو ٹالنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ فی الحقیقت پاکستان کو اسی کردار کی بدولت عالمی سطح پر غیرمعمولی پذیراتی نصیب ہوئی ہے۔ پاکستان کی موجودہ قیادت گھمبیر داخلی مسائل، پراکسی وار اور دہشت گردی اور انارکی کا مقابلہ کرتے ہوئے معاشی بحرانوں سے بھی نبرد آزما ہے تاہم اس کے ساتھ وسیع اور دُوررس سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نے نہایت دانشمندی کے ساتھ علاقائی تصادم کو روکنے کے لیے بھرپور جدو جہد کی ہے۔ عرب ریاستوں نے ایرانی پراکسی اور پاسداران ِانقلاب کی جانب سے ہونے والے حملوں کے جواب میں صبر و تحمل اور بُردباری سے کام لیا جبکہ پاکستان نے سعودی دفاعی اتحادی ہونے کی حیثیت کا اظہار کرتے ہوئے علاقائی طاقتوں پر واضح کردیا کہ سعودی عرب پر جارحیت کا مطلب پاکستان پر حملہ ہوگا جس پر پاکستان جنگ میں شامل ہوجائے گا۔ اس مضبوط اور مستحکم موقف کے ساتھ پاکستان نے دیرینہ دوست ترکیہ اور چین کے ساتھ بھی تزویراتی بنیادوں پر شراکت کو آگے بڑھایا اور سیاسی و سفارتی کوششوں کے ذریعے جنگ کو روکنے کی کوششیں بھی کیں۔ بظاہر یہ کوششیں کامیابی سے ہم کنار ہوتی دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی سرگرمیوں میں اضافے کی خبریں سامنے آنے لگی ہیں۔

عالمی سطح پر امن کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کی قیمت پاکستان کو داخلی مسائل کی شدت کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ بھارت او راسرائیل نے اپنے پراکسی اتحادی افغانستان کی نگرانی میں کام کرنے والے فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندوستان کو شر اور فساد مزید بھڑکانے کا ہدف دے رکھا ہے، لیکن پاکستانی سیکورٹی فورسز نے بڑی پامردی اور آہنی عزم کے ساتھ داخلی فتنوں کو لگا م ڈالنے کا عمل جاری رکھا ہے۔ امید ہے کہ آزاد کشمیر میں پھیلنے والا فتنہ بھی بہت جلد اپنی موت آپ مر جائے گا۔ ایک طرف امریکا اور ایران کے درمیان علاقائی بالادستی کی کشمکش جاری ہے لیکن دوسری طرف مسلم ممالک کے باہمی تعاون سے اسرائیل کی پیش قدمی بہرحال تھم جائے گی۔ پاکستان کا داخلی استحکام اکھنڈ بھارت اور لویا افغانستان جیسے فتنے کا جواب ثابت ہوگا۔ جو قوتیں پاکستان کے داخلی مسائل کو اپنے مفادات کے حصول کی خاطر استعمال کرنا چاہتی ہیں وہ بفضلہ تعالیٰ اہلیانِ وطن کے باہمی اتحاد کی صورت ناکامی کا منہ دیکھیں گی اور مسلم ممالک کا باہمی اتحاد ہر نفسیاتی جنگ کا جواب ثابت ہوگا۔