جنگ کاخاتمہ،امریکی تجویزپر ایرانی جواب پاکستان کو موصول

تہران/اسلام آباد /واشنگٹن/دو حہ/ماسکو:ایران نے جنگ کے خاتمے کی امریکی تجویز پر اپنا جواب پاکستان کے ذریعے بھیج دیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکی تجویز پر اپنا جواب پاکستان کو بھجوا دیا ہے جو اس تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے،مجوزہ منصوبے کے مطابق اس مرحلے پر مذاکرات جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہوں گے۔

نئی جنگ بندی تجویزکے مطابق دونوں ممالک مرحلہ وار معاہدے کے ذریعے جنگ ختم کرنے، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے اور وسیع مذاکرات شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق مجوزہ معاہدہ ایک مفاہمتی یادداشت کی صورت میں تیار کیا جا رہا ہے جس کا مقصد خطے میں جاری بحران کو کم کرنا اور عالمی تجارتی راستوں کو دوبارہ محفوظ بنانا ہے۔رپورٹس کے مطابق امریکی منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ہے۔

پہلے مرحلے میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ دوسرے مرحلے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرکے جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی جبکہ تیسرے مرحلے میں 30 روزہ مذاکراتی دور شروع ہوگا جس میں بڑے سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت ہوگی۔

امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن نے ایران کے سامنے 14 نکاتی منصوبہ رکھا ہے جس کے تحت ایران کو کم از کم 12 سال تک یورینیم افزودگی روکنے اور جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کی ضمانت دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ ایران کو 60 فیصد افزودہ تقریباً 440 کلوگرام یورینیم بھی حوالے کرنا ہوگا۔

اس کے بدلے امریکا مرحلہ وار ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں نرم کرے گا، اربوں ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثے بحال کیے جائیں گے اور ایرانی بندرگاہوں پر نافذ امریکی بحری ناکہ بندی ختم کی جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق معاہدے پر دستخط کے 30 دن کے اندر دونوں ممالک آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کرنے پر بھی متفق ہوسکتے ہیں جس سے عالمی تیل سپلائی اور توانائی مارکیٹ میں استحکام آنے کی توقع ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ کامیاب ہوجاتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی میں نمایاں کمی آسکتی ہے اور عالمی معیشت پر پڑنے والے دبائو میں بھی کمی متوقع ہے۔

دوسری جانب امریکی حکام نے بتایا کہ وہ ایران کے باضابطہ جواب کے منتظر ہیں جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔

دریں اثناء وزیراعظم محمد شہباز شریف کو قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آلجاسم آلثانی نے ٹیلی فون کیا ۔دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم نے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور خطے میں جاری امن کی کوششوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کی گہرائی کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان کے امن اقدامات کے لیے قطر کی مسلسل اور ثابت قدم حمایت پر تعریف کی، دونوں رہنمائوں نے امن کی جاری کوششوں کی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے تمام فریقین کی طرف سے تعمیری روابط کی اہمیت پر زور دیا۔

وزیراعظم نے ریاست قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کو تہنیتی پیغام پہنچایا اور کہا کہ وہ امیر قطر کے آئندہ دورہ پاکستان کے منتظر ہیں، امیر قطر کے دورے سے پاکستان اور قطر کی پائیدار شراکت داری کو مزید مضبوط اور وسعت دینے میں مدد ملے گی۔

علاوہ ازیں قطری وزیرخارجہ کا ایرانی وزیرخارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں قطری وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کیلئے جاری ثالثی کوششوں پر فریقین کومثبت ردِعمل دینا چاہیے۔

قطری وزیر خارجہ نے کہا کہ سمندری جہازرانی کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے، آبنائے ہرمزکودبائو ڈالنے کے آلے کے طور پر استعمال کرنے سے بحران شدت اختیار کرے گا۔ رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور خاص ایلچی وٹکوف کی میامی میں قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ملاقات ہوئی۔

امریکی میڈیا کے مطابق ملاقات ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ڈیل تک پہنچنے کی کوششوں کیلئے کی گئی۔قبل ازیں قطر کے وزیراعظم نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کرکے مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر گفتگو کی۔اس موقع پر شیخ محمد بن عبدالرحمن نے تمام فریقین سے مذاکراتی عمل میں شامل ہونے پر زور دیا۔

قبل ازیں ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی مسلح افواج کی متحدہ کمانڈ کے سربراہ علی عبداللہی نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی۔ملاقات میں سپریم لیڈر نے فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے اور دشمنوں کے خلاف سخت موقف اپنانے کے لیے نئی رہنما ہدایات جاری کیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر علی عبداللہی نے ملاقات کے دوران سپریم لیڈر کو ملک کی مسلح افواج کی تیاریوں سے متعلق بریفنگ دی تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ ملاقات کب ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق علی عبداللہی نے کہا کہ مسلح افواج امریکی اور صہیونی دشمنوں کی کسی بھی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر دشمن کی جانب سے کوئی غلطی کی گئی تو ایران کا جواب فوری، سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔

ادھر ایران کی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل اکرمی نیا نے خبردار کیا کہ جو بھی ممالک امریکا کی ایران پر عائد پابندیوں کو نافذ کریں گے، انہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق بریگیڈیئر جنرل اکرمی نیا نے کہا کہ جنگ میں دشمن اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہوا اور ایرانی نظام کے سیاسی توازن کو بھی نقصان نہیں پہنچا بلکہ ملک کے اندر اتحاد اور یکجہتی میں اضافہ ہوا ہے۔

آئی آر جی سی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر نے بتایاکہ پاسدارانِ انقلاب کے میزائل اور ڈرون خطے میں امریکی اہداف اور جارح دشمن کے جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہیں۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہاہے کہ روس ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو منتقل کرکے محفوظ رکھنے کیلئے تیار ہے۔میڈیا سے گفتگو میں پیوٹن نے کہا کہ روس نے 2015 ء میں بھی ایران سے افزودہ یورینیم منتقل کیا تھا اور وہ اس تجربے کو دوبارہ دہرانے کے لیے تیار ہے۔روسی صدر نے کہا کہ ماسکو امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ رابطے میں رہے گا اور امید ہے کہ یہ تنازع جلد ختم ہو جائے گا۔

دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز، ایران کے میزائل پروگرام یا تہران کی پالیسیوں پر بیان بازی آئی اے ای اے کا کام نہیں۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے (انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی)کا مینڈیٹ صرف نگرانی اور تصدیق ہے۔

ادھر ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ایران سرنڈر کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران اپنے قومی مفادات اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہے اور اس موقف میں کوئی نرمی نہیں آئے گی۔

خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے جنگ کے باعث ہونے والے نقصانات کی بحالی سے متعلق ایک اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کو کمزوری یا ہتھیار ڈالنے کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا مقصد اپنے عوام کے حقوق کو حاصل کرنا اور قومی مفادات کا دفاع پوری طاقت اور وقار کے ساتھ کرنا ہے۔