یہ چند ہفتے پرانی بات ہے، ابھی امریکا نے حملہ نہیں کیا تھا۔ ہم ایک دوست کے گھر بیٹھے تھے۔ سات آٹھ لوگ تھے۔ سیاست پر بات شروع ہوئی۔ ایک صاحب نے کہا، یار آج کل اسمبلی میں کیا ہو رہا ہے، کسی کو خبر ہی نہیں۔ دوسرے نے جواب دیا، اسمبلی میں کچھ ہوتا تو خبر ہوتی۔ تیسرے صاحب نے کہا کہ اصل خبر آج کل اخبار میں ہوتی ہے اور نہ نیوز چینلز پر۔ خبر بہرحال وہاں سے رخصت ہو چکی۔ یہ گفتگو سننے والے چوتھے دوست نے یکایک سامنے والی جیب سے اپنا موبائل فون نکالا اور کہا، بھائی اصل اپوزیشن تو یہ ہے۔ یوٹیوب دیکھو، ٹوئٹر پر جاؤ، فیس بک کھولو۔ اس نے ایک یوٹیوبر کا نیا وی لاگ دکھایا اور کہنے لگا کہ اسے سن لیں، اندازہ ہوجائے گا کہ پاکستان کی اصل اپوزیشن کہاں ہے؟ ہم نے ولاگ تو نہیں سنا، مگر بیٹھک میں خاموشی چھا گئی۔ سب کو اندازہ تھا کہ بات غلط نہیں کہی گئی۔
دراصل یہ سوال ہمارے ہاں پچھلے چند برسوں میں بہت گمبھیر ہو چکا ہے۔ پاکستان میں اپوزیشن کون ہے؟ تحریک انصاف نے 2024ء کے الیکشن میں دعوی کیا کہ ان کا مینڈیٹ چھینا گیا۔ ان کی جماعت کو پہلے ان کا انتخابی نشان نہ ملا، پھر ریزرو سیٹوں کا معاملہ لٹکا۔ آج عملاً وہ پارلیمنٹ میں ہیں بھی اور نہیں بھی۔ عمران خان جیل میں ہیں، ان کی پارٹی بکھری ہوئی ہے اور باہر جو تحریک چلی وہ پچھلے سال سوا سال سے سنبھل نہیں پائی۔ پی پی پی حکومت کی حلیف ہے، جے یو آئی اپنی جگہ ہے مگر اس کی پہنچ محدود ہے۔ ایم کیو ایم کراچی تک سمٹی ہوئی ہے۔ جماعت اسلامی اپنی سی کوشش کر رہی ہے کہ عوامی سیاست کی جائے، سخت تنقیدی بیانات ہوں، احتجاج بھی، مگر جماعت اسلامی کی اپنی لمٹس ہیں اور بدقسمتی سے اس وقت یہ خاصی محدود ہوچکی ہے۔
یاد رہے کہ جب روایتی سیاسی اپوزیشن غیر موثر ہو جاتی ہے تو ایک خلا پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان میں یہ خلا سوشل میڈیا نے پر کیا ہے، آپ اسے سوشل میڈیائی اپوزیشن کہہ لیں۔ یوٹیوبرز، وی لاگرز، ٹک ٹاکرز، فیس بکی لکھاری، واٹس ایپ پوسٹوں والے، ٹوئٹر ایکٹیوسٹس۔ یہ سب مل کر آج وہ کام کر رہے ہیں جو پہلے اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں کرتی تھیں۔ حکومت کی نااہلی کی نشاندہی، مہنگائی پر تنقید، بجلی بلوں کا شور، سیاسی حکومت پر تنقید، غیر سویلین قیادت پر ڈھکی چھپی گفتگو وغیرہ۔ یہ سب اب ٹویٹس، ریلز، یوٹیوب ویڈیوز، اور واٹس ایپ گروپس میں ہو رہا ہے۔
پاکستان کی آبادی کا 64فیصد 30سال سے کم عمر کا ہے اور یہ نسل ٹی وی نہیں دیکھتی۔ یہ موبائل پر ہے اور موبائل پر اسے وہ کچھ ملتا ہے جو ٹی وی پر نہیں مل سکتا۔ یوٹیوب اور ٹوئٹر پر یہ بندشیں ابھی تک اس درجے کی نہیں ہیں جہاں سب کچھ رک جائے۔ یوٹیوب چینلز پر بیٹھا ہوا ایک شخص جس کے 30اکھ سبسکرائبرز ہیں، وہ عملاً ایک نیوز چینل ہے، اس پر وہ پابندیاں نہیں ہیں جو نجی نیوز چینلز پر ہوتی ہیں۔ وہ پاکستان سے باہر بیٹھا ہوا بھی ہو سکتا ہے۔ وہ اپنے نام سے بھی ہو سکتا ہے اور بے نام بھی۔ وہ رات دس بجے ایک ویڈیو اپلوڈ کرتا ہے اور صبح تک لاکھوں لوگ دیکھ چکے ہوتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سوشل میڈیا اپوزیشن کی کوئی پارٹی نہیں، کوئی قائد نہیں، کوئی منشور نہیں، کوئی الیکشن لڑنے کی نیت نہیں۔ اس کی طاقت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ 2024ء کے الیکشن میں جو حیران کن نتائج آئے، اس میں سب سے بڑا کردار اسی سوشل میڈیا اپوزیشن کا تھا۔ روایتی میڈیا پر تحریک انصاف غیر موجود تھی۔ ٹی وی چینلز پر ان کا ذکر تک نہیں تھا مگر موبائل پر ان کی مہم چل رہی تھی۔ ایک ایک حلقے کے امیدوار کی تعارفی ویڈیو، اس کے ساتھ واٹس ایپ گروپس، ٹک ٹاک پر شارٹ کلپس، یہ سب جمع ہو کر ایک انتخابی مہم بنا رہے تھے جو ٹی وی پر تھی، نہ اخبار میں۔
ہمارے ہاں اس رجحان کے کئی پہلو ہیں۔ پہلا، جو جتنا زیادہ شدت پسند ہو گا، اسے اتنے زیادہ سبسکرائبرز ملیں گے۔ جو جتنا بڑا سازشی نظریہ پیش کرے گا، اس کی ویڈیو اتنی وائرل ہو گی۔ الگورتھم کسی سافٹ سی، شائستہ سی دلیل کو انعام نہیں دیتا، وہ جذباتی عدم توازن کو انعام دیتا ہے۔ اسی لیے ہمارے یوٹیوب اسپیس میں ایسے نام نہاد یوٹیوب چینلز ہیں جن کے چار ملین سے زائد سبسکرائبرز ہیں اور وہ ہر روز نئی سنسنی بیچتے ہیں۔ ایک خوبصورت فقرہ کسی نے کہا تھا، پاکستان میں اصل سیاسی گفتگو اب دو جگہ ہوتی ہے: ایک راولپنڈی میں اور ایک یوٹیوب پر۔ اسمبلی نہ پہلی جگہ ہے نہ دوسری جگہ۔
دوسرا پہلو جو خاصا منفی ہے، وہ یہ کہ سوشل میڈیا اپوزیشن کا احتساب نہیں ہوتا۔ ایک سیاسی جماعت کے رہنما اگر کوئی غلط بات کریں تو عدالتیں ہیں، انتخابی قوانین ہیں، میڈیا ریگولیٹر ہے مگر ایک یوٹیوبر؟ وہ کسی کے خلاف کچھ بھی کہہ سکتا ہے، کوئی بھی دعوی کر سکتا ہے اور اگلے دن نئی ویڈیو بنا کر پرانی بھول جاتا ہے۔ اس کے ناظرین بھی بھول جاتے ہیں کیونکہ الگورتھم اگلی سنسنی لے آتا ہے۔ صحافت کی پرانی روایت میں ایک قاعدہ تھا، تصدیق کے بغیر کچھ شائع نہیں ہوتا۔ مجھے یاد ہے کہ میں جنگ اخبار کے نیوز روم میں جونیئر سب ایڈیٹر تھا۔ سٹی ڈیسک پر کام کر رہا تھا۔ کسی مجرم کی پھانسی کی خبر آئی کہ اسے آدھی رات کے بعد پھانسی دے دی جائے گی۔ سٹی ایڈیٹر نے سوچا کہ صبح تو پھانسی ہوچکی ہوگی، اس نے سرخی جما دی کہ فلاں مجرم کو پھانسی دے دی گئی۔ اگلے روز پتہ چلا کہ پھانسی کی سزا پر عمل درآمد سے کچھ ہی دیر قبل فریقین میں صلح ہوگئی اور مقتول فیملی کی درخواست پر پھانسی عمر قید میں بدل دی گئی۔ تاہم اخبار میں خبر غلط چھپ گئی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ پورے سٹی ڈیسک کی ٹیم کو ایڈیٹر صاحب نے بلا کر سرزنش کی۔ ایک فقرہ مجھے یاد ہے کہ انہوں نے کہا، ہم جنتری نہیں بیچتے کہ مستقبل کی پیش گوئی کریں۔ جب پھانسی ہو جانے کی خبر آتی، تب آپ لوگ لگاتے، خود سے فرض کیوں کر لیا کہ صبح تک پھانسی ہو چکی ہوگی۔ ڈانٹ پڑنے کے بعد سب منہ لٹکائے واپس آئے۔ میرے جیسے نوجوان صحافی کو مگر ایک سبق مل چکا تھا کہ تصدیق کے بغیر کچھ نہ چھاپا جائے۔ آج مگر یوٹیوب اسپیس بلکہ ایکس اور فیس بک تک میں میں یہ قاعدہ ختم ہو گیا ہے۔ وہاں پہلی بار خبر دینا اصل بات ہے۔ تصدیق بعد میں ہوتی رہے گی، تردید ہوگئی تو فٹ سے پوسٹ ڈیلیٹ کر دی۔
تیسرا پہلوجو سب سے اہم اور ایک حساب سے خطرناک بھی ہے کہ یہ سوشل میڈیا اپوزیشن عوام کی نفسیات بدل کر سکتی ہے۔ ایک حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کر لے گی مگر اس پورے عرصے میں عوام کے ذہن میں یہ بات بیٹھی رہے گی کہ یہ حکومت ناجائز ہے، جعلی ہے، چوری کی ہوئی ہے۔ یہ تاثر ختم نہیں ہوتا۔ یہ پتھر پر لکیر بن جاتا ہے۔
ہمارے ہاں پچھلے دو برسوں میں جو چیز دیکھی گئی وہ یہ کہ حکومت کے پاس قانون ہے، اختیار ہے، وسائل ہیں مگر بیانیہ کمزور ہے۔ یہ جبکہ ثابت ہو چکا کہ جس کے پاس بیانیہ ہو، وہ آخر میں جیتتا ہے۔ بیانیہ سوشل میڈیا پر ہے اور اب ہماری روایتی اپوزیشن بھی روایتی میڈیا ذرائع کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی۔ اس پورے منظرنامے کا المیہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ غیر متعلق ہوتی جا رہی ہے۔ قومی اسمبلی کو دیکھیں تو یہ ایک خاموش ادارہ ہے۔ وہاں سے خبریں نہیں آتیں۔ وہاں کی گئی تقریریں کسی کو یاد نہیں۔ قوانین بغیر بحث کے منظور ہوتے ہیں۔ آئینی ترامیم چند گھنٹوں میں پاس ہو جاتی ہیں۔ اپوزیشن بینچ پر بیٹھے لوگ جانتے ہیں کہ ان کا کردار محض موجودگی کا ہے، رائے دینے کا نہیں۔ ایوان کے اندر جو بولیں وہ کسی کو نہیں پہنچتا۔ ایوان کے باہر ایک ٹویٹ زیادہ اثر رکھتی ہے۔
یہ کہتے ہوئے شرمندگی ہو رہی ہے مگر میں خود بھی ان لوگوں میں شامل ہوچکا جو ٹی وی کم دیکھتے ہیں، اخبار جن سے چھوٹ گیا ہے۔ زندگی بھر ناشتے کی ٹیبل پر اخبار پڑھا، اخبارات میں میگزین ایڈیٹر رہا تو کئی اخباروں کی فائل گھر آتی تھی۔ اب سب کچھ غیر متعلق، غیر ضروری لگتا ہے۔ خبر کے لیے موبائل یاترا پر نکلتا ہوں۔ میری نسل کے لوگ اس نئی دنیا میں کچھ عجیب محسوس کرتے ہیں۔ جیسے ہم اس اسپیس شٹل میں بیٹھے ہوں جو پرانی دنیا سے نکل چکا مگر نئی دنیا تک نہیں پہنچا۔ ہمارے ہاں ایک صاحب نے ایک بار کہا تھا کہ پہلے ہم اخبار پڑھتے تھے اور ایک مکمل تصویر بنتی تھی۔ اب ہم دن بھر ٹوئٹس پڑھتے ہیں اور کوئی تصویر نہیں بنتی، بس ٹکڑے ہیں، ٹکڑے، ٹکڑے۔
سوال مگر وہی ہے، کیا یہ تبدیلی جمہوریت کے لیے اچھی ہے یا بری؟ اس میں ایک اچھا پہلو تو یہ ہے کہ عوام کی ترجمانی ہو جاتی ہے مگر سب سے بری بات یہ ہے کہ اس کا احتساب نہیں۔ حقائق کی تصدیق کی روایت نہیں ہے۔ یہ سوشل میڈیائی دنیا سراب ہے اور حقیقت بھی۔ یہ ایک ایسی اپوزیشن ہے جو دکھائی نہیں دیتی مگر محسوس ہوتی ہے جو الیکشن نہیں جیتتی مگر حکومتوں کی راتیں خراب کرتی ہے۔ سوچتا ہوں، ایک دن وہ بھی آئے گا جب کوئی نوجوان صحافی اپنی کتاب میں لکھے گا: پاکستان کی اکیسویں صدی کی سیاست پارلیمنٹ میں نہیں، اسکرین پر لکھی گئی اور یہ جملہ بالکل درست ہوگا۔ آپ بھی سوچیے گا۔

