مشرقِ وسطی میں جاری کشیدگی کے دوران تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی اور عسکری محاذ پر ڈرامائی پیشرفت تیز ہو گئی ہے، جس کے باعث امریکا کی ایران حکمتِ عملی خود اس کے اپنے ملک میں تماشا بن کر رہ گئی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے باوجود فریقین کسی حتمی معاہدے سے ابھی تک کوسوں دور ہیں اور جاری ویک اینڈ تک معاہدہ طے پا جانے کی تمام تر توقعات ایک بار پھر دم توڑ گئی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ کسی بھی امریکی فوجی کی ہلاکت کی صورت میں وہ دوبارہ مکمل جنگ کا اعلان کر سکتے ہیں، لیکن اس کے برعکس امریکی عوام کی اکثریت اس جنگ کے تسلسل کیخلاف ہے۔ دی اکانومسٹ اور یو گور کے حالیہ پول کے مطابق 68 فیصد امریکیوں کا واضح موقف ہے کہ واشنگٹن کو جلد سے جلد ایران کے ساتھ معاہدہ کر کے جنگ ختم کرنی چاہیے۔ یہاں تک کہ خود صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے ووٹرز کا ایک بڑا حصہ بھی اس تنازع کے بڑھنے پر شدید تحفظات رکھتا ہے اور حکومت سے سفارتی حل نکالنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
عجلت، جذباتیت اور زمینی حقائق کے درست ادراک کے بغیر اٹھایا جانے والا کوئی بھی قدم خواہ وہ کسی فرد کا ذاتی فیصلہ ہو یا کسی ریاست اور قوم کا اجتماعی اقدام، اکثر اپنے مطلوبہ نتائج دینے کی بجائے مسائل، بحرانوں اور آزمائشوں کو جنم دیتا ہے۔ جب فیصلے انا، طاقت کے زعم، غلط اندازوں یا غیر حقیقی توقعات کی بنیاد پر کیے جائیں تو ان کے نتائج اکثر فیصلہ سازوں کی توقعات کے بالکل برعکس نکلتے ہیں۔ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جارحیت اس حقیقت کی ایک نمایاں مثال بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے کی پیچیدہ سیاسی اور عسکری حقیقتوں کا درست اندازہ لگائے بغیر ایک ایسے راستے کا انتخاب کیا جس نے نہ صرف پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کیا بلکہ پوری دنیا کو مصیبت میں ڈال رکھا ہے، اس جنگ کے آغاز کا وقت ہی کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ایک طرف امریکا ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں مصروف تھا، دوسری جانب اچانک عسکری کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا، جس کا مطلب یہی ہے کہ مذاکرات دراصل ایران کو الجھانے اور غفلت میں رکھنے کا ایک بہانہ تھے۔
بظاہر حملہ آور قوتوں کا اندازہ یہ تھا کہ چند شدید حملوں کے بعد ایران داخلی طور پر انتشار کا شکار ہوجائے گا، حکومتی ڈھانچہ کمزور پڑ جائے گا اور مخالف عناصر اقتدار کیلئے میدان میں آ جائیں گے۔ یہ احمقانہ توقع بھی موجود تھی کہ چند روز کے اندر اندر سیاسی منظرنامہ یکسر تبدیل ہو جائے گا لیکن زمینی حقائق ان اندازوں سے کلی مختلف ثابت ہوئے۔ ایران نہ صرف ریاستی سطح پر برقرار رہا بلکہ اس نے مزاحمت کی ایسی صلاحیت کا مظاہرہ کیا جس کا اندازہ واشنگٹن اور تل ابیب کے منصوبہ سازوں نے شاید نہیں لگایا تھا۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس جنگ کا کوئی واضح جواز آج تک سامنے نہیں آ سکا۔ اگر کسی ملک کے بارے میں محض یہ دعویٰ کافی ہو کہ وہ خطرہ بن سکتا ہے تو پھر یہی منطق دنیا کے ہر ملک کو اپنے پڑوسی کیخلاف طاقت کے استعمال کا جواز فراہم کر سکتی ہے۔ محض خدشات اور اندیشے جنگ کی بنیاد بن جائیں تو پھر دنیا مستقل تصادم اور خونریزی کا میدان بن جائے گی۔ بہرکیف امریکا اور اسرائیل کی توقعات کے برعکس جنگ جلد ختم ہونے کی بجائے طول پکڑتی گئی۔ جو مہم چند روز کی کارروائی تصور کی جا رہی تھی، وہ ایک پیچیدہ بحران میں تبدیل ہو گئی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ عسکری، سفارتی اور معاشی اخراجات بڑھتے گئے۔ ایران ایک ایسے مسئلے کی صورت اختیار کر گیا جس سے نکلنا اتنا ہی مشکل دکھائی دینے لگا جتنا اس میں داخل ہونا آسان سمجھا گیا تھا اور اب یہ واضح طور پر امریکا کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔ معاملہ یہ بھی ہے کہ جنگ کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہے۔ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیاں، بحری تجارت اور علاقائی سلامتی سب اس کشیدگی سے متاثر ہوئے۔ خلیج میں امریکی فوجی اڈوں کی سلامتی پر سوالات اٹھنے لگے، بحری راستوں کے تحفظ کے بارے میں خدشات بڑھ گئے اور امریکی اتحادی ممالک بھی اس تنازع کے ممکنہ نتائج سے پریشان دکھائی دینے لگے۔
اس تمام پس منظر میں جب جنگ کے اثرات نے پوری دنیا کو اپنے شکنجے میں جکڑا تو اب پوری دنیا سے جنگ کے خاتمے اور سفارتی حل کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ خود امریکا کے اندر بھی اس جنگ کے بارے میں سوالات بڑھ رہے ہیں۔ امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد اس تنازع کے خاتمے اور سفارتی حل کی حامی ہے۔ امریکی عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اگر جنگ کے اہداف حاصل ہو چکے ہیں تو پھر مذاکرات کی ضرورت کیوں باقی ہے اور اگر مذاکرات اب بھی ضروری ہیں تو پھر جنگ کے اصل مقاصد کیا تھے؟ یہی سوالات واشنگٹن کی حکمتِ عملی میں موجود تضادات کو نمایاں کرتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کو داخلی سیاسی محاذ پر بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ کانگریس اور سینیٹ میں بڑھتی ہوئی مخالفت، عوامی سطح پر تنقید اور عالمی سطح پر سفارتی دباؤ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک کامیاب اور فیصلہ کن کارروائی کے طور پر پیش کی جانے والی مہم اب ایک ایسے بحران میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس کے واضح خاتمے کا راستہ خود فیصلہ سازوں کو بھی نظر نہیں آ رہا۔
حقیقت یہ ہے کہ طاقت کا استعمال ہمیشہ آخری راستہ ہونا چاہیے، پہلا نہیں۔ جنگ شروع کرنا آسان جبکہ اسے باعزت طریقے سے ختم کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں طاقتور ممالک نے اپنی عسکری برتری کے زعم میں جنگیں شروع کیں مگر بعد میں انہیں سیاسی، معاشی اور اخلاقی قیمت ادا کرنا پڑی۔ افغانستان، عراق اور ویتنام سمیت کئی مثالیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ زمینی حقائق کو نظر انداز کرکے کیے گئے فیصلے اکثر مہنگے ثابت ہوتے ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ انا، طاقت کے مظاہرے اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی بجائے امن، سفارت کاری اور مذاکرات کو موقع دیا جائے۔ دنیا پہلے ہی متعدد بحرانوں، معاشی مشکلات اور انسانی المیوں سے دوچار ہے۔ ایسے میں ایک بے سمت اور غیر ضروری جنگ کو طول دینا نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے مفاد کیخلاف ہے۔ امریکا اور اسرائیل سمیت تمام متعلقہ فریقوں کو زمینی حقائق تسلیم کرتے ہوئے سنجیدہ مذاکرات کرنا چاہیے۔ یہی دانش مندی کا تقاضا ہے، یہی عالمی امن کا راستہ ہے اور یہی انسانیت کی حقیقی جیت بھی۔

