حج پیکیج خطے کے دیگر ممالک سے اب بھی کم ہے،وزیر مذہبی امور

لاہور/ریاض:وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان نے عالمی سطح پر امن کے لیے اہم کردار ادا کیا اور جنگ کے خدشات کو روکنے میں کامیابی حاصل کی،پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کر سکتا ہے،وزیراعظم کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں اور امید ہے کہ خطے میں مکمل امن قائم ہوگا۔

ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کے بعد تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں، دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ ہر مشکل گھڑی میں کھڑے رہیں گے، یہ معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کر سکتا ہے۔وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہاکہ پاکستان سے رواں سال حج کے لیے ایک لاکھ 89 ہزار 210 عازمین سعودی عرب جائیں گے، جبکہ اب تک تقریباً 25 ہزار پاکستانی عازمین مدینہ منورہ پہنچ چکے ہیں۔

حج فلائٹ آپریشن 21 مئی تک مکمل ہو جائے گا،سعودی حکومت نے رواں سال روٹ ٹو مکہ پراجیکٹ کو لاہور تک توسیع دے دی ہے جس کے تحت حجاج کو پاکستان ہی میں امیگریشن مکمل کرنے کی سہولت حاصل ہوگئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پبلک سیکٹر میں 2 پیکجز متعارف کروائے گئے ہیں، شارٹ حج پیکیج تقریباً20 سے 25 دن، لاگت تقریبا 12 لاکھ روپے، لانگ حج پیکیج تقریباً 35 سے 40 دن کا ہے اوراس کی لاگت ساڑھے 11 لاکھ روپے ہے ۔

اگرچہ اخراجات بڑھ گئے ہیں تاہم پاکستان کا حج پیکیج خطے میں بھارت اور بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک کے مقابلے میں اب بھی کم ہے۔سردار محمد یوسف نے واضح کیا کہ ن لیگ حکومت کے دور میں فری حج کا تصور مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے،جو بھی حج پر جائے گا وہ ادائیگی کے ساتھ جائے گا البتہ جو افراد حجاج کی خدمت کے لیے جاتے ہیں وہ رضاکار اور سرکاری افسران ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً1700 سرکاری افسران اور رضاکار سعودی عرب جا رہے ہیں جبکہ سعودی عرب میں موجود پاکستانی رضاکار خصوصی اجازت کے تحت حج کے پانچ دنوں میں خدمت انجام دیتے ہیں۔

ادھر سعودی عرب کی وزارتِ صحت اور پبلک ہیلتھ اتھارٹی نے بیماریوں کی ایک فہرست جاری کی ہے جو جسمانی معذوری کے باعث عازمین کو حج اجازت نامہ جاری کرنے سے روک سکتی ہیں۔سعودی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ حج کی ادائیگی کیلئے جسمانی صحت کا بحال ہونا اہم ہے،ایسی بیماریاں جن کی وجہ سے جسمانی صحت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

ان میں گردوں کا فیل ہونا اور جس کے لئے ڈائیلاسز کی ضرورت ہوتی ہے، ہارٹ فیل، جگر کا سروسس، شدید دماغی امراض، بہت زیادہ عمراورڈیمنشیا کے علاوہ حاملہ خواتین جن کی زچگی میں آخری تین ماہ میں باقی ہوں شامل ہیں۔وزارتِ صحت نے زور دیا ہے کہ عازمین حج صحت کی ضروریات کو پورا کریں جو انہیں آسانی اور آرام سے مناسک ادا کرنے کے قابل بنائے۔

حج 1447ھ کے سیزن کی تیاریوں کے سلسلے میں سعودی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پاسپورٹس (الجوازات)نے بین الاقوامی بندرگاہوں (فضائی، زمینی اور بحری)پر متحرک کائونٹر(موبائل کائونٹر)سروس فعال کر دی ہے۔ اس کا مقصد جدید تکنیکی حل کے ذریعے اللہ کے مہمانوں کی آمد کے طریقہ کار کو تیز کرنا ہے تاکہ کارکردگی میں بہتری اور سیکورٹی و بھروسے کے معیار کو بلند کیا جا سکے۔

یہ متحرک کائونٹرجدید تکنیکی نظام پر مبنی ہے جو پاسپورٹ کے طریقہ کار کو تیز رفتاری اور لچک کے ساتھ مکمل کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس سے انتظار کے وقت میں کمی اور بندرگاہوں پر پہنچنے کے لمحے سے ہی حجاج کے تجربے کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔