اصلاحِ معاشرہ میں ترجیحات کی حکمت

امام بیہقیکی کتاب ‘مناقب الشافعی’ میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ ابنِ عجلان جو ایک محدث اور فقیہ تھے، نے ایک مرتبہ مدینہ کے گورنر کو اس بات پر ٹوکا کہ وہ جمعہ کے دن لوگوں کے سامنے اپنا تہبند (ازار) ٹخنوں سے نیچے لٹکاتا ہے۔ اس پر گورنر نے انہیں قید کرنے کا حکم دے دیا۔ ابنِ ابی ذئب جو تبع تابعین میں سے اور مدینہ کے بڑے علماء میں شمار ہوتے تھے، گورنر کے پاس گئے تاکہ اُن کی سفارش کریں۔ انہوں نے گورنر سے کہا:”ابنِ عجلان تو ناسمجھ ہے۔ وہ تمہیں حرام کھاتے، حرام پہنتے اور طرح طرح کے غلط کام کرتے دیکھتا ہے، مگر اُن پر تمہیں نہیں ٹوکتا اور آ کر صرف ازار لٹکانے پر اعتراض کرتا ہے۔”یہ سن کر گورنر لاجواب ہوگیا اور ابنِ عجلان کو رہا کر دیا۔

یہ ہمارے اجتماعی مزاج کا ایک عجیب تضاد ہے کہ ہم بڑے مسائل کے سامنے خاموش رہتے ہیں مگر چھوٹی باتوں پر غیرمعمولی حساسیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ مذکورہ واقعہ جہاں ہمیں ترجیحات کے درست تعین کا شعور دیتا ہے، وہاں یہ سبق بھی سکھاتا ہے کہ حق بات کہنا ضروری ہے مگر اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ کون سی بات پہلے کہی جائے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ترجیحات کا یہی توازن بگڑ چکا ہے۔ خیبر پختونخوا میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب مذہبی رجحان رکھنے والی سیاسی قیادت کو اقتدار ملا۔ عوام کی توقعات بہت بلند تھیں کہ کرپشن کا خاتمہ ہوگا، عدالتی نظام شفاف ہوگا، سودی نظام کے خلاف عملی اقدامات ہوں گے اور ترقی کے نئے در کھلیں گے، مگر عملی طور پر جو منظر سامنے آیا وہ اُن امیدوں کے برعکس تھا۔ اہم قومی اور معاشی مسائل پس منظر میں چلے گئے جبکہ توجہ ان امور پر مرکوز ہو گئی جن کا تعلق زیادہ تر ظاہری اور ثانوی پہلوؤں سے تھا۔ گویا ایک پیچیدہ اور ہمہ گیر نظامِ حیات کو چند ظاہری علامتوں میں محدود کر دیا گیا۔ یہ مسئلہ صرف سیاست تک محدود نہیں بلکہ مذہبی طبقے میں بھی یہی رجحان جڑ پکڑ چکا ہے۔ آج بھی اکثر علماء کی توجہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مرکوز نظر آتی ہے۔ کسی کے سر پر ٹوپی ہے یا نہیں، داڑھی کی لمبائی کتنی ہے، پگڑی کس انداز میں باندھی گئی ہے یا شلوار ٹخنوں سے اوپر ہے یا نیچے، یہ سب تقویٰ کے واحد پیمانے بن چکے ہیں جبکہ دیانت داری، انصاف، امانت، سچائی اور حقوق العباد جیسے بنیادی اصول پسِ پشت چلے گئے ہیں۔

یہ کہنا ہرگز مقصود نہیں کہ ظاہری احکام کی کوئی اہمیت نہیں۔ دین ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں ظاہر اور باطن دونوں شامل ہیں۔ اسلام میں لباس سے لے کر وضع قطع تک ہر شے کے لیے ہدایات موجود ہیں جن پر عمل کرنا اور عمل کی ترغیب دینا دین کا حصہ ہے، مگر مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم درخت کے پتوں کو سنوارنے میں لگ جائیں اور جڑوں کو پانی دینا بھول جائیں۔ جب معاشرہ کرپشن، ظلم، ناانصافی اور استحصال جیسے بڑے گناہوں سے بھرا ہو اور ہم اپنی ساری توانائی صرف ظواہر پر صرف کر دیں تو یہ حکمت نہیں بلکہ نادانی ہے۔ اصل تقویٰ کا تعلق انسان کے باطن سے ہے، اس کے کردار سے ہے، اس کے معاملات سے ہے۔ ایک شخص بظاہر سادہ لباس میں ہوسکتا ہے مگر اپنے معاملات میں دیانت دار، انصاف پسند اور خوفِ خدا رکھنے والا ہو، وہ اللہ کے نزدیک زیادہ مقرب ہو سکتا ہے بنسبت اس کے جو ظاہری طور پر مذہبی علامات سے مزین ہو مگر اس کے اعمال میں کھوٹ ہو۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ دین کی دعوت اور اصلاحِ معاشرہ ایک تدریجی عمل ہے۔ اگر ہم لوگوں کو دین سے قریب لانا چاہتے ہیں تو ہمیں حکمت، بصیرت اور ترجیحات کے درست تعین کی ضرورت ہے۔ ہر بات کا ایک وقت ہوتا ہے اور ہر مسئلے کی ایک اہمیت۔ جب ہم اس ترتیب کو نظرانداز کرتے ہیں تو نہ صرف اپنی بات کا اثر کھو دیتے ہیں بلکہ لوگوں کو دین سے بدظن بھی کر دیتے ہیں۔

آج کے دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لیں۔ کیا ہم واقعی ان مسائل پر توجہ دے رہے ہیں جو ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر رہے ہیں؟ کیا ہم انصاف، تعلیم، صحت، منشیات اور معاشی استحکام جیسے بنیادی اُمور کو اپنی گفتگو اور جدوجہد کا حصہ بنا رہے ہیں؟ یا ہم اب بھی ظاہری مسائل کے گرد گھوم رہے ہیں؟ یہ سوال صرف علماء یا سیاستدانوں کے لیے نہیں بلکہ ہم سب کے لیے ہے۔ ہر فرد کو اپنے دائرے میں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کن باتوں کو اہمیت دے رہا ہے۔ کیا ہم بھی دوسروں کو ظاہری بنیادوں پر پرکھتے ہیں؟ کیا ہم بھی چھوٹی باتوں پر تنقید اور بڑی خرابیوں پر خاموشی اختیار کرتے ہیں؟ دین کو اس کی اصل روح کے ساتھ سمجھیں گے تو ہی بات بنے گی۔ دین کا مقصد انسان کو بہتر بنانا ہے، معاشرے کو عدل و انصاف کا گہوارہ بنانا ہے۔ اگر ہم اس مقصد کو بھول جائیں اور صرف ظاہری علامتوں میں الجھ جائیں، تو ہم نہ صرف خود کو بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی ایک ادھورا اور مسخ شدہ تصورِ دین دے رہے ہوں گے۔ حکمت یہی ہے کہ ہم حق کو پہچانیں مگر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ہم اسے درست ترتیب کے ساتھ پیش کریں۔ ورنہ خطرہ یہی ہے کہ ہم حق بات کرتے ہوئے بھی نادانی کے مرتکب ٹھہریں۔