مغربی کنارہ/تل ابیب/واشنگٹن:مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں اور فوج کے چھاپوں میں متعدد فلسطینی زخمی ہوگئے ۔عرب ٹی وی کے مطابق اسرائیلی آباد کاروں نے جنوبی نابلس کے گائوں جورش اور عقربہ قصبے پر دھاوا بولا جس میں فلسطینیوں کے گھروں پر پتھرائو کیا گیا اور رہائشیوں پر حملہ کیا گیا۔
فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے بتایا کہ جوریش میں آباد کاروں کے حملے کے بعد اس کے عملے نے ایک 35 سالہ حاملہ خاتون اور ایک 65 سالہ خاتون کا علاج کیا۔وسطی مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں نے دیر جریر گائوں پر حملہ کیا جس کے بعد جھڑپیں شروع ہوئیں جبکہ اسرائیلی افواج نے آبادکاروں کی حفاظت کی۔
ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے چھاپے کے دوران براہ راست گولہ بارود استعمال کیا جس سے ایک فلسطینی شخص کے پائوں بھی زخمی ہوئے اور متعدد رہائشیوں کو حراست میں لیا گیا۔
دوسری جانب اسرائیل نے فلسطینیوں کے ساتھ اوسلو میںکیا گیا اہم معاہدہ ختم کرنے پرغور شروع کردیا۔ غیرملکی خبررساںادارے کے مطابق اسرائیل کی انتہا پسند رکن پارلیمنٹ اور کنیسٹ کی ڈپٹی اسپیکر لیمور سون ہار میلیخ نے کہا ہے کہ اوسلو معاہدے ختم کرنے سے متعلق ان کا پیش کردہ بل وزارتی کمیٹی برائے قانون سازی کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے ۔
اس بل کو فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ روکنے کی نئی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں لیمور سون ہار میلیخ نے کہا کہ یہ بل فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کیلئے قانون سازی کی جانب پہلا اور ضروری قدم ہے۔
اوسلو معاہدے 1993ء اور 1995ء میں اسرائیلی اور فلسطینی قیادت کے درمیان طے پائے تھے جن کے تحت دونوں فریقوں نے پہلی بار ایک دوسرے کو تسلیم کیا تھا۔ انہی معاہدوں کے نتیجے میں فلسطینی اتھارٹی قائم کی گئی تھی۔
معاہدوں کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایریا اے فلسطینی انتظامیہ کے کنٹرول میں، ایریا بی مشترکہ اسرائیلی اور فلسطینی کنٹرول میں جبکہ ایریا سی مکمل اسرائیلی کنٹرول میں رکھا گیا تھا۔
اوسلو معاہدوں کا مقصد عبوری بنیادوں پر امن عمل کو آگے بڑھانا اور مستقبل میں اسرائیل کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنا تھا، تاہم اسرائیل میں اس فریم ورک اور دو ریاستی حل کے مستقبل پر سیاسی اختلافات مسلسل موجود رہے ہیں۔
لیمور سون ہار میلیخ کے بل میں مبینہ طور پر ایریا اے اور بی میں اسرائیلی بستیوں کے پھیلا ئوکی راہ ہموار کرنے کی شقیں بھی شامل ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیاں غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں۔
اسرائیلی وزارتی کمیٹی برائے قانون سازی جو حکومتی وزرا پر مشتمل ہوتی ہے یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کسی بل کو سرکاری حمایت حاصل ہوگی یا نہیں۔ اگر کمیٹی نے اس بل کی منظوری دے دی تو یہ مزید کارروائی کیلئے کنیسٹ میں پیش کیا جائے گا جبکہ مسترد ہونے کی صورت میں بل ابتدائی مرحلے میں ہی رک سکتا ہے۔
ادھراسرائیل نے غزہ جانے والے فلوٹیلا سے تعلق رکھنے والے دو غیر ملکی کارکنوں کو حراست کے بعد ملک بدر کر دیا ۔انسانی حقوق کی تنظیم عدالہ کے مطابق ہسپانوی نژاد فلسطینی کارکن سیف ابو کشیک اور برازیل سے تعلق رکھنے والے تھیاگو اویلا کورہا کیا جا رہا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کو امیگریشن حکام کے حوالے کیا جائے گا اور ملک بدری تک حراست میں رکھا جائے گا۔دونوں کارکنوں کی نمائندگی کرنے والی وکیل ہدیل ابو صالح نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ انہیں آئندہ چند روز میں ان کے آبائی ممالک بھیج دیا جائے گا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ دونوں کارکنوں کو تفتیش مکمل ہونے کے بعد ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے۔اسرائیل نے دونوں افراد کو پیشہ ور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کی قانونی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
علاوہ ازیںجنوبی لبنان میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری سے 24 افرادجاں بحق ہوگئے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے جنوبی لبنان پر فضا اور زمین سے کارروائیاں تیز کردیں، اسرائیل نے لبنان کے 9 دیہات خالی کرنے کی وارننگ کے بعد حملے کیے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے بھی قابض اسرائیلی فوجیوں پر جنوبی لبنان اور اسرائیل میں حملے کیے۔اس کے ساتھ ہی حزب اللہ نے ڈرون حملے سے بچنے کے لیے ٹینک سے چھلانگ لگاتے اور عمارت کے اندر بھاگتے اسرائیلی فوجیوں کی ویڈیو بھی جاری کردی۔
امریکی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کہ اسرائیلی فوج لبنان میں ہزاروں افراد کی خفیہ نگرانی کرتی ہے، لبنانی عوام کی سیل فونز، سی سی ٹی وی کیمروں، ڈرونز اور وائی فائی سے نگرانی کی جاتی ہے۔امریکی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کا آرٹیفیشل انٹلیجنس نظام لبنانی عوام کی روزمرہ سرگرمیوں کا تجزیہ کرتا ہے، اسرائیلی فوج اس تجزیے سے لبنانی عوام کو خطرہ قرار دے سکتی ہے۔

